
لاہور:(شہزاد فراموش)حلقہ ارباب ذوق کے رواں سیشن کا 22واں تنقیدی اجلاس نجیب جمال کی صدارت میں پاک ٹی ہاؤس میں ہوا۔

جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے گزشتہ تاریخی اجلاس کی کارروائی پیش کی، توثیق کے بعد محمد عباس مرزا نے علی اصغر عباس کے بروقت نہ پہنچنے پر اردو ابیات تنقید کیلئے پیش کیں۔

صاحب صدارت نے حاضرین کی تنقیدی آراء کے بعد کہا کہ 33ہزار پنجابی میں بیت لکھنے کے بعد شاعر کا یہ اردو میں پہلا تجربہ ہے۔

اس میں بعض چیزیں چونکا دینے والی ہیں۔انکا مخصوص آہنگ،فکر اوراپنے آپ کو زمانے کے ساتھ منسلک کرنا بھی نیا ہے۔بعد ازاں جواز جعفری نے اپنا مضمون ”شاعری اور موسیقی کے باہمی روابط“ پڑھا۔ جس پر صاحب صدارت کا کہناتھا کہ ایسا مضمون کوئی گُنی آدمی ہی لکھ سکتا ہے،انہیں موسیقی کے تمام آلات کاعلم ہے۔

اِن کا اسلوب بہت ہی خوبصورت اور عمدہ ہے،انہیں بار بار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ حلقہ کی روایت کے مطابق سابق سیکرٹری طینوش فردوس اور لندن سے مہمان شاعر مبارک احمد مبارک نے شاعری سنا کر داد سمیٹی۔ فکشن رائٹر حسن منظر کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئی۔

حلقہ کے سابق جوائنٹ سیکرٹری اور سینئر صحافی علی اصغر عباس لیٹ تشریف لائے،انکے گھر سے فون اور نقدی کی چوری پر مذمتی قرار دادپیش کی گئی اور پولیس کی روایتی بے حسی پر اظہار افسوس کیا گیا۔اختتام پر سیکرٹری آفتاب جاوید نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ آئندہ اجلاس پروین ملک کی صدارت میں پنجابی کہانی دربار ہو گا۔





