انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

بھارت کی جمہوریت کا اصل چہرہ اور تضادات

محمد محسن اقبال

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار ہے۔ وسیع انتخابی نظام، مضبوط آئینی ڈھانچے اور مختلف مذاہب و تہذیبوں کے امتزاج کو اپنی جمہوری عظمت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض انتخابات کا انعقاد کسی ملک کو حقیقی جمہوریت بنا دیتا ہے؟ جمہوریت کی اصل روح عوام کے حقِ حکمرانی، قانون کی بالادستی، آزادیٔ اظہار، اقلیتوں کے تحفظ اور اداروں کی غیر جانب داری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ان بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ ہونے لگے تو بڑے بڑے جمہوری دعوے بھی اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ بھارت کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اسی تناظر میں کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دورِ حکومت میں ہندوتوا کے نظریے نے بھارتی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس نظریے کے تحت ہندو شناخت کو قومی تشخص کا بنیادی حوالہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریتی مذہب کی موجودگی یا اس کی ثقافتی روایات پر عمل کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب مذہبی شناخت کو قومیت اور حب الوطنی کا پیمانہ بنایا جانے لگے تو معاشرے میں تفریق کی بنیاد پڑتی ہے۔ بھارت جیسے کثیرالمذہبی ملک میں مسلمان، مسیحی، سکھ اور دیگر اقلیتیں بھی اسی وطن کی شہری ہیں اور انہیں مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ کسی شہری کی حب الوطنی کا فیصلہ اس کے مذہب سے کرنا نہ صرف آئینی مساوات کے منافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت کے آئینی سیکولرازم کو بھی اسی پس منظر میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون، مسلمانوں کی املاک کی مسماری کے واقعات اور نام نہاد ’’بلڈوزر جسٹس‘‘ نے قانون کے یکساں اطلاق کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔ منی پور میں نسلی اور مذہبی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں، نقل مکانی اور عبادت گاہوں کی تباہی اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ جب نفرت اور تعصب کو فروغ ملے تو معاشرتی امن کس قدر تیزی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات بھی اس تشویش کو بڑھاتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری محض امن و امان برقرار رکھنا نہیں، بلکہ ہر شہری کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال بھارت کے جمہوری دعووں کا ایک اور اہم امتحان ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعے خطے کی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی، جس کے بعد سخت پابندیاں اور مواصلاتی ذرائع کی بندش بھی دیکھنے میں آئی۔ بھارتی حکومت نے ان اقدامات کو قومی یکجہتی، سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیا، لیکن کسی خطے پر انتظامی اختیار قائم کر لینا وہاں کے عوام کے سیاسی احساسات اور خواہشات کا خاتمہ نہیں کرتا۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں اظہارِ رائے، سیاسی شرکت اور نمائندہ حکومت کے مناسب مواقع میسر ہوں۔ اختلافِ رائے کو دبانے سے بظاہر خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن دلوں میں موجود بے چینی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت کے انتخابی نظام اور جمہوری اداروں کے بارے میں بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ووٹر اندراج، انتخابی انتظامات اور حزبِ اختلاف کے ساتھ حکومتی رویے پر ہونے والے اعتراضات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ کسی الزام کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر مسترد کرنا بھی درست نہیں اور بغیر ثبوت اسے حقیقت تسلیم کرنا بھی مناسب نہیں۔ جمہوریت میں انتخابی کامیابی حکومت کو اقتدار کا حق دیتی ہے، مگر اسے احتساب سے بالاتر نہیں کرتی۔ ایک مضبوط جمہوری نظام وہی ہوتا ہے جس میں حزبِ اختلاف آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کر سکے، ادارے دباؤ سے محفوظ رہیں اور ہر انتخابی عمل شفافیت کے تقاضوں پر پورا اترے۔
بین الاقوامی اداروں کی بعض رپورٹوں نے بھی بھارت کی جمہوری صورتِ حال پر بحث کو تقویت دی ہے۔ وی ڈیم نے بھارت کو انتخابی آمریت کے زمرے میں شمار کیا، جب کہ فریڈم ہاؤس نے سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان اداروں کے جائزوں سے اختلاف ممکن ہے، لیکن ان میں اٹھائے گئے بنیادی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات اسی وقت جمہوریت کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں جب شہری آزادیوں کا تحفظ ہو، ذرائع ابلاغ آزادانہ کام کر سکیں اور سیاسی مخالفین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔
معاشی میدان میں بھارت نے یقیناً قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔ ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ڈیجیٹل خدمات میں پیش رفت نے اسے عالمی معیشت میں ایک اہم مقام دلایا ہے۔ تاہم، معاشی ترقی کے اعداد و شمار ہمیشہ عوام کی حقیقی خوش حالی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ نوجوانوں کی بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم اب بھی اہم مسائل ہیں۔ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اور بڑے کاروباری گروہوں کے اثر و رسوخ پر اٹھنے والے سوالات بھی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ترقی اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب اس کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں اور معاشرے کے کمزور طبقات بھی بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔
بھارت کی عالمی ساکھ کو بیرونِ ملک سکھ کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے الزامات سے بھی آزمائش کا سامنا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ میں بھارتی روابط کے حامل عناصر سے متعلق مبینہ سازشوں کی تحقیقات نے دوسرے ممالک کی خودمختاری اور سرحد پار سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کیے ہیں۔ ان معاملات کا فیصلہ شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوں گے۔ ہر ریاست کو اپنی خودمختاری عزیز ہوتی ہے، لیکن اس اصول کا تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کی خودمختاری کا احترام کرے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھی قومی مفادات اور عالمی اصولوں کے درمیان توازن کا سوال اہم ہے۔ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات، فرانس اور اسرائیل سے دفاعی تعاون اور روس سے توانائی و عسکری سازوسامان کا حصول اس کی تزویراتی پالیسی کے مختلف پہلو ہیں۔ یوکرین جنگ کے دوران روسی تیل کی خریداری اور اقوامِ متحدہ کی بعض قراردادوں پر غیر جانب دار رہنے کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عالمی سطح پر اصولوں کی حمایت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب ان پر مختلف حالات میں یکساں توجہ دی جائے۔
فلسطین کا معاملہ بھی بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم اخلاقی امتحان ہے۔ بھارت تاریخی طور پر فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن غزہ میں انسانی المیے کے دوران اسرائیل کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعاون نے اس پالیسی کے عملی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ قومی مفادات اور دفاعی شراکت داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری بھی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ اصولوں کی حقیقی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب ان پر عمل کرنا سیاسی یا تزویراتی اعتبار سے مشکل ہو۔
بھارت کی عالمی طاقت بننے کی خواہش قابلِ فہم ہے۔ اس کی آبادی، معاشی استعداد، تکنیکی صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت اسے عالمی سیاست میں ایک نمایاں مقام دلاتی ہیں۔ لیکن عالمی اثر و رسوخ اور اخلاقی برتری دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی ملک کی اہمیت اسے تنقید سے بالاتر نہیں کر دیتی، اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو عوام کے خلاف دشمنی قرار دینا بھی مناسب نہیں۔
بھارت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اکثریتی سیاست اور ایک متنوع معاشرے کے تقاضوں میں توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ مذہبی قوم پرستی انتخابات میں کامیابی کا ذریعہ تو بن سکتی ہے، لیکن قومی یکجہتی، معاشی انصاف اور آئینی بالادستی کا متبادل نہیں۔ اسی طرح، خارجہ پالیسی میں وقتی مفادات کا تحفظ ضروری ہو سکتا ہے، مگر عالمی اعتبار مستقل اصولوں، بین الاقوامی قانون اور دوسری ریاستوں کے حقوق کے احترام سے پیدا ہوتا ہے۔
بالآخر، بھارت کی جمہوری عظمت کا فیصلہ اس کے انتخابی نتائج، معاشی ترقی یا عسکری قوت سے نہیں بلکہ اس امر سے ہوگا کہ وہاں اقلیتوں کو کس قدر تحفظ حاصل ہے، شہری آزادیوں کا احترام کس حد تک کیا جاتا ہے اور طاقت ور افراد و ادارے قانون کے سامنے کتنے جواب دہ ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن اکثریت کی حکمرانی میں ضرور ہے، لیکن اس کی حقیقی روح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں بھی مضمر ہے۔ جو ملک عالمی قیادت کا خواہاں ہو، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی طاقت کے ساتھ انصاف، اس کی ترقی کے ساتھ مساوات اور اس کی سیاست کے ساتھ رواداری بھی موجود ہے۔ تاریخ میں قوموں کی عظمت بلند بانگ دعووں سے نہیں بلکہ کردار، انصاف اور اصولوں کی پاسداری سے قائم رہتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button