
لاہور:(میاں حبیب)کچھ شخصیات اپنی زندگی میں صرف ایک فرد کا کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ اپنے عہد کی ایک پوری داستان اپنے ساتھ لیے پھرتی ہیں۔ ان کی زندگی میں ایک زمانے کی سیاسی کشمکش بھی ہوتی ہے، نظریاتی جدوجہد بھی، تنظیمی سفر بھی، دوستیوں کی خوشبو بھی، اختلافات کا حسن بھی اور انسانوں کے ساتھ محبت و تعلق کی وہ داستان بھی جو ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
’’امیرالعظیم۔۔۔ چراغِ راہ‘‘ بھی ایسی ہی ایک شخصیت کی زندگی، فکر، جدوجہد اور انسانی تعلقات کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر طارق سلیم نے امیرالعظیم کی شخصیت کو صرف ایک سیاسی یا جماعتی رہنما کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ان کے مختلف پہلوؤں کو ایک وسیع کینوس پر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل رہے، طویل عرصے تک جماعت کے سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داری ادا کرتے رہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ ان کی وفات پر نمازِ جنازہ میں سیاسی، مذہبی، صحافتی، تعلیمی، کاروباری اور سماجی حلقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس وسیع تعلقاتی دائرے کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر طارق سلیم کی اس کتاب کا عنوان ’’چراغِ راہ‘‘ اپنے اندر ایک پوری معنویت رکھتا ہے۔ چراغ خود راستہ نہیں بنتا، لیکن راستے کو روشن ضرور کرتا ہے۔ وہ مسافر کو سمت کا احساس دیتا ہے۔ امیرالعظیم کی زندگی کو بھی اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں یہی عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی جماعت، اپنے ساتھیوں، صحافیوں، طلبہ، دوستوں اور عام لوگوں کے ساتھ جس انداز میں تعلق رکھتے تھے، اس میں رہنمائی کا ایک پہلو موجود تھا۔
اس کتاب کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ مصنف نے امیرالعظیم کو محض عہدوں اور مناصب کے ذریعے سمجھانے کے بجائے ان کی شخصیت کے انسانی پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ کسی شخصیت کی اصل پہچان صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس نے کتنے عہدے سنبھالے بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اس نے کتنے دل جیتے، کتنے لوگوں کے کام آیا، اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا اور اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے دوسرے انسان کے احترام کو کس حد تک برقرار رکھا۔
امیرالعظیم کے بارے میں مختلف صحافیوں، اہلِ قلم اور سیاسی و سماجی شخصیات کی یادیں اس کتاب کے تناظر میں ایک اہم دستاویزی حیثیت اختیار کرتی ہیں۔ ان یادوں میں ایک ایسا امیرالعظیم سامنے آتا ہے جو گفتگو پسند تھا، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا تھا، مخالف نقطۂ نظر کو سنتا تھا اور اپنے مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے مختلف نظریات رکھنے والے لوگ بھی ان کے ساتھ ذاتی تعلق قائم رکھنے میں خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتے تھے۔
یہ پہلو موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سیاست میں اختلاف ناگزیر ہے مگر اختلاف کے ساتھ احترام، برداشت اور مکالمہ برقرار رکھنا ایک الگ وصف ہے۔ امیرالعظیم کی شخصیت کے حوالے سے سامنے آنے والی یادوں میں یہ وصف بار بار دکھائی دیتا ہے۔
اس کتاب کا ایک اور اہم پہلو امیرالعظیم اور صحافت کے تعلق کو سمجھنا ہے۔ وہ طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات رہے اور صحافتی حلقوں سے ان کے روابط وسیع تھے۔ ان کی گفتگو میں تنظیمی مؤقف کی وضاحت کے ساتھ ساتھ صحافیوں سے ذاتی تعلق کا عنصر بھی موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں لکھنے والوں میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ ایسے صحافی اور دانشور بھی شامل نظر آتے ہیں جو سیاسی طور پر ان سے مختلف نقطۂ نظر رکھتے تھے۔
یہی چیز ’’چراغِ راہ‘‘ کو محض ایک جماعتی سوانح بننے سے آگے لے جاتی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی شخصیت کا مطالعہ بن جاتی ہے جس کے تعلقات ایک مخصوص تنظیمی دائرے تک محدود نہیں تھے۔ڈاکٹر طارق سلیم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے امیرالعظیم کی زندگی کو ایک مربوط فکری تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ خود بھی ایک طویل عرصے سے دینی، سماجی اور تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں اور امیرالعظیم کے ساتھ جماعتی و فکری سفر کے مختلف مراحل میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ موجودہ دستیاب مواد میں بھی ڈاکٹر طارق سلیم کو جماعت اسلامی کے پنجاب شمالی کے امیر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
اسی قربت نے شاید انہیں امیرالعظیم کے کردار کے ان پہلوؤں تک رسائی دی جنہیں محض باہر سے دیکھنے والا شخص پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔ تاہم کتاب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ ذاتی قربت کو محض عقیدت کے اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک یادداشت، دستاویز اور فکری مطالعے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
امیرالعظیم کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی تنظیمی تربیت اور طلبہ سیاست سے وابستگی بھی تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں ان کا کردار ان کی شخصیت کی تشکیل کے اہم مراحل میں شمار ہوتا ہے۔ بعد میں جماعت اسلامی کی مرکزی ذمہ داریوں تک ان کا سفر دراصل اسی طویل تنظیمی تربیت کا تسلسل تھا۔ اس پہلو سے یہ کتاب نوجوانوں، طلبہ اور تنظیمی زندگی کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بھی قابلِ توجہ بن جاتی ہے۔
اسی طرح کتاب میں امیرالعظیم کی بیماری اور آخری دورِ زندگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ طویل بیماری کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے وابستگی اور معمولاتِ زندگی کو جاری رکھنے کی کوشش ان کے کردار کا ایک الگ پہلو سامنے لاتی ہے۔ ان کی وفات جولائی 2026ء میں ہوئی اور ان کے جنازے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت نے ان کے وسیع سماجی روابط کو نمایاں کیا۔
میرے نزدیک ’’امیرالعظیم۔۔۔ چراغِ راہ‘‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک فرد کی زندگی کو اس کے عہد کے ساتھ جوڑتی ہے۔ امیرالعظیم کے ذریعے ہم پاکستان کی طلبہ سیاست، جماعتی تنظیم، صحافت، نظریاتی تحریکوں، سیاسی مکالمے اور سماجی تعلقات کے کئی پہلوؤں کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو جماعت اسلامی کی تاریخ، اس کی تنظیمی روایت، اس سے وابستہ شخصیات اور امیرالعظیم کے طویل سیاسی و تنظیمی سفر کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان، سابق کارکنان، اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہنے والے افراد، صحافی، محققین، طلبہ اور سیاسی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قارئین اس کتاب میں ایک ایسے شخص کی زندگی کے کئی گوشے دیکھ سکتے ہیں جو کئی دہائیوں تک ملکی سیاسی و تنظیمی منظرنامے کا حصہ رہا۔
ڈاکٹر طارق سلیم نے اس کتاب کے ذریعے صرف ایک شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا بلکہ ایک عہد کی یادوں کو محفوظ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہی کسی سوانحی کتاب کی اصل کامیابی ہے کہ شخصیت کتاب کے صفحات سے نکل کر اپنے زمانے کے ایک زندہ کردار کے طور پر سامنے آئے۔
’’امیرالعظیم۔۔۔ چراغِ راہ‘‘ اسی اعتبار سے ایک قابلِ توجہ کتاب ہے۔ یہ امیرالعظیم کے چاہنے والوں کے لیے یادگار بھی ہے، جماعت اسلامی کے کارکنوں اور وابستگان کے لیے ایک اہم دستاویز بھی، اور سیاسی و سماجی تاریخ کے طالب علموں کے لیے ایک مفید ماخذ بھی۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے ایک ایسی شخصیت کو قلم کے ذریعے محفوظ کیا ہے جس کے بارے میں مختلف حلقوں کے لوگوں کی یادیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امیرالعظیم کی پہچان صرف ان کے منصب سے نہیں بلکہ ان کے انسانی تعلقات، خوش اخلاقی، مکالمے، استقامت اور لوگوں کے ساتھ وابستگی سے بھی تھی۔
بعض کتابیں پڑھی جاتی ہیں اور پھر الماری میں رکھ دی جاتی ہیں۔ بعض کتابیں پڑھی جاتی ہیں تو اپنے ساتھ ایک شخصیت، ایک زمانہ اور ایک عہد قاری کے ذہن میں زندہ کر دیتی ہیں۔ ’’امیرالعظیم۔۔۔ چراغِ راہ‘‘ کو اسی دوسری قسم کی کتاب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر طارق سلیم اس کتاب کے ذریعے امیرالعظیم کو صرف یاد نہیں کرتے بلکہ ان کی زندگی کے تجربات، تعلقات، جدوجہد اور کردار کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتے ہیں۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خدمت ہے۔
اور شاید امیرالعظیم کی زندگی کے لیے اس سے خوب صورت خراجِ عقیدت کوئی اور نہ ہو کہ انسان اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے بھی انسانوں سے محبت کرنا، اختلاف کے باوجود احترام کرنا اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے مفید بنانا سیکھے۔امیرالعظیم واقعی ایک چراغِ راہ تھے؛ ڈاکٹر طارق سلیم نے اس چراغ کی روشنی کو کتاب کے صفحات میں محفوظ کر دیا ہے۔



