پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

لاہورمیں سہیل آفریدی گرفتار؟مریم نواز سےمعافی کا مطالبہ،جانیئے لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال

سہیل آفریدی خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھے، ڈرون فوٹیجزبھی شیئر کی ہیں:عظمی بخاری

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا قافلہ مال روڈ پر ریگل چوک پہنچ گیا، جہاں سہیل آفریدی پولیس کی پریزن وین پر چڑھ گئے۔

اس دوران سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں کسی کو تنگ نہیں کر رہا، مجھے تنگ کیا جا رہا ہے۔ ہمارے کارکنوں کو رہا کیا جائے پھر آگے بڑھوں گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پریزن وین سے اترنے سے انکار کیا، جس کے بعد پولیس اہلکار وزیراعلیٰ سمیت وین لے کر چلے گئے۔

پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کال کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود ہیں۔

سہیل آفریدی پیر کی دوپہر قافلے کی صورت میں لاہور پہنچے تو اُن کی آمد کے موقع پر ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر سڑک کو ایک جانب سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔

اس موقع پر سٹرک کو کھلوانے کے لیے سہیل آفریدی اپنی گاڑی سے اُترے اور ہاتھوں کے اشاروں سے لوگوں کو پولیس کی رکاوٹ عبور کر کے سفر جاری رکھنے کا کہتے رہے۔ اس دوران وہاں موجود پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے اُن کو آگاہ کیا کہ ٹریفک کو عارضی طور پر اس لیے بند کیا گیا ہے تاکہ وہ بحفاظت اس علاقے سے نکل سکیں۔

اس پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے پولیس کو جواب دیا کہ ’آپ میری فکر مت کریں۔ میری حفاظت کے لیے عوام کو مت روکیں۔ پہلے لوگ جائیں گے، اس کے بعد میں جاؤں گا۔‘

پولیس اہلکاروں کی جانب جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تو وہ اِسی مقام پر سڑک کنارے بیٹھ گئے اور میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقام سے اُس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک عام ٹریفک کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اس مقام سے آگے روانہ ہونے کے بعد وہ گذشتہ دنوں وفات پانے والے پی ٹی آئی کارکن اشتیاق خان کی رہائش گاہ پہنچے اور اُن کے اہلِخانہ سے ملاقات اور تعزیت کی۔

اشتیاق احمد کے گھر وزیر اعلیٰ کی آمد سے قبل تحریک انصاف کے بہت سے مقامی رہنما یہاں پہنچنا شروع ہوئے تھے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کچھ کے صوبائی ممبران نے دعوی کیا کہ انھیں اس مقام پر آنے سے روکنے اور گرفتار کرنے کی کوشش گئی ہے۔

پنجاب میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جس کو چاہتے ہیں روک لیتے ہیں ان کی مرضی ہے کیونکہ اندھا قانون ہے۔ مجھے یہ تب گرفتار کریں جب میں نے کوئی قانون توڑا ہو۔ دفعہ 144 نافذ ہے، ہم جانتے ہیں، مگر ہم تین لوگ گاڑی میں موجود تھے۔‘

تاحال پولیس نے ان دعوؤں پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

اپنے دورہ لاہور کے دوران وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے شہر کے مختلف مقامات پر رُک کر خطاب بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کی وزیر اعلیٰ، جن کو عوام نے انتخابات میں مسترد کیا، کہتی ہیں کہ انھیں تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ میں آج آعلان کرتا ہوں کہ پنجاب کی عوام میری ہے، پنجاب میرا ہے اور میں پنجاب کا ہوں اور مجھے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

لاہور کے مال روڈ پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود پنجاب پولیس کی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ اس موقع پر پولیس اہلکار انھیں گاڑی سے اترنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو معافی مانگنی ہو گی۔

تاہم کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ لکشمی چوک کے مقام پر پولیس کی گاڑی سے اُتر کر اپنی گاڑی میں سوار ہو گئے۔

اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک وزیر اعلیٰ کی بے عزتی ہوئی ہے، جس کا جواب میں اِن سے ضرور لوں گا۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کو اس رویے پر معافی مانگنی پڑے گی۔ میرے ساتھ بُرا رویہ اختیار کیا گیا، ایک صوبے کے ساتھ تعصب بھرا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔‘

بعدازاں لکشمی چوک پر سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ انھیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ’انھوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی پھر یہاں سڑک پر پھینک گئے ہیں، ایک صوبے کے وزیراعلی کو اغوا کرنے کی کوشش کی یہ چھوٹی بات نہیں، اِن پر اب پریشر آئے گا۔‘

ایک اور مقام پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میرا ہے، پاکستان میرا ہے۔ میں یہاں ایک عام شہری کی حیثیت سے آیا ہوں، میں آپ کی سیکورٹی لینے سے انکار کرتا ہوں ، مجھے آپ کی سکیورٹی نہیں چاہیے۔‘

سہیل آفریدی دورہ لاہور کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر سٹرکوں کو جزوی طور پر بند کیا گیا تھا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت نے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھا ہونے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

سہیل آفریدی دورہ لاہور کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر سٹرکوں کو جزوی طور پر بند کیا گیا تھا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت نے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھا ہونے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

یاد رہے کہ تحرک انصاف کا دعوی ہے کہ گزشتہ روز (13 ستمبر) پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدارن اور کارکنوں کی گرفتاروں کے لیے اُن کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔
دریں اثنا ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھے پولیس نے سمجھا کے شاید کسی نے حملہ کردیا ہے اس لئے گاڑی لے کر بھاگے، انہوں نے کہا ہے کہ میں نے ڈرون فوٹیجزبھی شیئر کی ہیں۔

 

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button