بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

یو م دفاع ماضی کی قربانی، مستقبل کا حوصلہ

 

چائے کی خوشبو، قوالی کی آواز، نوجوانوں کی ہنسی اور روشن چہروں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹیں۔ محفل اپنے عروج پر تھی۔ نوجوان قوالی سن رہے تھے، چائے پی رہے تھے اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ اتفاق سے میں بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ اسی محفل میں موجود تھا۔ پروگرام ختم ہوا تو نوجوان اپنی بڑی اور خوبصورت گاڑیوں کی طرف بڑھنے لگے۔ میں نے چند نوجوانوں کو روکا اور ان سے ایک سادہ سا سوال کیا، “6 ستمبر کا دن گزر گیا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس دن کیا ہوا تھا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دن کو ہماری تاریخ میں کیوں یاد کیا جاتا ہے؟”

چند نوجوانوں نے فوراً جواب دیا، “جی ہاں، ہمیں معلوم ہے۔” ایک نوجوان نے کہا، “یہ وہ دن ہے جب ہمارے شہداء، ہماری فوج اور اس وقت کے شہریوں نے کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کا مقابلہ کیا اور وطن کے دفاع کی ایک ایسی داستان رقم کی جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔” اس کا جواب سن کر مجھے خوشی ہوئی کہ شاید ہماری نئی نسل اپنے ماضی سے ابھی پوری طرح بیگانہ نہیں ہوئی۔
لیکن میرا سوال ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ میں نے دوسرے نوجوانوں سے بھی یہی سوال کیا۔ کسی نے کہا کہ یہ یومِ دفاع کا دن ہے، کسی کو معلوم تھا کہ اس دن 1965ء کی جنگ کا آغاز ہوا تھا، جبکہ کچھ چہروں پر ایسی خاموشی تھی جیسے میں نے کسی ایسے باب کے بارے میں پوچھ لیا ہو جسے انہوں نے کبھی پڑھا ہی نہ ہو۔

میں نے ان نوجوانوں کو دیکھا اور پھر ان کے چہروں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں کو دیکھا۔ میں نے سوچا کہ آج ہم جس آزادی کے ساتھ چائے پیتے ہیں، قوالی سنتے ہیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اپنی خوبصورت گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس زندگی کی حفاظت کے لیے کتنے لوگوں نے اپنا آج ہمارے کل کے نام کیا تھا؟

6 ستمبر 1965ء پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہوئی اور بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی۔ اس جنگ کے پس منظر میں مسئلہ کشمیر اور اس سے پیدا ہونے والی مسلسل کشیدگی بنیادی عوامل میں شامل تھے۔ پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے- بھرپور مزاحمت کی اور لاہور سمیت مختلف محاذوں پر پاکستانی افواج نے دشمن کی پیش قدمی کا مقابلہ کیا اور جنگ کئی دن تک جاری رہی۔

لیکن تاریخ صرف تاریخوں، قراردادوں اور فوجی نقشوں کا نام نہیں ہوتی۔ تاریخ ان انسانوں کے نام بھی ہوتی ہے جو ان تاریخوں کو اپنے خون سے معنی دیتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کو ایک بڑے عسکری چیلنج کا سامنا تھا، مگر پاکستانی فوج نے جس عزم، حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری قومی تاریخ کا اہم باب ہے۔لاہور کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے پاکستانی جوانوں نے جس بہادری سے مقابلہ کیا، اس نے دفاعِ لاہور کو قومی تاریخ میں ایک یادگار حیثیت دے دی۔

اسی جنگ میں میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے لاہور کے محاذ پر بی آر بی نہر کے دفاع میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور کئی روز تک دشمن کا مقابلہ کرتے ہوے انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی اس بات کی مثال بن گئی کہ وطن کا دفاع صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری بھی ہے جس کے لیے انسان اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔

جنگِ ستمبر کی داستان صرف زمین تک محدود نہیں تھی۔ فضا میں بھی پاکستانی فضائیہ نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ 7 ستمبر کو اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی فضائی کارکردگی جنگِ ستمبر کی تاریخ کا ایک نمایاں واقعہ بن گئی۔ پاکستان نیوی نے بھی سمندری محاذ پر اپنا کردار ادا کیا اور دوارکا کے قریب کارروائی کی۔ یوں زمین، فضا اور سمندر تینوں محاذوں پر پاکستانی مسلح افواج نے اپنے وطن کے دفاع کی ذمہ داری نبھائی۔

لیکن 6 ستمبر کی داستان کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے شاید ہم آج کم یاد کرتے ہیں۔ یہ صرف فوج کی جنگ نہیں تھی بلکہ پوری قوم کے حوصلے کا امتحان تھا۔ محاذ پر سپاہی لڑ رہے تھے تو شہروں میں شہری اپنی فوج کے ساتھ کھڑے تھے۔ مائیں اپنے بیٹوں کے لیے دعائیں کر رہی تھیں، خاندان اپنے پیاروں کی سلامتی کے منتظر تھے، شاعر اپنے اشعار کے ذریعے قوم کا حوصلہ بڑھا رہے تھے، فنکار اپنے فن سے لوگوں کے دلوں میں جذبۂ وطن پیدا کر رہے تھے اور لکھاری اپنے قلم کے ذریعے قوم کو اتحاد اور ثابت قدمی کا پیغام دے رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے شہریوں نے ثابت کیا کہ قومی دفاع صرف سرحد پر موجود سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری اپنے اپنے دائرے میں اس دفاع کا حصہ بن سکتا ہے۔

میں نے ان نوجوانوں سے کہا کہ ملک صرف ہتھیاروں سے جنگیں نہیں جیتتے، ملک جنگیں حوصلے، اتحاد اور قربانی سے جیتتے ہیں۔ ہتھیار ہاتھ میں موجود طاقت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے والا حوصلہ قوم کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ 1965ء میں پاکستان کے دفاع کی ایک بڑی طاقت یہی قومی حوصلہ اور اتحاد تھا۔

آج ہم ایک مختلف دور میں کھڑے ہیں۔ جنگ کے طریقے بدل چکے ہیں، خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے اور قومی سلامتی کا تصور بھی صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہا۔ مضبوط معیشت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، داخلی امن، قانون کی پاسداری اور قومی اتحاد بھی ایک مضبوط ملک کے دفاع کا حصہ ہیں۔ اس لیے 6 ستمبر کا پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم ماضی کی ایک جنگ کو یاد کریں بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے حال کو مضبوط اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

سب سے اہم سوال نئی نسل کے حوالے سے ہے۔ اگر آج کا نوجوان اپنے ملک کی تاریخ سے واقف نہیں ہوگا تو وہ ان قربانیوں کی قدر کیسے کرے گا جن کے نتیجے میں اسے ایک آزاد ملک، ایک شناخت اور ایک مستقبل ملا؟ تاریخ صرف کتابوں میں بند رکھنے کے لیے نہیں ہوتی۔ تاریخ نسلوں کی تربیت کرتی ہے۔ جو قوم اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے مستقبل کی سمت بھی کھو دیتی ہے، جبکہ جو قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے کردار، قربانی اور ذمہ داری کی زندہ مثالیں رکھتی ہے۔

اپنے ہیروز کو یاد رکھنا صرف ماضی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے ہیروز کی تربیت بھی ہے۔ جب ایک بچہ میجر عزیز بھٹی شہید کی داستان سنتا ہے، جب ایک نوجوان ایم ایم عالم کی بہادری کے بارے میں پڑھتا ہے، جب کوئی طالب علم ان شہداء کے بارے میں جانتا ہے جنہوں نے وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل کردار ہے۔

ہیرو صرف جنگ کے میدان میں پیدا نہیں ہوتے۔ ایک استاد اپنے کردار سے ہیرو بن سکتا ہے، ایک ڈاکٹر اپنی خدمت سے، ایک سائنس دان اپنی تحقیق سے، ایک سپاہی اپنی قربانی سے اور ایک عام شہری اپنے فرض کی ایمانداری سے قوم کا ہیرو بن سکتا ہے۔ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کے کرداروں کو یاد رکھنے کے ساتھ اپنے حال کے کردار کو بھی سمجھتی ہیں۔

6 ستمبر ہمیں جنگ کی خواہش نہیں سکھاتا بلکہ امن کی قدر سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن کمزور قوموں کا تحفہ نہیں بلکہ باوقار اور متحد قوموں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی یومِ دفاع منانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تقریبات، پرچم کشائی اور ملی نغموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ بتانا چاہیے کہ پاکستان کی تاریخ کن قربانیوں سے لکھی گئی ہے اور اس ملک کے تحفظ کے لیے کتنے لوگوں نے اپنا آج ہمارے کل کے نام کیا۔

وہ محفل اب ختم ہو چکی تھی۔ چائے کے کپ خالی ہو چکے تھے، قوالی کی آواز خاموش ہو گئی تھی اور نوجوان اپنی گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے، لیکن میرے ذہن میں وہی سوال باقی تھا کہ کیا ہماری نئی نسل اپنے ہیروز کو جانتی ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ اگر ہم نے انہیں اپنے ہیروز کی کہانیاں نہ سنائیں تو کل کے ہیروز کہاں سے پیدا ہوں گے؟

6 ستمبر گزر گیا، تقریبات بھی ختم ہوگئیں، پرچم لہرائے گئے، شہداء کو سلام پیش کیا گیا اور ملی نغموں سے فضا گونجتی رہی۔ مگر 6 ستمبر کا اصل تقاضا ایک دن کی تقریب سے کہیں بڑا ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو صرف ایک دن کے لیے یاد نہیں کرنا بلکہ اسے اپنی نسلوں کی تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا کہ آج ان کے چہروں پر جو مسکراہٹ ہے، جس آزادی کے ساتھ وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور جس ماحول میں وہ اپنے خواب دیکھ رہے ہیں، اس کے پیچھے ان گنت قربانیوں کی داستان موجود ہے۔

کیونکہ جو قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے، وہ صرف اپنے ماضی کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ اپنے مستقبل کے لیے نئے ہیروز پیدا کرتی ہے۔ اور جو قوم اپنی قربانیوں کی داستانیں آنے والی نسلوں کو سناتی رہتی ہے، وہ اپنی تاریخ کو زندہ رکھتی ہے۔شاید اسی لیے 6 ستمبر صرف ماضی کا ایک دن نہیں، آنے والے کل کی تعمیر کا سبق بھی ہے۔ آج ان نوجوانوں کے چہروں پر جو مسکراہٹ تھی، اسے دیکھ کر مجھے اپنے شہداء یاد آئے۔ ممکن ہے ان مسکراہٹوں کے پیچھے کسی شہید کی قربانی چھپی ہو۔ ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ قربانی کبھی فراموش نہ ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button