
ادب الفاظ کے جوڑ توڑ یا خیال آرائی سے الگ کسی قوم کے اجتماعی حافظے اور تہذیب کا استعارہ بھی ہوتا ہے۔ ادب کا نام سنتے ہی ذہن میں حلقہ اربابِ ذوق کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں جو زبان و ادب کی زرخیز تاریخ ہے۔ یہ ایسا داستان نامہ ہے جس نے گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے میں فکری و نظریاتی زلزلوں، بندشوں اور تقسیم کے آلام کے باوجود ادب کے دامن کو بے مثال قلمکاروں اور بے باک نقادوں سے مالا مال کیاہے۔

اسی حلقہ کی 87 سالہ عظیم الشان تاریخ میں گزشتہ دنوں ایک ایسی شام کا اضافہ ہوا، جس نے ماضی اور حال کو ایک مضبوط ڈور میں پرو کر مستقبل کے لیے محفوظ کر دیا۔قائدِ اعظم لائبریری، لارنس گارڈن لاہور کا پرشکوہ ہال اُس شام ایک عجیب سحر اور تقدس کے ہالے میں لپٹا ہوا تھا۔ حلقہ اربابِ ذوق کایہ اجلاس تاریخ کے دھندلکے سے سنہری اوراق نکال کر سامنے رکھ دینے والی یادگار گھڑیاں تھیں۔ صدارت کی مسند پرڈرامہ نگار،دانشور اور سابق سیکرٹری حلقہ اصغر ندیم سید بیٹھے تھے۔ سٹیج پر ماضی اور حال کے عہدیداروں کی موجودگی اس بات کا اعلان تھی کہ روایت کا تسلسل کسی موڑ پر نہیں ٹوٹا۔ اس شام ان جاوداں نقوش کو بھی یاد کیا گیا جو اب آنکھوں سے اوجھل ہیں، مگر ان کی تابندگی حلقے میں آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔
سٹیج کا کنٹرول جب موجودہ سیکرٹری آفتاب جاوید نے سنبھالا توسٹیج پر جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش اور مجلس عاملہ کی متحرک رکن شاذیہ مفتی بھی موجود تھیں۔ ایسا لگا جیسے کئی دہائیوں سے سفر کرتی ہوئی حلقے کی کشتی اب پرسکون ساحل اور تاریخی موڑ پر آ لگی ہے۔ لائبریری کے ایک گوشے کو حلقہ اربابِ ذوق کے 87 سالہ نادر ریکارڈ، دستاویزات،تصاویر سنبھالنے کے ساتھ سابق عہدیداروں کی تصاویر کو بھی ان دیواروں پر سجا دیا گیا۔

سابق ریکارڈ جمع کرانے میں پہل سبطین رضا، طینوش فردوس اور جاوید آفتاب نے کی۔ان کی کاوشوں اور انتظامیہ کے جنون کو حاضرین اور مہمانوں نے کھلے دل سے سراہا۔صدرِ مجلس اصغر ندیم سید نے جب بولے تو یوں لگا جیسے ماضی کے کواڑ کھل گئے ہوں۔ انہوں نے حلقے کو ایک ادارہ کے بجائے جیتی جاگتی روایت قرار دیااورپاک ٹی ہاؤس کے سراج دین اور بیرے الٰہی بخش کا ذکر بڑی محبت سے کیا۔ انتظار حسین، حسن رضوی، عطا الحق قاسمی اور صفدر میر جیسے جید ناموں کے تذکرے سے ہال ماضی کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی اور بزنس کے لیے اپنے ادب، تہذیب اور تمدن کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ٹیکنالوجی خادم تو ہو سکتی ہے، روح نہیں۔ ولیم فوکنر اور کافکا کے حوالہ جات سے انہوں نے عصرِ حاضر کے اس المیے کی نشاندہی کی کہ انسان کہیں مشین کے شیڈز میں اپنی روح گم نہ کر دے۔
سینئر ڈرامہ نگار شاہد محمود ندیم نے جب اپنی 55 سالہ وابستگی کے اوراق الٹے تو وائی ایم سی اے کے ہال، انور سجاد کا بنایا ہوا حلقے کا لوگو اور ساٹھ کی دہائی کی فکری تحریکیں نظروں کے سامنے ٹھہر گئیں۔ انہوں نے وقت کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے ایک بصیرت افروز بات کہی کہ حلقے کو اپنی عظیم الشان روایت کو قائم رکھتے ہوئے اب کتاب سے ڈیجیٹل کے سفر کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب کاشف منظورنے بتایا کہ حلقہ اربابِ ذوق کا 87 سالہ تاریخی اور نادر سرمایہ اب بادِ مخالف کے تھپیڑوں سے محفوظ، ایک قلعے میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس تاریخی پیش رفت اور لائبریری انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت کا تمام تر سہرا اپنے دوست امجد طفیل کے سر باندھا، جبکہ حلقے کی موجودہ انتظامیہ اور خصوصاً شاذیہ مفتی کی کاوشوں کوسراہا۔ کاشف منظور کا کہنا تھا کہ یہ کارنر تاریخِ ادب میں ایک روشن سنگِ میل بن کر جگمگائے گا۔ مولانا محمد حسین آزاد کے پڑپوتے و سابق سیکرٹری آغا سلمان باقر کے جذبات اس بات کا اعتراف تھے کہ پاک ٹی ہاؤس کی ٹوٹی کرسیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر اب تاریخ کے محفوظ قلعے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاذیہ مفتی اور حلقے کی موجودہ قیادت کا یہ اقدام تاریخ میں زندہ رہے گا۔

اس یادگار اجلاس میں جب سابق سیکرٹریوں نے اپنے ادوار کی تہوں کو کھولا، تو ماضی کا ایک تلاطم خیز سمندر نظروں کے سامنے موجزن ہو گیا۔غلام حسین ساجد نے اس دور کی یاد تازہ کی جب وہ دو دھڑوں کے اتحاد کی علامت بن کر ابھرے اور 78 سالہ تاریخ کو یکجا کرنے کا خواب دیکھا۔ امجد طفیل نے اس فکر انگیز سچائی کی جانب اشارہ کیا کہ حلقے کی مجلسی تنقید و تربیت نے جو بصیرت اور قلمی پختگی بخشی، وہ کسی روایتی درسگاہ میں ممکن نہیں۔عامر فراز نے ٹی ہاؤس کی بندش کی یاد تازہ کی۔

فٹ پاتھوں، سڑکوں اور”کیری ہومز“ میں ہونے والی نشستوں میں انتظار حسین، عابد حسن منٹو اور جیلانی کامران جیسے قد آور لوگ ادب کی آبرو بچانے کیلئے آتے رہے۔ انہوں نے پاک ٹی ہاؤس کی تالابندی کے بعد چوپال اورپھر ایوانِ اقبال تک کی دربدری کے سفر کو بیان کیا۔زاہد حسن کے تلخ و شیریں تجربات نے محفل کو مسحور کر دیا۔

انگریزی فلم کی نمائش پر بعض لوگوں کا برہم ہونا اور ”لاحول“ پڑھنا اور پریس کلب کے سالانہ جلسے میں پستول بردار شخص کے سامنے ڈاکٹر خواجہ زکریا کے تدبر کا تذکرہ ماضی کا ایک نایاب عکس تھا۔
حلقہ اربابِ ذوق کا یہ سفر روایت کی پاسداری،تغیر اور حالات سے نبرد آزما ہونے کا نام بھی ہے۔عقیل اختر نے اپنے سیکرٹری شپ کے دور کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کسی دفتری یا قانونی رجسٹریشن کے محتاج نہیں ہوتے،جو لوگ حلقے کا لوگو رجسٹر کروانے کی باتیں کرتے ہیں،وہ آج کایہ تاریخ ساز اجلاس دیکھ لیں۔ حماد نیازی نے اپنے دور میں کورونا کی وبا اور مشکلات کو افسانوی پیرائے میں بیان کرتے ہوئے یاد دلایا کہ کس طرح حلقے نے ڈیجیٹل نشستوں کے ذریعے اپنے ادبی اور فکری تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیا،اسی طرح سبطین رضا،زاہد نبی اور سلمان رسول اشرف نے بھی حلقہ سے متعلق گفتگو کی۔

شاذیہ مفتی نے اپنے دورکی بڑی کاوش قائداعظم لائبریری کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کو ادب کی بقا کا ضامن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے شمع جلا دی ہے اور امید ہے کہ آنے والی نسلیں اس روشنی کو ماند نہیں پڑنے دیں گی۔بعد ازاں طینوش فردوس، فرح رضوی اور شاذیہ مفتی نے فیتہ کاٹ کر حلقہ کے گوشہ کا افتتاح کیا جہاں 1939سے تاحال تمام عہدیداروں کی تصاویر دیوار پر سجائی گئی تھیں اور ریکارڈ بھی الماری میں رکھ دیا گیا۔یہ شام ایک عہد کی تجدید تھی کہ جب تک زبان زندہ ہے، فکر کی آزادی اور تنقید کا یہ دیا روشن رہے گا۔ حلقہ اربابِ ذوق کا یہ محفوظ ریکارڈ ہمارے ادبی اور فکری ارتقا کا وہ آئینہ ہے جس میں آنے والی نسلیں اپنا چہرہ پہچان سکیں گی۔







