انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

حضرت ابو ایوب انصاریؓ اور صدیوں پر محیط عقیدت کے لمحے

فیصل درانی/حصہ (سوئم)

لاہور سے استنبول کا سفر محض ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا نام نہیں۔ دونوں شہروں کی فضا میں تاریخ تہذیب مذہب اور روایت کی کئی پرتیں ایک دوسرے سے ملتی محسوس ہوتی ہیں۔ لاہور میں بادشاہی مسجد داتا دربار اور مینارِ پاکستان کے گرد گھومتی تاریخ جس طرح انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہے استنبول میں بھی قدم قدم پر تاریخ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔

مگر استنبول میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں پہنچ کر تاریخ محض کتاب کا باب نہیں رہتی بلکہ عقیدت میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ مقام حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا مزار ہے جسے ترکی میں ’’ایوب سلطان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میں جب مزار کے احاطے میں داخل ہوا تو سب سے پہلے جو چیز محسوس ہوئی وہ خاموشی نہیں بلکہ ایک خاص قسم کا سکون تھا اردگرد لوگوں کی آمدورفت جاری تھی کوئی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا کوئی قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھا کوئی اپنے بچوں کو اس تاریخی مقام کی اہمیت سمجھا رہا تھا اور کوئی محض چند لمحوں کے لیے خاموش بیٹھا تھا۔

حضرت ایوب انصاری کے مزار میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف جب ایک شو کیس پر نظر پڑی تو اس پر لکھی تحریر کو دیکھ کر ایک دم انکھیں ساکت ہو گئیں دل بھر ایا اور سوچا کہ میری یہ خوش نصیبی کہ میں اپنی انکھوں سے اس متبرک سبز پتھر کو دیکھ رہا ہوں جس نے آقا دو جہاں سے گفتگو کی تھی نہ صرف یہ بلکہ مبارک پتھر کے ساتھ ہی شو کیس میں آقا دو جہان کا موئے مبارک اور آقا دو جہان کے قدم مبارک کا نشان تھا ۔

دل میں شدید خواہش ابھری کہ کاش میں آقا دو جہان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاؤں مبارک کے نقش مبارک کو چوم سکتا۔ کاش اس قدم مبارک کا بوسہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنی انکھوں کے ساتھ لگا کر اس کو اپنی روح میں اترتا محسوس کر سکتا لیکن اس کے باوجود مجھ پر یہ کیفیت طاری تھی کہ میری محبت میری عقیدت اور میری روح میں ان مبارک زیارات کا لمس اترتا چلا جا رہا تھا اور میں خیالوں میں ہی محسوس کر رہا تھا کہ میں آقا دو جہانﷺ کے قدم مبارک اور موہ مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں اور وہ دیوانگی وہ جنونیت وہ پیار میری رگ رگ میں سماتا چلا جا رہا تھا اور میں ان متبرک زیارات کو دیکھ کے ہی سرور محسوس کر رہا تھا مگر شو کیس اور میرے درمیان تین مختلف زنجیروں کی دیوار حائل تھی جس نے مجھے شو کیس کے قریب پہنچنے نہ دیا اور میں صرف اپنی نگاہوں سے ان کی زیارت ہی کر سکا۔

ابھی سرور کی اس کیفیت میں مبتلا تھا کہ اچانک میرے پیچھے ایک شخص جو لمبی قطار میں موجود تھا مجھے جھنجوڑا اور آگے جانے کو کہا تاکہ وہ لوگ بھی زیارت کر سکیں اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی مجبورا اگے حضرت ایوب انصاری کے مزار کی طرف بڑھ گیا کہ ان کے مزار پر جا کر بھی فاتحہ پڑھی جا سکے اور اپنی انکھوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہیتے صحابی کے مزار کی زیارت ہو سکے۔

حضرت ایوب انصاری کے مزار کی جالی کے پاس پہنچتے ہی یہ محسوس ہوا کہ چند سال قبل جب میں آقا دو جہان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ مبارک پر پہنچا تھا تو اس وقت میری کیا کیفیت تھی اور آج میں ان کے چہیتے صحابی کے مزار پر کھڑا ہو کر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ دلی خواہش تھی کہ میں وہاں پر کھڑا ہو کر فاتحہ پڑھتا رہوں مگر بادل نخواستہ مجھے وہاں سے جانا پڑا کیونکہ میرے پیچھے ہزاروں لوگ حضرت ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کے منتظر میرے وہاں سے آگے بڑھنے کا انتظار کر رہے تھے۔

جونہی میں حضرت ایوب انصاری کے مزار سے باہر نکلا تو دل بھر ایا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ پہلے مجھے آقا دو جہان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضری کا شرف نصیب ہوا وہاں سالوں بعد ان کے چہیتے صحابی حضرت ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضور پاک صلی اللہ علیہ ہ وسلم کے نقش پا، موئے مبارک کو دیکھنا بھی نصیب ہوا۔ استنبول کی تیز رفتار شہری زندگی سے نکل کر اس صحن میں آنا یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی رفتار کچھ دیر کے لیے دھیمی ہوگئی ہو۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضور اکرم ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کی زندگی ایمان محبتِ رسول ﷺ اور عزم کی روشن مثال ہے۔ روایت کے مطابق قسطنطنیہ کی مہم میں بھی آپؓ شریک ہوئے اور اسی سفر کے دوران وفات پائی بعد کے زمانوں میں آپؓ کی نسبت سے یہ مقام مسلمانوں کے لیے غیر معمولی عقیدت کا مرکز بن گیا۔

مزار کے قریب کھڑے ہو کر آنے جانے والوں کے چہروں کو دیکھتا رہا کوئی ترکی لباس میں تھا کوئی مغربی لباس میں کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور کوئی اپنے موبائل فون سے تصاویر لے رہا تھا۔ زبانیں مختلف تھیں مگر اس مقام پر آنے کی بنیادی کیفیت ایک جیسی دکھائی دیتی تھی۔ میں نے وہاں موجود ایک عمر رسیدہ ترک زائر سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے اس مقام پر آتے رہے ہیں۔ ان کے لیے ایوب سلطان صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ استنبول کی روح کا حصہ ہے ان کے چہرے پر اس مقام کا ذکر کرتے ہوئے جو اطمینان تھا وہ شاید کسی طویل تقریر سے زیادہ معنی خیز تھا۔

ایک نوجوان ڈاکٹریٹ کی ترک طالبہ بھی وہاں موجود تھی اس نے بتایا کہ آج کی نسل ٹیکنالوجی سوشل میڈیا اور تیز رفتار زندگی میں گھری ہوئی ہے لیکن بعض مقامات انسان کو اپنی جڑوں کی طرف واپس لے جاتے ہیں۔ اس کے نزدیک ایوب سلطان ایسا ہی ایک مقام ہے۔ باتوں باتوں میں پاکستان کا ذکر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے پاکستان کا نام سن کر پاکستان سے محبت کا اظہار کیا مجھے محسوس ہوا کہ لاہور اور استنبول کے درمیان جغرافیائی فاصلے کے باوجود مسلمانوں کی تہذیبی یادداشت میں دونوں شہر ایک دوسرے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔

مزار کے باہر ایک پاکستانی خاندان بھی نظر آیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اس سینیئر بیوروکریٹ عادل عزیز خان سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ استنبول آنے کی خواہش بہت عرصے سے تھی مگر ایوب سلطان کی حاضری ان کے سفر کا ایک خاص حصہ تھی۔ ان کے لیے یہ محض سیاحت نہیں تھی بلکہ ایک روحانی تجربہ تھا۔

سینیئر بیوروکریٹ عادل عزیز خان کی بیگم جو خود ایک بڑے ہسپتال میں بطور پروفیسر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں نے بتایا کہ انہوں نے یہاں آکر ہی محسوس کیا کہ صدیوں پہلے ایک صحابیؓ رسول حضرت ایوب انصاری رحمۃ اللہ علیہ اسی شہر کی سرزمین پر تشریف لائے تھے تو انہیں اپنے سفر کی معنویت مختلف محسوس ہوئی۔

یہ جملہ میرے ذہن میں دیر تک گونجتا رہا۔ صحافت ہمیں واقعات کو دیکھنا سکھاتی ہے لیکن بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں واقعہ انسان کے اندر اتر جاتا ہے۔ مزار کے قریب بیٹھے لاہور سے آئے دو طالب علموں دانش خان اور دانیال خان کے ہاتھ میں تسبیح تھی وہ مسلسل ذکر الہی کر رہے تھے۔

چند قدم کے فاصلے پر ایک خاندان اپنے بچوں کو خاموش رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔ ایک طرف سیاح تصاویر بنا رہے تھے اور دوسری جانب عقیدت مند دعا میں مصروف تھے۔ یوں ماضی اور حال ایک ہی منظر میں جمع تھے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ بھی محسوس ہوئی کہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی نسبت صرف ترک مسلمانوں تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے مسلمان اس مقام پر عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔ عرب ممالک پاکستان ہندوستان وسطی ایشیا اور یورپ سے آنے والے لوگوں کے چہرے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بعض شخصیات اور مقامات سرحدوں سے بڑے ہوتے ہیں۔

ایک نوجوان پاکستانی سے پوچھا کہ یہاں آکر سب سے زیادہ کیا محسوس ہوا؟ اس نے مختصر جواب دیا کہ’’یہ احساس کہ ہم تاریخ کو صرف پڑھ نہیں رہے، اسے اپنے سامنے دیکھ بھی رہے ہیں۔‘‘یہ شاید اس مقام کی سب سے بڑی کشش ہے۔استنبول کی گلیوں میں سلطانوں کے محلات ہیں عظیم الشان مساجد ہیں باسفورس کے نیلے پانی ہیں بازاروں کی رونق ہے اور جدید دنیا کی چمک دمک بھی مگر ایوب سلطان میں ایک مختلف استنبول دکھائی دیتا ہے وہ استنبول جو اپنی تاریخ کو صرف محفوظ نہیں کرتا بلکہ اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے رکھتا ہے۔

لاہور سے آنے والے ایک صحافی کے طور پر مجھے یہاں ایک اور مماثلت بھی محسوس ہوئی لاہور میں داتا دربار ہو یا استنبول میں ایوب سلطان برصغیر اور ترکی کی مذہبی و تہذیبی زندگی میں مزارات صرف عمارتیں نہیں ہوتے۔ وہ لوگوں کی یادداشت جذبات اور روحانی وابستگی کے مراکز بھی بن جاتے ہیں۔

البتہ صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ عقیدت کے بیان کے ساتھ تاریخ اور حقیقت کے فرق کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی شخصیت تاریخی طور پر مسلم روایت میں انتہائی معتبر مقام رکھتی ہے جبکہ ان سے منسوب بعض جزئیات مختلف تاریخی روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔ اسی لیے اس مقام کو دیکھتے ہوئے جذبات کے ساتھ تاریخ کا شعور بھی ضروری ہے۔ شام ڈھلنے لگی تو مزار کے احاطے میں لوگوں کی آمدورفت بدستور جاری تھی کسی کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے کوئی فاتحہ پڑھ رہا تھا کوئی خاموشی سے باہر نکل رہا تھا۔

میں بھی کچھ دیر وہیں کھڑا رہا لاہور سے ہزاروں میل دور ایک ایسے شہر میں جہاں ایشیا اور یورپ ایک دوسرے سے ملتے ہیں مجھے یوں لگا کہ تاریخ بھی کبھی کبھی جغرافیے کی پابند نہیں رہتی۔ ایک صحابیؓ کی یاد نے صدیوں کا فاصلہ سمیٹ کر آج کے انسان کو اس زمانے سے جوڑ رکھا ہے جسے وہ صرف کتابوں میں پڑھتا آیا ہے۔ واپسی کے لیے قدم اٹھائے تو استنبول کی شام اپنے معمول پر تھی۔ ٹریفک چل رہی تھی، لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، سیاح اگلی منزلوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

 

مگر میرے لیے اس دن استنبول کی سب سے بڑی یاد باسفورس محلات یا بازار نہیں تھا وہ چند لمحے تھے جو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار کے صحن میں گزرے جہاں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی نسبت کے سامنے خاموش کھڑے تھے۔شاید یہی تاریخ کی اصل طاقت ہے کہ وہ گزرے ہوئے زمانے کو ختم نہیں ہونے دیتی اور بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button