
آج کل گوجرانوالہ کے جیل سپرنٹنڈنٹ اظہر چیمہ کے حوالے سے کرپشن کے چرچے ہیں۔ روز نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں، سوال اٹھ رہے ہیں، اثاثوں اور اختیارات کے استعمال پر بحث ہو رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر پنجاب کی جیلوں کا پورا نظام کٹہرے میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
لیکن یہ سب دیکھ کر میں اچانک اپنے ماضی میں چلا گیا۔
مجھے ایک نام یاد آیا۔
اکرم جوئیہ۔
اور پھر میرے ذہن میں برسوں پرانا ایک ایسا واقعہ تازہ ہو گیا جس نے مجھے پہلی مرتبہ یہ سمجھایا تھا کہ جیل کی بلند دیواروں کے پیچھے صرف قیدی نہیں ہوتے وہاں ایک ایسا مضبوط، منظم اور بااثر کرپٹ نظام بھی موجود ہوتا ہے جس تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔
اکرم جوئیہ اس وقت سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں وارڈن تھا۔میرے پاس اطلاع آئی کہ ایک حوالاتی سے رشوت لینے اور اسے جیل کے اندر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے موبائل فون کے معاملے میں اس کا کردار سامنے آیا ہے۔ میں نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی۔
لیکن جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی گئی، معاملہ صرف ایک وارڈن تک محدود نہ رہا۔میرے سامنے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے حوالے سے کرپشن کے مزید معاملات آنا شروع ہو گئے۔اس وقت جیل کے سپرنٹنڈنٹ جاوید لطیف جبکہ چودھری اشرف کنگرہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے۔میں نے تمام معلومات اکٹھی کیں، تحقیقات کیں اور ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی۔پہلے دن خبر شائع ہوئی۔دوسرے دن فالو اپ آیا۔تیسرے دن ایک اور فالو اپ شائع ہوا۔لیکن حیرت انگیز طور پر جیل کے نظام پر جیسے کوئی اثر ہی نہیں پڑا۔
ایسا محسوس ہوا جیسے خبریں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہوں۔کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ صرف خبر کافی نہیں۔میں نے ایک کالم لکھا۔براہِ راست آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو مخاطب کیا۔میں نے اپنی شائع شدہ خبروں کا حوالہ دیا، سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے اندر مبینہ کرپشن کے معاملات اٹھائے اور سوال کیا کہ آخر یہ نظام کس کے تحفظ میں چل رہا ہے۔۔؟
یہ سوال اثر کر گیا۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے فوری طور پر انکوائری کا حکم دے دیا۔اگلے ہی دن مجھے اے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب مرزا شاہد سلیم بیگ کی کال موصول ہوئی۔انہوں نے مجھے دفتر بلایا۔یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔میں ان کے دفتر پہنچا اور میرے پاس موجود تمام معلومات اور شواہد ان کے سامنے رکھ دیے۔ میں نے انہیں بتایا کہ معاملہ صرف ایک وارڈن کا نہیں بلکہ میرے سامنے ایک بڑا نقشہ ابھر رہا ہے۔
اگلے دن اتوار تھا۔صبح سویرے مرزا شاہد سلیم بیگ کی دوبارہ کال آئی۔انہوں نے مجھے اپنی سرکاری رہائش گاہ آنے کو کہا۔میں اپنے ساتھی چودھری اسلم کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ناشتے کے بعد ایک ایسا مرحلہ شروع ہوا جسے میں آج بھی نہیں بھولا۔ہم مرزا شاہد سلیم بیگ کی نجی گاڑی میں بیٹھے۔گاڑی وہ خود چلا رہے تھے۔منزل تھی:سینٹرل جیل کوٹ لکھپت۔
جیل کے داخلی ناکے پر گاڑی رکی۔مرزا شاہد سلیم بیگ نے اپنا تعارف کروایا۔اور پھر ناکوں پر حرکت شروع ہو گئی۔دروازے کھلتے چلے گئے۔جو لوگ کوٹ لکھپت جیل سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ مرکزی دروازے تک پہنچنے کے لیے کئی ناکے اور کئی دروازے عبور کرنا پڑتے ہیں۔ہم ایک ایک مرحلہ عبور کرتے ہوئے مرکزی گیٹ تک پہنچ گئے۔دروازہ کھلا۔اور ہم جیل کے اندر داخل ہو گئے۔
اسی دوران سپرنٹنڈنٹ جاوید لطیف کو بھی طلب کیا جا چکا تھا۔وہ تیزی سے اپنی سرکاری رہائش گاہ سے آتے دکھائی دیے۔
مرزا شاہد سلیم بیگ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اشرف کنگرہ کے کمرے میں بیٹھ گئے۔جاوید لطیف بھی موجود تھے۔اشرف کنگرہ بھی۔اور پھر میری خبر کی بنیاد پر انکوائری شروع ہوئی۔اکرم جوئیہ کو طلب کیا گیا۔جب وہ سامنے آیا تو ایک دراز قد وارڈن میرے سامنے کھڑا تھا، جب انکوائری شروع ہوئی تو اس کا اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہوتا دکھائی دیا۔گھبراہٹ سے اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ مناسب جواب دینے سے قاصر تھا۔کمرے کا ماحول بدل رہا تھا۔سوالات سخت ہو رہے تھے۔اور پھر اچانک جاوید لطیف اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ان کے پیچھے اشرف کنگرہ بھی اٹھ کر نکل گئے۔
چند منٹ بعد دروازہ کھلا۔اشرف کنگرہ نے مجھے اشارے سے باہر بلایا۔انہوں نے کہا:صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔میں جاوید لطیف کے کمرے میں پہنچا۔وہاں پہنچ کر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جب کرپشن کے الزامات کی تفتیش شروع ہوتی ہے تو بعض اوقات طاقتور لوگوں کا پہلا ہتھیار دلیل نہیں ہوتا۔اثر و رسوخ ہوتا ہے۔
جاوید لطیف نے مجھے ٹیلی فون کی طرف اشارہ کیا۔میز پر سرکاری پی ٹی سی ایل فون موجود تھا۔رسیور اٹھایا تو دوسری طرف ہمارے ادارے کے چیف ایگزیکٹو علی احمد ڈھلوں تھے۔انہوں نے مجھ سے معاملے کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ جاوید لطیف ان کے اچھے دوست ہیں، اس لیے معاملے میں ہاتھ ہولا رکھا جائے۔میں نے احترام کے ساتھ کہا کہ میں بعد میں کال کرتا ہوں۔میں کمرے سے باہر آیا۔جیل کے مرکزی دروازے سے بھی باہر نکلا اور پھر اپنے موبائل فون سے علی احمد ڈھلوں صاحب کو کال کی۔
میں نے صاف کہا:سر، میں اپنی خبر پرقائم ہوں۔ میری خبر سچی ہے تو میں ہاتھ ہولا کیسے رکھوں۔۔؟ میں اپنے آپ کو جھوٹا کیسے ثابت کر دوں۔۔؟ آئی جی کے حکم پر انکوائری ہو رہی ہے تو مجھے اپنی خبر اور اپنے موقف کو ثابت کرنا ہے۔میں نے اپنی خبر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دی ہے اور اسے ثابت کرسکتا ہوں۔
میری بات سننے کے بعد علی احمد ڈھلوں نے کہا:آپ کو جو بہتر لگتا ہے، آپ کریں۔ اپنی خبر پرقائم رہیں۔میں آج بھی اس بات کو ان کے حق میں شمار کرتا ہوں کہ انہوں نے اس موقع پر مجھے اپنی خبر اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا۔میں دوبارہ انکوائری والے کمرے میں پہنچا۔میں نے اے آئی جی مرزا شاہد سلیم بیگ سے کہا:آپ کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے تو سفارشیں بھی شروع کروا دی ہیں۔
جاوید لطیف اور اشرف کنگرہ وہاں موجود تھے اور قدرے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم میں پہلے سے زیادہ ڈٹ گیا۔میں نے مزید سوال اٹھائے۔میں نے مرزا شاہد سلیم بیگ کو کہا:میرے ساتھ جیل کے اندر چلیں۔ میں آپ کو جیل کے اندرمختلف بارکوںاور چکیوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن کے بارے میں میرے پاس معلومات ہیں۔میرے پاس آنے والی اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر ممنوعہ اشیا کی موجودگی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے سنگین سوالات موجود تھے۔
میں نے کہا کہ اگر واقعی نظام صاف ہے تو پھر ان جگہوں کو کھول کر دیکھا جائے۔تلاشی لی جائے۔حقائق سامنے لائے جائیں۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے چہروں کے تاثرات بدلتے دیکھے۔جو لوگ کچھ دیر پہلے مطمئن دکھائی دے رہے تھے، اب ان کے چہروں پر پریشانی نمایاں تھی۔کیونکہ شاید انہیں یقین تھا کہ ایک فون کال کافی ہوگی۔شاید انہیں لگا تھا کہ میں خاموش ہو جاﺅں گا۔شاید انہیں یہ امید تھی کہ خبر دینے والا اپنے ہی الفاظ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔لیکن صحافت اگر فون کالوں، سفارشوں اور تعلقات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے تو پھر اسے صحافت نہیں کہا جا سکتا۔پھر خبر صرف ایک کاروبار رہ جاتی ہے۔اور سچ صرف ایک سودا۔
صبح شروع ہونے والی انکوائری شام کو مکمل ہوئی۔ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔راستے میں مرزا شاہد سلیم بیگ نے مجھ سے کہا کہ میری جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا مناسب جواب انہیں نہیں دیا جا سکا اور وہ اپنی رپورٹ تیار کرکے آئی جی کو بھجوا دیں گے۔میں مطمئن تھا کہ شاید اب کچھ ہوگا۔شاید اب ذمہ داروں کا تعین ہوگا۔شاید اب نظام حرکت میں آئے گا۔لیکن چند روز گزر گئے۔خاموشی چھا گئی۔
میں دوبارہ مرزا شاہد سلیم بیگ کے پاس گیا۔میں نے پوچھا:انکوائری کا کیا بنا۔۔؟اور وہاں میں نے ایک ایسے افسر کو دیکھا جو شاید اپنی حد تک کام کر چکا تھا، مگرکرپٹ نظام کے سامنے بے بس دکھائی دے رہا تھا۔انہوں نے مجھ سے کہا:پاشا صاحب، آپ نے اپنا کام کیا، میں نے اپنا کام کیا۔ اب آگے کیا ہوتا ہے، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔اور پھر انہوں نے مجھے ایک مشورہ دیا۔آپ خاموش ہو جائیں۔یہ جملہ صرف ایک مشورہ نہیں تھا۔
یہ ہمارے پورے نظام کا نوحہ تھا۔ایک صحافی خبر دے۔ثبوت جمع کرے۔تحقیق کرے۔رپورٹ شائع کرے۔فالو اپ کرے۔کالم لکھے۔اعلیٰ حکام کو جھنجوڑے۔انکوائری کروائے۔انکوائری کے دوران اپنے موقف پر قائم رہے۔اور پھر آخر میں اسے مشورہ دیا جائے:آپ خاموش ہو جائیں۔
آج گوجرانوالہ کے جیل سپرنٹنڈنٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات اور انکشافات کو دیکھ کر میرے ذہن میں وہ انکوائری پھر سے زندہ ہو گئی ہے۔کیونکہ مسئلہ صرف ایک شخص یا ایک آفیسر کا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی کرپشن کرتا ہے تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے کتنا لوٹا۔اصل سوال یہ ہونا چاہیے:وہ اتنی دیر تک بچا کیسے رہا۔۔؟کس نے دیکھا اور آنکھیں بند رکھیں۔۔؟کس نے رپورٹ دبائی۔۔؟کس نے انکوائری کو فائلوں میں دفن کیا۔۔؟کس نے کرپٹ افسران یا اہلکاروں کو تحفظ دیا۔۔؟جیلیں سزا یافتہ اور زیرِ حراست افراد کو قانون کے مطابق رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔لیکن جب جیل کا نظام خود کرپشن کے الزامات کی زد میں آ جائے تو پھر نظام کیسے چلے گا۔۔؟
اگر جیل کے اندر ایک عام قیدی سے لے کر بڑے بااثر کردار تک ہر چیز کا کوئی نرخ مقرر ہو جائے تو پھر یہ صرف کرپشن نہیں رہتی۔یہ ایک مافیا نما نظام بن جاتا ہے۔ایسا نظام جس میں ایک شخص پکڑا بھی جائے تو اصل ہاتھ بچ جاتے ہیں۔ایک چہرہ بدل جاتا ہے، مگر کھیل جاری رہتا ہے۔ایک آفیسر جاتا ہے، دوسرا آ جاتا ہے۔ایک انکوائری ہوتی ہے، دوسری فائلوں میں دفن ہو جاتی ہے۔اور پھر ایک نیا سکینڈل سامنے آتا ہے اور ہم حیران ہو کر پوچھتے ہیں:یہ سب آخر ہو کیسے گیا۔۔؟یہ سب اچانک نہیں ہوتا۔یہ سب ایک دن میں نہیں بنتا۔یہ کرپٹ نظام خاموشیوں سے طاقت پکڑتا ہے۔ سفارشوں سے مضبوط ہوتا ہے۔فائلوں میں دفن ہونے والی انکوائریوں سے زندہ رہتا ہے۔
اور ہر اس شخص سے حوصلہ پاتا ہے جو سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ جیلوں کے اندر موجود کرپشن کے ہر الزام کی صرف رسمی انکوائری نہ ہو بلکہ غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔صرف ایک سپرنٹنڈنٹ کو پکڑ کر یہ تاثر نہ دیا جائے کہ نظام صاف ہو گیا۔اوپر سے نیچے تک دیکھا جائے۔اثاثے دیکھے جائیں۔اختیارات کا استعمال دیکھا جائے۔تعیناتیوں کی مدت دیکھی جائے۔ اندرونی سہولت کاری کا جائزہ لیا جائے۔اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھا جائے کہ:کرپٹ مافیا کے سر پر ہاتھ کس کا ہے۔۔؟کیونکہ جب تک سرپرست بے نقاب نہیں ہوں گے، تب تک کرپشن کے کردار بدلتے رہیں گے مگر کہانی وہی رہے گی۔
میں آج بھی اس جملے کو نہیں بھولا:”آپ نے اپنا کام کیا، میں نے اپنا کام کیا… اب آپ خاموش ہو جائیں۔اگر صحافی خاموش ہو گیا تو پھر شور صرف کرپٹ مافیا کا رہ جائے گا۔اس لیے خاموشی نہیں ہوگی۔
چہرے بے نقاب ہوتے رہیں گے۔
نوٹ: خرم پاشا سینئر صحافی/ کرائم رپورٹر/ اینکر پرسن ہیں جو گزشتہ کئی عرصے سے صحافت اور الیکٹرانک میڈیا سے منسلک ہیں عوامی و انتظامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔



