پاکستانتازہ ترینسپورٹس

ایشین گیمز ، قومی دستے میں ٹیم لیڈر کا پراسرار عہدہ متعارف

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اپنے ووٹرز کو نوازنے کیلئے عہدہ متعارف کرایا،اکثریت فیڈریشنوں کے صدور ،سیکرٹریز پر مشتمل

لاہور:(سپورٹس رپورٹر) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اپنے ووٹرز کو نوازنے کیلئے ایشین گیمز کے قومی دستے میں ٹیم لیڈر کا پراسرار عہدہ متعارف کرا دیا جن کی اکثریت فیڈریشنوں کے صدور اور سیکرٹریز پر مشتمل ہے۔

ماضی میں کسی بھی سطح پر ٹیم لیڈر کے عہدے کی کوئی مثال نہیں ملتی لیکن پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر گزشتہ چودہ برس سے قابض ٹولے نے قبضہ برقرار رکھنے کیلئے اپنی ہم خیال فیڈریشنوں کے عہدیداروں کو جاپان یاترا کرانے کا نیا راستہ ڈھونڈ لیا۔

حکومت پاکستان نے پی او اے کے اس منصوبے کو بھانپتے ہوۓ قوم کا پیسہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے پہلے ہی صرف ان کھیلوں کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا تھا جن میں میڈل کی امید ہے جس پر وہ ستائش کی حقدار ہے۔

ایک عام شہری کے طور پر کسی بھی پاکستانی کیلئے جاپان کے ویزے کا حصول ناممکن ہے لہذا کھیلوں کی تنظیموں نے ایشین گیمز کو غنیمت جانتے ہوۓ پی او اے کی وساطت سے ویزہ حاصل کرکے اپنے خرچ پر جاپان جانے کا فیصلہ کیا جس کے باعث کھلاڑیوں کی روپوشی کے خطرات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب اپنے خرچ پر جاپان جانے والی فیڈریشنوں نے ایسے کھلاڑی بھی قومی دستے میں شامل کئے ہیں جن کا انتخاب مبینہ طور پر میرٹ کی بجاۓبغیر ٹرائلز ک ذاتی پسند و نا پسند پر کیا گیا۔ ٹینس ٹیم میں فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے خود کو بطور کھلاڑی ہی منتخب کرلیا جبکہ ان کے پارٹنر عقیل خان بھی ٹیم کا حصہ ہیں ان دونوں کی عمر پچاس سال کے قریب ہے۔

ایشین گیمز میں اعصام الحق شاید واحد ایسے کھلاڑی ہوں گے جو فیڈریشن کے صدر بھی ہیں اس کے علاوہ ٹیبل ٹینس، سافٹ ٹینس، ووشو سمیت دیگر کھیلوں میں بھی میرٹ کے برخلاف کھلاڑیوں کی شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں لیکن سیلف فنانس کے باعث کوئی ادارہ ان سے باز پرس نہیں کر رہا اور فیڈریشنوں کو من مانی کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button