پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

کرسی یا کپتان۔۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ رات کو شکست کے زخم کھا کر سونے والا صبح جیت چکا ہوتا ہے اور رات کو جشن منانے والے صبح ہارے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جس روز کسی کو منی لانڈرنگ کا مجرم ٹھہرایا جانا ہو، وہ اسی روز وزیراعظم بن جاتا ہے اور جو رات وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا ہو، صبح کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتا ہے۔

یہاں وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا جیل اور وکیل کے چیمبر سے سیدھا چیف جسٹس کی کرسی تک پہنچنے کی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں۔ لوگ راتوں رات کروڑ پتی بنتے اور پل بھر میں مال و دولت سے محروم ہوتے بھی دیکھے گئے ہیں۔بس اسی لیے خیبرپختونخوا سے آنے والی ایک خبر کو معمولی خبر سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ وہاں کچھ ایسا ہونے والا ہے جو صرف ایک وزیراعلیٰ کی کرسی کا فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کے اثرات تحریک انصاف کی پوری سیاست پرپڑ سکتے ہیں۔
ذرا مئی میں واپس چلتے ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا، شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے آئینی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں دو بنیادی مطالبات تھے۔ پہلا یہ کہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے اور دوسرا یہ کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ ان کے منصب پر بحال کیا جائے،شیرافضل مروت کا قانونی مؤقف تھا کہ علی امین گنڈاپورنے اکتوبر 2025 میں جو استعفیٰ دیا، وہ آزادانہ مرضی سے نہیں بلکہ سیاسی دباؤ اور ڈکٹیشن کے نتیجے میں لیا گیا، اس لیے اس کی قانونی حیثیت پرسوال اٹھتا ہے۔

درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزدگی اڈیالہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر ہوئی۔ چونکہ عمران خان عدالت سے سزا یافتہ اور نااہل ہیں، اس لیے ان کی ڈکٹیشن یا نامزدگی کی بنیاد پر صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب غیر آئینی اورغیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔یہ معاملہ صرف دو سیاسی شخصیات کے درمیان عہدے کی لڑائی نہیں بنایا گیا بلکہ اسے خیبرپختونخوا کے لاکھوں شہریوں کے ووٹوں کے تحفظ اور وسیع ترعوامی مفاد کا معاملہ قراردیا گیا ہے۔
اب ذرا موجودہ صورتحال دیکھیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے مقررکی ہوئی،چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج 14 ستمبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔۔۔۔اورعین اسی وقت خیبرپختونخوا کی سیاست کا دوسرا دروازہ بھی کھل چکا ہے۔۔۔سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچکا اعلان کررکھا ہے۔

اسی سلسلے میں وہ سندھ کا دورہ کرچکے ہیں، کارکنوں کو متحرک کرچکے ہیں اور آج 14 ستمبر کو لاہور پہنچ کر پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ بھی کرنے والے ہیں،دوسری طرف حکومت بھی خاصی پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ وزرا کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، لانگ مارچ روکنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور ایک عام شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ نے بھی احتجاج روکنے کے معاملے کی سماعت کےدوران فیصلہ سنا دیا ہے۔

اب اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

اگرعدالت نے احتجاج روک دیا، یا کسی اور وجہ سے لانگ مارچ ملتوی ہوگیا، یا دونوں فریقوں کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نکل آیا تو سمجھ لیجیے، وقتی طور پر دونوں طرف کے خطرات ٹل گئے۔۔۔۔۔لیکن اگر تیسرا راستہ نہ نکلا تو۔۔۔۔۔؟پھرخیبرپختونخوا کی سیاست میں بہت کچھ بدل سکتا ہے،سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ خطرے میں پڑسکتی ہے، علی امین گنڈاپور کی دوبارہ واپسی کا راستہ کھل سکتا ہے اور تحریک انصاف کے اندر موجود اختلافات کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔۔۔۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک وزیراعلیٰ کی کرسی کا معاملہ پوری جماعت کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے،تحریک انصاف پہلے ہی مشکل حالات سے گزر رہی ہے، اگر خیبرپختونخوا میں پارٹی دو مضبوط حصوں میں تقسیم ہوگئی تو نقصان صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہے گا۔ سیاسی جماعتیں شیشے کی طرح ہوتی ہیں، ایک بار دراڑ پڑ جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ شیشہ ٹوٹے گا یا نہیں، سوال یہ ہوتا ہے کہ اگلی دراڑ کہاں پڑے گی۔۔۔۔

اوراگر پارٹی کے اندرمزید تقسیم ہوئی توعمران خان کی رہائی کی سیاسی جدوجہد بھی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔۔۔فیصلہ عدالت کے ہاتھ میں ہے، سڑک کا فیصلہ وقت کرے گا اورسیاست کا فیصلہ آنے والے چند دن،مگرایک بات طے ہے، رواں ہفتہ تحریک انصاف کے لیے معمول کا ہفتہ نہیں۔۔۔۔ایک طرف عدالت ہے، دوسری طرف لانگ مارچ، سامنے حکومت ہے اور پسِ پردہ فیصلوں کی ایک پوری دنیا۔۔۔۔اب دیکھنا صرف یہ ہے لانگ مارچ ہوتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی کرسی بچتی ہے یا بدلتی ہے۔۔۔۔؟اصل امتحان سہیل آفریدی کا ہے۔۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں ان کا نام کرسی کے ساتھ لکھا جائے گا یا کپتان کے ساتھ ۔۔۔۔؟ آفریدی کے پاس وقت کم ہے، فیصلہ بڑا ہے۔۔۔ کرسی بچانی ہے یا کپتان کا ساتھ دینا ہے۔۔۔۔؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button