google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

خبر سے جنگ تک، بھارتی پروپیگنڈا اور حقیقت کا جواب

عاصم رضا خیالوی

ایک زمانہ تھا جب خبر صرف اخبار میں پیدا ہوتی تھی۔ صبح اخبار گھر پہنچتا، لوگ اس کے صفحات کھولتے، کسی اہم تصویر کو کاٹ کر سنبھال لیتے اور کئی برس بعد بھی وہ تصویر کسی پرانی الماری سے نکل کر ایک پوری داستان سنا دیتی۔ اس دور میں خبر دیر سے پہنچتی تھی، مگر خبر اور افواہ کے درمیان ایک واضح فاصلہ موجود تھا۔

پھر دنیا بدل گئی۔ ٹیلی وژن آیا، چوبیس گھنٹے کے نیوز چینلز آئے، پھر موبائل فون نے خبر کو ہر شخص کی جیب میں پہنچا دیا اور سوشل میڈیا نے عام انسان کو بھی رپورٹر، کیمرہ مین، مبصر اور ناشر بنا دیا۔ اب خبر کسی ایک اخبار یا چینل کی محتاج نہیں رہی۔ ایک واقعہ دنیا کے ایک کونے میں ہو اور چند سیکنڈ بعد دوسرے کونے میں لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔

لیکن اس انقلاب نے خبر کے ساتھ ایک نئی جنگ بھی پیدا کر دی ہے۔ یہ جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، یہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ میزائل چلنے سے پہلے بیانیہ چلتا ہے، حملہ ہونے سے پہلے الزام سامنے آتا ہے اور کبھی کبھی میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل ہونے سے پہلے ٹیلی وژن اسکرین پر فتح کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی اس نئی اطلاعاتی جنگ کی ایک بڑی مثال بن کر سامنے آئی۔ Reuters Institute کی تحقیق کے مطابق بھارتی ٹی وی کے بعض چینلز نے ایسے دعوے نشر کیے کہ بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہو چکی ہے، کراچی پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور لاہور و اسلام آباد میں بھارتی کارروائیاں ہو رہی ہیں، حالانکہ یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ اسی تحقیق میں بھارتی فیکٹ چیکرز نے بتایا کہ چند گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا سے پھیلنے والی غلط معلومات ٹی وی، واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز تک پہنچ رہی تھیں۔

یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ خبر غلط کیوں تھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ خبر کو فلم بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
بھارت دنیا کی بڑی فلمی صنعتوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ فلم میں کہانی ہوتی ہے، ہیرو ہوتا ہے، ولن ہوتا ہے، جذبات ہوتے ہیں، پس منظر میں موسیقی ہوتی ہے اور چند گھنٹوں میں ایک پوری دنیا تخلیق کر دی جاتی ہے۔ لیکن خبر فلم نہیں ہوتی۔ خبر میں کردار اسکرپٹ کے مطابق نہیں چلتے، خبر میں ثبوت بولتے ہیں۔

اور پھر اس کہانی میں ایک ایسا کردار سامنے آیا جس نے پورے بیانیے کو ایک لمحے میں سوال بنا دیا: محمد آصف۔بھارتی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک شخص، جسے آصف فوجی کے نام سے بیان کیا گیا، کو لشکرِ طیبہ کا اہم کمانڈر قرار دے کر کشمیر میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسے ایک بڑی سکیورٹی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔

لیکن پھر کیمرہ آن ہوا۔پاکستانی فوج نے محمد آصف نامی ایک شخص کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔وہ شخص زندہ تھااس نے خود بتایا کہ اس نے میڈیا میں اپنی موت کی خبر دیکھی اور لوگوں نے اسے فون کر کے پوچھنا شروع کر دیا کہ کیا وہ واقعی مارا جا چکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی دعوے کو غلط شناخت قرار دیا۔یہ منظر کسی فلم کا حصہ نہیں تھا۔ نہ کوئی ڈائریکٹر تھا، نہ مصنوعی خون، نہ پس منظر میں موسیقی۔ ایک انسان کیمرے کے سامنے بیٹھا تھا جسے ایک دن پہلے خبر میں مار دیا گیا تھا۔
یہاں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے: اگر جس شخص کی ہلاکت کو کامیابی بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، وہ اگلے دن خود دنیا کے سامنے زندہ بیٹھا ہو تو خبر کہاں غلط ہوئی؟

ممکن ہے معاملہ غلط شناخت کا ہو، ممکن ہے اطلاعاتی نظام میں غلطی ہوئی ہو۔ حتمی ذمہ داری کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہونا چاہیے۔ لیکن صحافت کے لیے بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے: کسی انسان کی موت کی خبر جاری کرنے سے پہلے تصدیق کا معیار کیا تھا؟
محمد آصف کی کہانی اسی لیے اس پورے مضمون کا مرکزی کردار ہے، کیونکہ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ اس دور کی کہانی ہے جس میں جنگ کے دوران خبر خود ایک ہتھیار بن سکتی ہے۔

اور جب خبر ہتھیار بن جائے تو سچ سب سے پہلے زخمی ہوتا ہے۔یہ بات صرف پاکستان نہیں کہہ رہا۔ بھارتی فیکٹ چیکرز نے بھی اپنے ہی ملک کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی متعدد غلط اطلاعات کی نشاندہی کی۔ جنگی ماحول میں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات نے بہت تیزی سے جگہ بنائی اور پھر ایک دوسرے کو تقویت دیتی رہیں۔یہاں تک کہ بھارتی میڈیا کے اندر سے بھی سوال اٹھے کہ جنگی حالات میں صحافت کہاں ختم ہوتی ہے اور قوم پرستانہ بیانیہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ایک اور حقیقت سمجھنی ہوگی۔ دنیا بدل چکی ہے۔کبھی ریاست کے پاس خبر پھیلانے کے لیے صرف چند اخبارات اور سرکاری ذرائع ہوتے تھے۔ آج ایک عام شہری کے ہاتھ میں موجود موبائل فون پوری دنیا کے سامنے ایک متبادل حقیقت پیش کر سکتا ہے۔ اب سیٹلائٹ تصاویر ہیں، موبائل ویڈیوز ہیں، آزاد صحافی ہیں، فیکٹ چیکرز ہیں، ڈیجیٹل آرکائیوز ہیں اور سب سے بڑھ کر وقت ہے۔اور وقت وہ فیکٹ چیکر ہے جسے خاموش کرنا آسان نہیں۔

دنیا کے بڑے طاقتور ممالک میں بھی ایسے حکمران موجود ہیں جن کی خارجہ پالیسیوں اور جنگی فیصلوں نے پوری دنیا کو بارہا تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے بنیامین نیتن یاہو اور بھارت کے نریندر مودی اپنی اپنی سیاسی ترجیحات اور عالمی پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی بحث کا مرکز رہے ہیں۔

یہاں کسی شخص کی ذہنی کیفیت پر فیصلہ دینا مقصود نہیں، اصل سوال پالیسیوں کا ہے؛ وہ پالیسیاں جو جنگ کو روکنے کے بجائے کشیدگی بڑھا سکتی ہیں اور جن کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی، خوراک اور انسانی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔آج دنیا ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی ایک طاقتور ملک کی غلط حکمت عملی کا نقصان پوری انسانیت کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی کہانی ایک مختلف رخ اختیار کرتی ہے۔

پاکستان خود کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا نشانہ رہا ہے۔ اس کے شہریوں، فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے کئی مواقع پر سفارت کاری اور مذاکرات کو جنگ کے مقابلے میں ترجیح دینے کی کوشش کی ہے۔پاکستان کے اندر سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان پالیسی اختلافات بھی اپنی جگہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ قومی سلامتی اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا ہو تو پاکستان کی ریاستی سطح پر امن اور مذاکرات کی بات سامنے آتی رہی ہے۔

2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار کیا۔ جنگ کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی، سمندری تجارت اور خطے کے دوسرے ممالک تک پہنچے۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے لیے سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا۔یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ جس ملک پر برسوں سے دہشت گردی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے، وہی ملک خطے میں مزید جنگ روکنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی ادارو کو ہر معاملے میں بے خطا قرار دے دیا جائے۔ ریاستوں کا احتساب ہونا چاہیے، فوجی طاقت کا بھی احتساب ہونا چاہیے، حکومتوں کی پالیسیوں پر بھی سوال ہونا چاہیے اور میڈیا کو بھی سوال پوچھنے چاہئیں۔ لیکن سوال سب سے ہونا چاہیے۔ یہی صحافت کا بنیادی اصول ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل جنگ شاید صرف سرحد پر نہیں، بیانیے کی سطح پر بھی ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات اور بھارت کے خلاف پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات، دونوں کو ثبوت، تحقیقات اور آزاد ذرائع کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

اگر بلوچستان میں کسی دہشت گرد کارروائی کے پیچھے کسی بیرونی ریاست کے ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس کے لیے شواہد سامنے آنے چاہئیں۔ اگر افغانستان میں کسی ملک کی سرگرمیوں کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام سے جوڑا جاتا ہے تو اس کے لیے قابلِ تصدیق ثبوت پیش کیے جانے چاہئیں۔ اور اگر پاکستان پر کسی دہشت گرد کارروائی کا الزام لگایا جاتا ہے تو پاکستان سے بھی سوال ہونا چاہیے اور ثبوت بھی مانگا جانا چاہیے۔

دنیا اب صرف الزام سن کر فیصلہ نہیں کر سکتی۔محمد آصف کا واقعہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ ایک انسان کو خبر میں مارا جا سکتا ہے، مگر اگر وہ اگلے دن کیمرے کے سامنے زندہ بیٹھا ہو تو خبر کا پورا محل ہل جاتا ہے۔اور پھر سوال صرف بھارت سے نہیں، پوری دنیا سے ہے۔
ہم کب تک جنگ کو ٹیلی وژن کا تماشا بناتے رہیں گے؟ کب تک کسی ملک کے اینکر کی چیخ کو حقیقت سمجھا جائے گا؟ کب تک ایک میزائل کو فتح اور ایک لاش کو ریٹنگ میں تبدیل کیا جائے گا؟ کب تک قوموں کو بتایا جائے گا کہ دشمن کو ختم کر دینا ہی کامیابی ہے؟
دنیا کو شاید اب ایک نئے میڈیا اخلاقیات کی ضرورت ہے۔

ایسی صحافت جو جنگ سے پہلے انسان کو دیکھے، الزام سے پہلے ثبوت دیکھے، حکومت سے سوال پوچھے، خواہ حکومت اپنی ہو یا مخالف کی، اور ایسی صحافت جو یہ یاد رکھے کہ ایک غلط خبر کبھی کبھی ایک درست میزائل سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
کیونکہ میزائل ایک عمارت گراتا ہے، مگر جھوٹی خبر پوری قوموں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر سکتی ہے۔محمد آصف کی تصویر اسی لیے اس دور کی ایک علامت بن گئی ہے۔ ایک طرف خبر تھی: وہ مارا گیا۔ دوسری طرف کیمرہ تھا: وہ زندہ تھا۔ اور درمیان میں ایک پوری دنیا کھڑی تھی جو فیصلہ کر رہی تھی کہ وہ کس پر یقین کرے۔شاید یہی آج کے میڈیا دور کا سب سے بڑا سوال ہے: ہمیں خبر چاہیے یا کہانی؟

اگر کہانی چاہیے تو فلم دیکھ لیجیے۔
اگر خبر چاہیے تو ثبوت مانگئے۔
کیونکہ دنیا اب اتنی بدل چکی ہے کہ کسی شخص کو خبر میں مار دینا ممکن ہے، مگر حقیقت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ممکن نہیں۔
حقیقت دیر سے آ سکتی ہے، خاموش رہ سکتی ہے، کبھی کبھی دب بھی سکتی ہے، مگر جب وہ سامنے آتی ہے تو اپنے ساتھ ایک سوال ضرور لاتی ہے:آخر ہمیں اتنے عرصے تک بتایا کیا جا رہا تھا؟اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں پروپیگنڈا ختم ہوتا ہے اور صحافت شروع ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button