
اسلام آباد:( وی او این )سپریم کورٹ نے محکمہ زراعت پنجاب کے ملازم محمد نصیر کی مبینہ کرپشن کیس میں جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ تحقیقات کے لیے ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فئیر ٹرائل کا حق تو ہر ایک کو ملنا چاہیے۔جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ دوبارہ تحقیقات کسی نئے افسر سے کروائی جائیں۔
درخواست گزار کے وکیل ثاقب بھٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو کرپشن الزامات پر جبری ریٹائرڈ کیا گیا، قانون کے مطابق انکوائری نہیں کی گئی اور سزا کے طور پر جبری ریٹائرمنٹ دے دی گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کرپشن ثابت ہو تو پھر جبری ریٹائرمنٹ سزا نہیں ہوتی۔ وکیل نے کہا کہ سرکاری ملازم کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے سروس لنتھ کو دیکھا جاتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کرپشن ثابت ہو جائے تو پھر سروس لنتھ نہیں دیکھی جاتی۔
وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ معزز عدالت کرپشن کے حوالے سے کوئی فیصلہ دے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ابھی کیس واپس بھیج رہے ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیس واپس گیا تو ملازمت جا بھی سکتی ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ میں انکوائری کے لیے تیار ہوں۔



