ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے فرمایا تھا کہ فوج مکمل غیر سیاسی ہو چکی ہے، وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت لانگ مارچ کے حوالے سے فیصلہ کرے گی اور مذاکرات ان کے درمیان ہی ہوں گے۔ یہ ایک خوش آئند بیان تھا کہ جسے دیکھ کر یہ محسوس ہوا کہ ہیئتِ متدرہ اپنے سیاسی کردار کے حوالے سے نظرثانی کر رہی ہے، سیاسی قیادت کو خود مختاری مل گئی ہے اور اب ان کی بالا دستی قائم ہو چکی ہے کہ وہ خود فیصلے کریں گے۔
مگر شومئی قسمت! ابھی ڈی جی صاحب کے بیان کی روشنائی بھی ماندھ نہیں پڑی تھی کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ جاری ہو گیا۔ پھر وہی ‘9 مئی’ کا منحوس لفظ شامل کر لیا گیا اور شرپسندی ایک ہی سیاسی جماعت کے سر تھوپ دی گئی۔ یعنی ہیئت متدرہ کا غیر سیاسی کردار ایک دن بعد ہی متنازع ہو گیا اور کھلم کھلا پھر ایک سیاسی جماعت کو معتوب قرار دے دیا گیا۔ اعلامیہ لکھنے والے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری لگتے ہیں۔ 9 مئی کا یہ الزام تو 24 فروری 2024 کو عوامِ پاکستان نے مسترد کر دیا تھا، وہ الگ بات ہے کہ طاقت کے اصل مراکز نے فارم 47 کے حکمران پاکستانیوں پر مسلط کر دیے۔
عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا کام کر دیا مگر یہ فرض ادھورا رہا کیونکہ ووٹ پر پہرہ نہ دیا گیا۔ شاید ہمارا عوامی مزاج ہی 79 سالوں سے ایسا بن گیا ہے کہ ووٹ کاسٹ تو ضرور کرتے ہیں مگر ووٹ پر پہرہ دینے سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ ہیئتِ متدرہ کا غیر سیاسی کردار ایک ناقابلِ یقین بات بن کر رہ گئی ہے، یہ وہ فسانہ بن چکی ہے جو شاید ہی کبھی پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔ اب تو ہیئتِ متدرہ کا ترجمان روز بھی یہ بات کرے تب بھی ہمیں یقین نہیں آئے گا، کیونکہ گفتار کے غازی اور عمل کے غازی میں خاصا فرق ہوتا ہے۔
تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ فارم 47 کی حکومت اپنے آقاؤں سے اتنا ہی پوچھ لیتی کہ ہم مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں، عمران خان کی تینوں بہنوں کو رہا کر دیں تاکہ ہم تحریکِ انصاف کے وفد کی عمران خان سے ملاقات کرا سکیں، عین ممکن تھا کہ لانگ مارچ رک جاتا۔ مگر نہیں، یہ فارم 47 کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے بس کی بات نہیں۔ اسی سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ نیک نیتی سے کیے گئے چند اقدامات سے ہو سکتا ہے جیسے عمران خان کو ہسپتال منتقل کر کے شفاف عدالتی سماعت سے مقدمات کا فیصلہ، خان کی بہنوں کی رہائی اور 9 مئی کی شفاف عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات۔ مگر یہ سب کرے گا کون؟
فارم 47 کے حکمران، جن کی بقا ہی ان اقدامات میں ہے؟ یا پھر ہیئتِ متدرہ ، جو اپنے بغل بچوں کے ذریعے حکومت کر رہے؟ اس سارے سیاسی منظر نامے میں کہاں خیر کی امید رکھی جائے؟ وطنِ عزیز بدترین معیشت کا شکار ہے، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، کھانے کو روٹی نہیں مگر فارم 47 کی ٹک ٹاکر پنجاب حکومت دس روزہ جشنِ بسنت منانے کا اعلان کر رہی ہے لگتا ہے یہ ملک یوں ہی چلتا رہے گا، کبھی سلطانیِ جمہور کا زمانہ نہیں آئے گا، اس بدنصیب عوام کو کبھی خیرخواہ حکمران نصیب نہ ہوں گے اور یہ ٹک ٹاکر وں کا ٹولہ ہم پر مسلط رہے گا۔



