پاکستانتازہ ترینسپورٹس

قومی کرکٹرز پر مکمل اعتماد، یہی ٹیم بہترین پرفارم کرے گی: محسن نقوی

پی سی بی چیئرمین کا کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں بھرپور کارکردگی دکھانے کا مشورہ، کہا خود اعتمادی کامیابی کی بنیادی کنجی ہے

لندن، لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یہی ٹیم آگے بڑھ کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

لندن میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں محسن نقوی نے قومی کھلاڑیوں اور دیگر شرکا سے ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ انہیں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے میدان میں بھرپور مقابلہ کرنا ہوگا۔

محسن نقوی نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی کامیابی کی بنیادی کنجی ہے۔ اگر کھلاڑی اپنے آپ پر یقین رکھیں تو بڑے سے بڑا امتحان بھی کامیابی سے عبور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کو مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کھیل پیش کرنا چاہیے۔

ناقص پرفارمنس کا بہت دکھ ہے: محسن نقوی

محسن نقوی نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا انہیں بہت دکھ ہے۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں جو کچھ کیا گیا وہ ضروری تھا، جبکہ پرفارمنس کے علاوہ دیگر معاملات بھی ہیں جنہیں فی الحال دیکھا جا رہا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ابھی یہ وقت نہیں کہ کرکٹ کے علاوہ دیگر معاملات پر بات کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تنقید سے نہ گھبرائے ہیں اور نہ گھبراتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا جنہوں نے خود کچھ نہیں کیا۔

صحافیوں کے سوالات پر میڈیا سے گفتگو سے گریز

لندن میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو قومی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے صحافیوں کے متعدد سوالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔

محسن نقوی نے اس موقع پر قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی گفتگو نہیں کی اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔


Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button