انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

ہوشیار ! خوفناک دنوں کی آمد

بے لگام / ستارچوہدری

کبھی کبھی تاریخ کے بڑے واقعات توپ کے گولے سے شروع نہیں ہوتے، ایک چھوٹی سی خبر سے شروع ہوتے ہیں۔۔۔ ایسی خبر جسے پڑھ کر آدمی چند لمحوں کے لیے رک جاتا ہے اورپھرسوچتا ہے کہ آخر اس کے پیچھے کیا ہے۔۔۔۔؟مشرق وسطیٰ سے آنے والی تازہ خبروں کو بھی شاید اسی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔

جب ایران اورامریکا کے درمیان جنگ شروع ہوئی تھی، میں نے لکھا تھا کہ ایران کے پاس ’’ دو ایٹم بم ‘‘ ہیں۔،آبنائے ہرمز۔۔۔ دنیا کے نقشے پر پانی کی ایک پتلی سی پٹی، مگرعالمی معیشت کے لیے ایک ایسی شریان جس میں تیل دوڑتا ہے۔ دنیا کی بڑی توانائی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ لیکن اس راستے کی اہمیت صرف تیل تک محدود نہیں۔ سمندر کے نیچے بچھے مواصلاتی نظام اورانٹرنیٹ کی کیبلز بھی عالمی رابطے کی ایک اہم کڑی ہیں۔۔۔۔سوچیے۔۔۔ اگر کبھی اس راستے پر صرف تیل کی روانی نہیں، رابطے کی یہ لائف لائن بھی متاثر ہوگئی تو۔۔۔؟

کہانی صرف آبنائے ہرمزتک محدود نہیں۔۔۔۔بحیرۂ احمر کے دروازے پر’’ باب المندب ‘‘ ہے۔ ایک اور ایسا بحری راستہ جس کی اہمیت عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی ہے،یمنی حوثیوں نے اس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے،سب جانتے،حوثی ایران کی پیدوارہیں
یعنی ایک طرف ہرمز۔۔۔ دوسری طرف باب المندب۔

دو راستے۔۔۔ دو سمندری دروازے۔۔۔ اور ان دونوں کے درمیان پوری دنیا کی توانائی اور تجارت کی ایک بڑی کہانی۔
پھرسعودی عرب کی طرف دیکھیے۔اگرسمندری راستوں میں رکاوٹ آئے تو تیل کی ترسیل کے لیے پائپ لائن ایک متبادل راستہ بنتی ہے۔ لیکن سعودی عرب کی مشرقی مغربی پائپ لائن پرعراق سے ڈرونز حملے ہوئے ہیں،پائپ لائن کا کافی نقصان پہنچا اورمتعدد افراد بھی زخمی ہوئے۔۔ اوراس پائپ لائن کو عارضی طورپربند کردیا گیا ہے۔۔۔۔

اب سوال یہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالات خراب ہیں یا نہیں،سوال یہ ہے کہ یہ خراب حالات آخر کس سمت جارہے ہیں۔۔۔۔؟ کیونکہ جب سمندری راستے دباؤ میں ہوں، متبادل راستہ بھی محفوظ نہ رہے اور ایک بڑی طاقت مزید کسی محاذ میں اترنے سے انکار کردے۔۔۔ تو سمجھ لیجیے، کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔۔شاید اصل کہانی اب شروع ہوئی ہے۔۔۔

مگرذرا نقشے پرانگلی رکھ کر دیکھیے۔۔۔ بات صرف دو بحری راستوں کی نہیں رہی۔۔۔۔یمن کے ساحل پرالمخا بندرگاہ اورالمخا ایئرپورٹ، ذباب کا علاقہ، اسٹریٹجک جزیرہ میون، اہم فوجی مرکزالعمری گیریژن اور بحیرۂ احمر میں جزیرہ زقر۔۔۔ان سب مقامات پر حوثیوں نے قبضہ کرلیا ہے،حوثیوں کی پیش قدمی اگراسی رفتار سے جاری رہی تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ یمن میں کس کا کنٹرول ہے، سوال یہ ہوگا کہ بحیرۂ احمر کا دروازہ کس کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔؟

یہاں ایک لمحے کے لیے سعودی عرب کو دیکھیے۔ریاض کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کے پڑوس میں ایک طاقتور گروہ آگے بڑھ رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تیل کی عالمی ترسیل کے راستے ایک ایک کرکے دباؤ میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سمندر کا راستہ خطرے میں ہو تو پائپ لائن اہم ہوجاتی ہے، اور اگر پائپ لائن بھی محفوظ نہ رہے تو پھر ملک کے پاس بچتا کیا ہے۔۔۔۔؟سعودی عرب نے شاید اسی خطرے کو محسوس کیا ہے،اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو دو مرتبہ رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی، لیکن واشنگٹن مزید کوئی محاذ کھولنے سے صاف انکار کردیا ہے۔۔۔۔سعودی عرب کے سامنے اب تین راستے نظر آتے ہیں۔۔۔

سمندری راستے، پائپ لائن اور زمینی حکمتِ عملی۔ مگر جب پہلے دو راستوں پرخطرے کے بادل منڈلانے لگیں تو تیسرا راستہ بھی آسان نہیں رہتا۔۔۔۔اور یہاں سے تیل کی کہانی شروع ہوتی ہے،تیل صرف پٹرول پمپ پرکھڑی گاڑی کا ایندھن نہیں، تیل صنعت کا پہیہ ہے، بجلی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جہازوں کا سفر ہے، مال بردار گاڑیوں کی حرکت ہے، فیکٹریوں کی سانس ہے۔ تیل کی قیمت میں معمولی سا جھٹکا دنیا کے کروڑوں لوگوں کے بجٹ کو ہلا دیتا ہے۔۔۔۔

اب اگر مشرقِ وسطیٰ کے بڑے بحری راستوں پر دباؤ بڑھتا ہے، سپلائی کے متبادل راستے بھی متاثر ہوتے ہیں اور امریکا کسی نئے محاذ میں اترنے سے گریز کرتا ہے تو اگلا سوال بہت بڑا ہے،کیا دنیا ایک اور عالمی تیل بحران کی طرف بڑھ رہی ہے ؟لیکن۔۔۔ اس پوری تصویر میں ایک عجیب بات ہے،ایران دباؤ میں ہے، سعودی عرب پریشان ہے، حوثی آگے بڑھ رہے ہیں، امریکا محتاط ہے اور دنیا تیل کی قیمتوں کی طرف دیکھ رہی ہے،تو پھر اس سارے ہنگامے میں وہ کون ہے جو خاموش کھڑا ہے۔۔۔ اور دوسروں کی کمزوری کو دور سے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔؟یہ سوال شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔۔۔اور اس کا جواب۔۔۔ شاید اگلے موڑپرچھپا ہوا ہے۔۔۔۔

اب ذرا اس سوال کی طرف واپس آتے ہیں ، اس سارے ہنگامے میں فائدہ کس کا ہے۔۔۔۔؟مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اصول پرانا ہے؛ دشمن ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو سامنے کھڑا دکھائی دے، کبھی اصل فائدہ اٹھانے والا وہ ہوتا ہے جو دو طاقتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا دیکھ رہا ہو۔آج ایران اور عرب ممالک براہِ راست جنگ میں نہیں، لیکن حالات اگر مزید بگڑتے ہیں تو فاصلے کم ہوسکتے ہیں۔ ایران کے اتحادی یمن میں مضبوط ہوں، سعودی عرب اپنے تیل کے راستوں کے بارے میں پریشان ہو، امریکا کسی نئے محاذ سے پیچھے رہے اور اسرائیل اپنے اردگرد کے ممالک کو مسلسل جنگی دباؤ میں دیکھے۔۔۔ تو خطے کا طاقت کا توازن یقیناً بدل سکتا ہے۔
یہاں اسرائیل کا نام خود بخود سامنے آتا ہے۔

اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ صرف ایک ملک نہیں، ایک مضبوط اورمتحد خطہ ہے۔ اگر عرب دنیا سیاسی، معاشی اورعسکری طور پرمضبوط رہے تو اسرائیل کے لیے اپنے علاقائی منصوبوں کو آگے بڑھانا آسان نہیں۔ لیکن اگر یہی ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوجائیں، توانائی کا بحران ان کی معیشتوں کو ہلا دے اور جنگ ان کے وسائل نگلنے لگے تو تصویر بدل سکتی ہے۔۔۔۔ یہاں سے ہی ’’ گریٹر اسرائیل ‘‘ کا راستہ نکلتا ہے۔ فیصلہ ابھی تاریخ نے نہیں سنایا، مگرنشانیاں ضرورموجود ہیں۔۔۔۔ اورتاریخ کا کمال یہی ہے کہ وہ پہلے اشارے دیتی ہے، فیصلہ بہت بعد میں سناتی ہے۔

اب ذرا آنے والے چند دنوں کا تصور کیجیے۔مشرق وسطیٰ کے دو اہم بحری راستوں پرایران کا کنٹرول ہوچکا،سعودی تیل کی ترسیل بھی متاثر۔۔۔۔اورامریکا کا کسی نئے محاذ میں داخل ہونے سے گریز۔۔۔۔۔ تو دنیا صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہیں دیکھے گی، دنیا اس کے معاشی اثرات بھی بھگتے گی۔۔۔۔خوفناک حد تک دنیا بھر میں تیل بحران پیدا ہوسکتا،تیل بحران کا مطلب،دنیا بھرکی معیشتوں کا پہیہ جام ہونا ہے،ممکن ہے،ایک دن لوگ ٹیلی وژن پرجنگ کےمناظر نہ دیکھ رہے ہوں، پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھرکی سڑکوں پرکھڑی گاڑیاں دیکھ رہے ہوں۔۔۔۔

اس بات سے کون انکارکرسکتا مشرقِ وسطیٰ میں اٹھنے والے شعلوں کا دھواں صرف ریاض، تہران، تل ابیب یا صنعا تک نہیں رہے گا۔۔۔ دنیا کا ہرشہرکو اس دھوئیں میں سانس لینا پڑے گا۔۔۔۔۔ اورشاید۔۔۔ تاریخ ایک بار پھر کسی بڑے واقعے سے پہلے ہمیں خبردارکررہی ہے۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button