کراچی (ویب ڈیسک) جماعت اسلامی کراچی کے تحت غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے شاہراہ قائدین پر عظیم الشان اور تاریخی ’’غزہ مارچ‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بچوں، بزرگوں، خواتین اور مردوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ اہل غزہ اور فلسطین کے مظلوم و نہتے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔ جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی، بھتہ ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف تحریک جاری ہے، جبکہ 7 اکتوبر کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے، تاہم اس میں ایران، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ معاہدہ خطے کے دفاع کے لیے ہے تو اس کا پہلا مقصد فلسطین کا تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے وسیع علاقوں میں اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں طے پانے والی شرائط پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا، جبکہ امریکہ بدستور اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ان کے بقول حماس کی جدوجہد قانونی جنگ ہے، لیکن امریکہ اسے دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہد مزید تیز کرنا ہوگی۔ امت مسلمہ کو فرقہ وارانہ، مسلکی اور جغرافیائی تقسیم سے نکل کر فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ شیعہ سنی اختلافات اور دیگر تقسیم ختم کرکے مشترکہ جدوجہد وقت کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ کا بڑا حصہ تباہ کیے جانے کے باوجود وہاں کے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے تحت بنو قابل پروگرام بہت جلد فلسطین میں بھی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہوں۔
انہوں نے 7 اکتوبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہل حریت اپنے عزم اور جذبے کی بنیاد پر بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کو شکست دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل ٹیکنالوجی کے میدان میں ناکامی کے بعد نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور گزشتہ تین برس سے فلسطینی عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بچوں کو سنائپر گنز سے قتل کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ مسلم ممالک کی خاموشی بھی اس کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کے حکمرانوں، افواج اور انسانیت کے علمبرداروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسرائیل کو جارحیت سے روکتے۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، اس لیے تمام اختلافات بھلا کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کی حمایت کرنا ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر طرح کے حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ امریکہ کے عوام بھی اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ حماس ایک جمہوری جماعت ہے جس نے جنگ بندی کے معاہدوں میں بھرپور کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر اسرائیلی اقدامات کو بے نقاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ اسرائیل خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور جب تک اس کی جارحیت کا سلسلہ جاری رہے گا، خطے میں تباہی اور بدامنی ختم نہیں ہو سکے گی۔
غزہ مارچ سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، غزہ کے مفتی اعظم ڈاکٹر محمود یوسف الشوبکی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔



