بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

شیر افضل مروت: کیسی بلندی، کیسی پستی!

تحریر: حسنین جمیل

شیر افضل مروت ایک وکیل اور سیاست دان ہیں۔ ان کی سیاسی آمد بڑے ہی دبنگ انداز میں ہوئی اور وہ مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئے، مگر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ جس تیزی سے مقبول ہوئے، اسی تیزی سے روبہ زوال بھی ہوئے۔

سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ عام طور پر بالی ووڈ کے اداکاروں یا کھلاڑیوں کو اس طرح یک لخت شہرت اور پھر زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے بالی ووڈ میں کمار گورو اور راہول رائے ایک ایک فلم کی کامیابی سے راتوں رات اسٹار بن گئے، مگر پھر پے در پے ناکامیوں سے دوچار ہوئے۔ کرکٹ کے میدان میں محمد زاہد اور محمد آصف جیسے باؤلرز یک دم مقبول ہوئے اور پھر منظر نامے سے غائب ہو گئے۔

سیاست کا میدان اس سے مختلف ہوتا ہے۔ یہاں آپ کی شناخت دھیرے دھیرے بنتی ہے، پھر آپ قومی منظر نامے پر معروف ہوتے ہیں اور دیر تک قائم رہتے ہیں۔ مگر شیر افضل مروت کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) زیرِ عتاب تھی اور قومی سطح کا کوئی اہم رہنما منظرِ عام پر موجود نہ تھا۔ ایسے میں ایک وکیل، شیر افضل مروت جو پابندِ سلاسل عمران خان کے ایک مقدمے کی پیروی کر رہے تھےتحریک انصاف کا پرچم اٹھاتے ہیں۔ وہ پہلے خیبر پختونخوا اور پھر پورے ملک میں جلوسوں کی قیادت کرتے ہیں، اور یوں کارکنوں کے ہردل عزیز بن کر میڈیا پر پارٹی کا اہم چہرہ بن جاتے ہیں۔

 

برطانیہ میں مقیم یوٹیوبر عادل، جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں، انہوں نے سب سے پہلے شیر افضل مروت کو مقتدرہ کا کارندہ کہنا شروع کیا تھا تب ہم نے اس بات کو غلط قرار دیا اور یہی سمجھے کہ عادل راجہ صرف ویورشپ (Viewership) کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ 8 فروری کے انتخابات میں شیر افضل مروت نے بڑی دلیری سے تحریک انصاف کی انتخابی مہم چلائی، اور ہم یہی سمجھتے رہے کہ یار! یہ دلیر پٹھان بس جذباتی ہے اور سوچے سمجھے بغیر بیان بازی کر دیتا ہے جس سے غلط تاثر جاتا ہےجیسے انہوں نے محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا۔

مگر بعد میں جب انہوں نے عمران خان کا اعتماد بھی کھو دیا اور عمران خان نے ان سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے انہیں پارٹی سرگرمیوں سے دور کر دیا، تب شیر افضل مروت نے ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف اور عمران خان کی بہنوں کے خلاف بیان بازی شروع کر دی۔ یوں جو قبولیت اور مقبولیت انہیں ملی تھی، اس کا خاتمہ ہو گیا۔

شیر افضل مروت نے جب کے پی کے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی، تب "بلی تھیلے سے باہر آ گئی” اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ شیر افضل مروت مقتدرہ کے آلہ کار ہیں۔ مبینہ طور پر سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست کے کرداروں میں علی امین گنڈاپور اور رانا ثناء اللہ کا گٹھ جوڑ بھی نظر آتا ہے۔

27 ستمبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے چند دن قبل اس درخواست کا عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہو جانا اس بات کو نوشتۂ دیوار بناتا ہے کہ شیر افضل مروت کس کا آلہ کار ہیں، اور وہ سہیل آفریدی کو نااہل قرار دلوا کر علی امین گنڈاپور کو کیوں دوبارہ وزیر اعلیٰ بنوانا چاہتے ہیں۔

سہیل آفریدی لانگ مارچ کے حوالے سے بہت متحرک ہیں اور پرجوش خطابات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ‘ایکس’ (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر شیر افضل مروت کو مخاطب کر کے جو لکھا ہے، وہ بہت معنی خیز ہے۔ وہ شیر افضل مروت سے پوچھ رہے ہیں کہ "جب تم یہ درخواست تیار کر رہے تھے، تو بتاؤ تمہارے دائیں اور بائیں کون بیٹھا تھا؟”

شیر افضل مروت نے درحقیقت ‘باہوبلی’ کے کردار ‘کٹپا’ کی طرح سہیل آفریدی کی پیٹھ میں تلوار گھونپ دی ہے، جبکہ وہ اگلے محاذ پر عمران خان کی سیاسی جنگ لڑ رہے تھے۔ یہ شیر افضل مروت کا تحریک انصاف پر آخری خودکش حملہ ہے اور وہ اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ مقتدرہ کے کہنے پر وہ تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

سہیل آفریدی کو وہی مقبولیت مل چکی ہے جو کبھی شیر افضل مروت کے پاس تھی۔ سو، حسد اور بغض نے شیر افضل مروت کو سیاسی طور پر رسوا اور اخلاقی طور پر قلاش کر دیا ہے۔ اس مختصر سے عرصے میں شیر افضل مروت نے پاکستانی سیاست میں ایسی بلندی اور ایسی پستی دیکھ لی ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button