
سیاسی پنڈت وطن عزیز میں موجودہ حالات کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں اور اس کی سب سے اہم وجہ ایک پیج پر ہلچل ہے جس سے مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ،بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں،اس میں کس حد تک حقیقت ہے اور کتنا افسانہ ہے اس بارے میں ناپ تول تو نہیں کیا جا سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات پہلے جیسے نہیں رہے
آنے والے دور کے لیے صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں بہت ساروں کی جمع پونجی داو پر لگ چکی ہیں کھیل میں نئے کھلاڑیوں کی دبنگ انٹری ہونے والی ہے کئی ایک بقا کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں کئی ایک اپنی آخری اننگز کو یادگار بنانے کا تہیہ کر چکے ہیں اگلے تین چار ماہ سیاسی،انتظامی اور معاشی طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں اب تو حکمرانوں کے لیے آوٹ آف دی وے جانے والے صحافی بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں
سنا ہے نئے تجربات ہونے جا رہے ہیں کل کو کیا ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی افق پر احتجاج زور پکڑ رہے ہیں 20 ستمبر کو جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف مارچ کرنے جا رہی ہے 25 ستمبر کو کسان اتحاد بھر پور طریقے سے سڑکوں پر آ رہا ہے 27 ستمبر کو تحریک انصاف زور وشور کے ساتھ لانگ مارچ لے کر اسلام آباد جانے کی تیاریوں میں ہے وزیر داخلہ محسن نقوی اپنی ہی حکومت سے بیزار دکھائی دے رہے ہیں
وہ خود نظام بدلنے کی جدوجہد کا حصہ ہیں صوبوں کے قیام پر پیپلزپارٹی تو مخالفت میں ڈٹ کر سامنے آ چکی ہے وہ سندھ کو کسی طور پر تقسیم نہیں ہونے دینا چاہتی اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے
مسلم لیگ ن بادل ناخواستہ تمام تر خدشات تحفظات کے باوجود نیم دلانہ رضامندی ظاہر کر رہی ہے لیکن نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے معاملہ میں وفاقی وزیر داخلہ،اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف ہم آہنگ نظر آتی ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ اس ایشو کو التواء کا شکار کیا جائے پیپلزپارٹی کو بھی اس پر منایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس پر بحث کروائی جائے
اب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بڑا ہنگامہ خیز ہو گا بظاہر حکومت پارلیمنٹ میں بحث کروا کر اس کی روشنی میں ریفرنڈم کروانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے لیکن پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کوئی بھی سمت اختیار کر سکتا ہے سمجھداروں کے لیے بہت سارے اشارے ہیں ایک طرف سیاست میں گرما گرمی دکھائی دے رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس بار احتجاج کو جمہوری حق تسلیم کر لیا جائے گا اسلام آباد میں احتجاج روکنے کے لیے وزیر داخلہ کے من پسند آئی جی علی ناصر رضوی کو تبدیل کر دیا گیا ہے
ان کی جگہ سہیل چوہدری نئے آئی جی اسلام آباد تعینات کیے جا چکے ہیں اگر ہر حال میں احتجاج کو روکنا مقصود ہوتا تو علی ناصر رضوی جیسے تجربہ کار پولیس افسر کو تبدیل نہ کیا جاتا
تحریک انصاف اس بار پنجاب کو بھی ٹارگٹ کر رہی ہے بلاشبہ تحریک انصاف پنجاب کے ورکرز بہت خوفزدہ ہیں اور پنجاب حکومت نے ابھی سے تحریک انصاف کے ورکرز پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل خان آفریدی پنجاب آنے اور ورکرز کو متحرک کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں
آئندہ چند دنوں میں کئی چیزیں کھل کر سامنے آ جائیں گی لیکن پنجاب حکومت کسی طور پر بھی تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گی بہت سارے معاملات عدالتوں میں بھی زیر بحث ہیں عدالتوں کے فیصلے حالات پر اثر انداز ہوں گے بہت سارے اشارے عدالتی احکامات کی روشنی سے بھی سامنے آئیں گے
اگر مولانا فضل الرحمن کے کلیہ تہتر کے آئین کی دفعہ فلاں کو فلاں کے ساتھ فلاں کلاز کی سب کلاز کو ملا کر پڑھا جائے تو واضح ہو جائے گا،کی طرح اگر حالات وواقعات اور سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حکمرانوں کی اب پہلے والی بات نہیں رہی پیج پر کہیں نہ کہیں دراڑ آ چکی ہے
نئی صف بندیاں واضح کرتی ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے حکومت پچھلے چار سالوں میں حالات کو مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی بیزاری افراتفری پر قابو نہیں پایا جا سکا نہ گورننس میں بہتری آئی ہے نہ معاشی طور پر بہتری لائی جا سکی ہے مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے کاروبار سکڑ گئے ہیں روزگار کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے چلے جا رہے ہیں
اوپر سے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے معاشی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ایک طرف عوامی مسائل کی خلیج ہے تو دوسری طرف سیاسی ابتری عروج پر ہے تیسرا بین الاقوامی حالات چین نہیں لینے نہیں دے پا رہے اور چوتھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈیمانڈ پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے پانچواں عوام کسی صورت مطمئن نہیں ہو پا رہے عوام کی بےچینی تو واضح نظر آ رہی تھی اب حکمرانوں کی بےچینی بھی محسوس کی جا رہی ہے



