بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

صوبے ہرصورت بنیں گے

بے لگام / ستارچوہدری

 

کنویں کو پنجابی میں ’’کھوہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے کے گاؤں بہت پرانے ہیں، قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کے۔ ان زمانوں میں کھوہ صرف پانی کا ذریعہ نہیں ہوتا تھا، یہ کسی زمیندار کی حیثیت، خوش حالی اور رعب کا تعارف بھی ہوا کرتا تھا۔پانی نکالنے کا ایک خاص نظام تھا جسے ’’رہٹ‘‘ کہتے تھے۔

کنویں کے اندر ایک بڑا پہیہ کھڑا ہوتا، اس پہیے کے ساتھ ایک لمبی زنجیر بندھی ہوتی جس پر مٹی کے برتن یا بالٹیاں ( ٹنڈاں ) لگی ہوتیں۔ کنویں سے کچھ فاصلے پر ایک دوسرا پہیہ زمین پر لیٹا ہوتا۔ اس کے ساتھ بیل، اونٹ یا بھینس باندھ دی جاتی۔ جانور دائرے میں گھومتا رہتا، پہیہ گھومتا، اس کے دانت دوسرے پہیے کو حرکت دیتے اور یوں کنویں کے اندر لگا پہیہ چل پڑتا۔

بالٹیاں پانی میں اترتیں، بھرکراوپر آتیں اورنالی میں پانی انڈیل دیتیں۔ نالی سے پانی کھیتوں کی طرف چلا جاتا۔ یوں ایک جانور کے مسلسل چکرکاٹنے سے پورا کھیت سیراب ہوجاتا۔بڑے زمینداروں کے اپنے کھوہ ہوتے تھے، چھوٹے زمیندار مل کر ایک کھوہ بنوا لیتے۔ پھر ان کھوہوں کے نام بھی پڑجاتے۔ ارائیاں والا کھوہ، جٹاں والا کھوہ، چوہدریاں والا کھوہ، نمبرداراں والا کھوہ، ڈوگراں والا کھوہ۔وقت گزرگیا، رہٹ ختم ہوگئے، کھوہ سوکھ گئے، ٹیوب ویل آگئے، مگران کھوہوں کے نام آج بھی زمینوں کے ڈیرے پہچانتے ہیں۔

ہمارے علاقے میں مہر اکبر نام کے ایک بڑے زمیندار ہوا کرتے تھے۔ ان کے چار کھوہ تھے اور علاقے میں ان کا خاصا رعب تھا۔ لوگ ان کی زمینوں سے زیادہ ان کے کھوہ گنا کرتے تھے۔۔۔۔ ’’ مہر صاحب کے چار کھوہ ہیں ‘‘ یہ جملہ ہی ان کی حیثیت بتانے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔۔۔دیہات میں کوئی بڑا زمیندار ہو،دولت ہو،لیکن اس کی کسی سے دشمنی نہ ہو،یہ ناممکن ہے،دولت کبھی بھی کسی کے پاس اکیلی نہیں آتی،حسد،سازش،دشمنی ساتھ لیکرآتی ہے،مہراکبرکی بھی کچھ دشمنیاں تھیں۔

بڑے لوگوں کی دشمنیاں بھی چھوٹی کہاں ہوتی ہیں۔ مگر مہر صاحب ایک بات خوب سمجھتے تھے؛ طاقت صرف زمین، دولت یا بندوق سے نہیں ہوتی، اصل طاقت اپنے لوگوں کو ساتھ رکھنے میں ہوتی ہے۔۔۔ بہرحال مہر صاحب کاعلاقے میں سکہ چلتا تھا،دشمنوں پر دھاک بٹھائی ہوئی تھی۔اس کیوجہ اسکے مالی حالات تھے،مہرصاحب کے آٹھ بیٹے تھے۔ سب جوان ہوچکے تھے، شادیاں ہوچکی تھیں اور اب باری زمین تقسیم کرنے کی تھی۔۔۔۔آٹھ بیٹے تھے۔۔۔ چار کھوہ۔ یہ مہراکبر کا اصل امتحان تھا۔۔۔؟ لڑائی جھگڑوں کا خدشہ تھا، لیکن مہر صاحب بڑے سیانے تھے،جانتے تھے،اگر گھرمیں لڑائی ہوئی تو وہ اندرونی طورپرکمزور ہوجائیں گے،جب اندرونی طورپرکمزورہونگے تو تمام دشمن سراٹھا لیں گے اورانکے ایک عرصے سے علاقے میں چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور دشمن پھر گن گن کر بدلے لیں گے۔

مہر صاحب سیانے تھے،وہ مزید طویل عرصے تک علاقے میں ’’ بدمعاشی ‘‘ قائم رکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔وہ کافی دن خاموش رہے۔ جانتے تھے گھر کے اندر کھینچی ہوئی ایک لکیر کبھی کبھی باہر کے دشمنوں کے لیے دروازہ بن جاتی ہے۔مہر اکبر نے ایک شام اپنے آٹھوں بیٹوں کو ڈیرے پر بلا لیا۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ سامنے وہی پرانا کھوہ تھا جس کے پانی سے کبھی ان کے کھیت لہلہاتے تھے۔

ایک بیٹے نے کہا، ابا جی! چار کھوہ ہیں، آٹھ بھائی ہیں، باری باری کرلیں گے۔دوسرا فوراً بولا، باری سے کام نہیں چلے گا، ہر ایک کا اپنا حصہ ہونا چاہیے۔مہر اکبرخاموشی سے سب کی بات سنتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آج بات صرف کھوہوں کی ہے، کل زمین کی ہوسکتی ہے، پرسوں ڈیرے کی، اور پھر شاید گھر کی۔

انہوں نے بیٹوں کی طرف دیکھا۔تم آٹھ ہو، کھوہ چارہیں۔ مسئلہ کھوہوں کا ہے یا تمہارا۔۔۔۔؟کسی نے جواب نہیں دیا۔مہر اکبر اٹھے، لاٹھی ہاتھ میں لی اور کھوہ کی طرف چل پڑے۔ بیٹے بھی ان کے پیچھے ہوگئے۔وہ پہلے کھوہ کے پاس رکے، پھر دوسرے، تیسرے اورچوتھے کھوہ کے پاس گئے۔ کچھ دیر انہیں دیکھتے رہے۔ جیسے پرانے کنوؤں کو نہیں، کوئی نیا راستہ تلاش کر رہے ہوں۔۔۔۔ پھراچانک بولے،چارکھوہ ہیں تو آٹھ کیوں نہیں ہوسکتے۔۔۔۔؟بیٹوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔آٹھ کیسے ہوں گے۔۔۔۔؟ ایک بیٹے نے پوچھا۔۔۔۔

مہر اکبرمسکرائے۔۔۔۔ جس زمین نے چار کھوہ دیے ہیں، وہ آٹھ بھی دے سکتی ہے۔ اگلے ہی دن مہراکبرنے زمین کے دوسرے حصوں میں نئے کھوہ کھدوانے کا حکم دے دیا۔ گاؤں والے حیران تھے۔ کسی نے پوچھا، مہر صاحب! پہلے ہی چار کھوہ ہیں، نئے کھوہوں کی کیا ضرورت پڑگئی۔۔۔۔؟ مہراکبر نے مسکرا کرجواب دیا، گھر بڑا ہو تو جگہ بھی زیادہ چاہیے۔ چند ماہ بعد چار نئے کھوہ بھی تیار ہوگئے۔

اب آٹھ بیٹے تھے اور آٹھ کھوہ ۔۔۔۔ہربیٹے کے حصے میں ایک،ایک کھوہ آگیا۔ کسی کا جھگڑا نہ ہوا، کسی نے کسی کا راستہ نہ روکا۔ جو بات کل گھر کے اندراختلاف پیدا کرسکتی تھی، وہ آج سب کے لیے خوشی بن گئی۔مہراکبر کا گھرجڑا رہا، بیٹوں نے اپنے اپنے کھوہ سنبھال لئے ،مہراکبر شملا اونچا کرکے ڈیرے پر بیٹھتے رہے،ان کی چودھراہٹ میں کوئی فرق نہ آیا،اس کا حکم چلتا رہا،دشمنوں پررعب طاری رہا،تمام مخالفین پران کا خوف طاری رہا۔۔۔

سیانے کہتے ہیں، گھروں میں بغاوت یا سازش اس وقت ہوتی ہے،جب گھر کے بڑے، چھوٹوں کوآگے نہ آنے دیں،انہیں ترقی کی منزلیں طے نہ کرنے دیں،ان کی شناخت نہ بننے دیں،تاریخ گواہ ہے،بیٹوں نے باپ قید کئے ہیں،ان کا خون کیا ہے،بھائیوں کی بھائیوں سے جنگیں ہوئی ہیں۔۔۔مہر اکبر قابل آدمی تھے،وہ ان چیزوں کو جانتے تھے،سب بیٹوں کو ایک ایک ’’ریاست‘‘ مل گئی،نہ کسی کو شکوہ،نہ گلا،سب خوش مہر صاحب کی اقتدار سلامت۔۔۔

آپ سوچ رہے ہونگے،آج میں نے اس طرح کا بے تکا سا کالم کیوں لکھ دیا۔۔۔۔؟ بس ایسے ہی گاؤں کی یاد آئی، اور کالم لکھ دیا،چلیں ،اس سے کم ازکم ہماری نئی نسل کو کچھ معلومات توملیں گی،مزے والی بات سنیں ،کالم لکھ ہی رہا تھا، گاؤں سے میرے ایک کلاس فیلوکی کال آگئی۔

کہنے لگے، چوہدری صاحب! ایک بات بتائیں، بس ہاں یا ناں میں جواب دینا، لمبی بحث کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ میں نے کہا، یار آپ نے مجھے پیر سمجھا ہے یا نجومی ۔۔۔۔ ؟ وہ ہنس دیا،کہنے لگا،آپ صحافی بھی تو آجکل نجومی بنے ہوئے ہیں،صبح ،شام ٹی وی پر بیٹھ کر پیشگوئیاں ہی کرتے رہتے ہو،خبریں کب دیتے ہو۔۔۔۔؟ جی جناب حکم کریں۔۔۔؟کہنے لگے، نئے صوبے بنیں گے یا نہیں۔۔۔۔؟ میرے ذہن میں اس وقت مہراکبر کی کہانی چل رہی تھی۔۔۔۔میں نے زیادہ سوچے، سمجھے بغیر جواب دیا، نئے صوبے ہرصورت بنیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button