انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

راز کی باتیں

بے لگام / ستارچوہدری

پہاڑوں کے بیچ ایک وادی تھی۔ ایسی خوبصورت کہ صبح سورج پہاڑ کی چوٹی سے نکلتا تو یوں لگتا جیسے کسی نے آسمان پرسونے کی چادرڈال دی ہو۔ چشمے صاف تھے، جنگل گھنے تھے اور پہاڑوں کی چٹانیں دورسے کسی خاموش محافظ کی طرح کھڑی نظرآتی تھیں۔وادی کے لوگ غریب تھے، مگر اپنی زمین سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کے گھرپتھر کے تھے، راستے کچے تھے، مگر زندگی اپنی تھی۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ ان پہاڑوں کے اندربہت سے رازدفن ہیں۔ کچھ راز ایسے بھی ہیں جن کی قیمت انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں جان سکتا۔اس علاقے میں ایک عرصے سے ایک ہی ’’ واردات ‘‘ بارباردہرائی جارہی تھی۔۔۔۔پہلےعلاقے میں دہشت پھیلتی،خوف پیدا کیا جاتا،گولیاں چلتیں،لوگ مرتے۔۔۔ پھرکچھ لوگ آتے اورکہتے،حالات خراب ہیں،یہاں دہشت پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کرنے ہے، اپنے بچوں کو لے کر کچھ دن کے لیے وادی سے نکل جاؤ۔۔۔۔لوگ پوچھتے !! کچھ دن کتنے۔۔۔؟ جواب ملتا، جب حالات ٹھیک ہونگے تو واپس آجانا۔۔۔ مگرحالات کبھی ٹھیک نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔
آخرایک دن اس ’’ وادی جنت ‘‘ پربھی دہشت پھیلنے لگی۔۔۔۔ اوروہی پرانی واردات،ایک دن کسی بازارمیں دھماکا، دوسرے دن کسی راستے پرفائرنگ، تیسرے دن کسی گھرکا جنازہ۔ خوف آہستہ آہستہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔ پہلے چند خاندان گئے، پھر درجنوں، پھر پوری وادی۔۔۔جو لوگ کل تک کہتے تھے کہ ’’ہم اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے‘‘، وہ بھی ایک دن بچوں کو لیکروادی سے نکل گئے۔کسی نے شہرکا رخ کیا، کسی نے دوسرے علاقے میں گھربنا لیا، کسی نے رشتے داروں کے ہاں پناہ لی۔ کچھ لوگوں کو سرکارنے دوسری جگہ بسا دیا۔۔۔۔پھر ایک وقت آیا جب وادی میں گھر تو بہت تھے، مگرگھروں میں رہنے والے لوگ نہیں تھے۔سڑکیں وہی تھیں، پہاڑ وہی تھے، چشمے وہی تھے، مگروادی کے اصل باشندے کہیں اورجا چکے تھے۔۔۔۔ایک دن بابا گلزارکا پوتا، جو اب جوان ہوچکا تھا، اپنے دادا کے پاس بیٹھا بولا۔۔۔۔ بابا !! لوگ کہتے ہیں حالات بہت خراب تھے، اسی لیے سب کو جانا پڑا۔۔۔ بابا گلزار نے پہاڑوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔’’ ہاں ‘‘۔۔۔پوتے نے پوچھا !! اب تو وہاں کوئی رہتا بھی نہیں، پھر وہاں اتنے پہرے کیوں ہیں۔۔۔؟ بابا کچھ دیر خاموش رہا، پھربولا !! بیٹا، جب کسی زمین سے لوگ چلے جائیں تو زمین خالی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ بس اس کے نئے مالک آنے میں دیرنہیں لگتی۔۔۔
وادی خالی ہونے کے بعد وہاں ایک نئی زندگی شروع ہوگئی۔پہلے جو راستے بچوں کے کھیلنے، چرواہوں کے گزرنے اورلکڑیاں جمع کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، ان پراب پہرے دار کھڑے تھے۔ وادی کے داخلی راستے پر ایک بڑا سا بورڈ لگا دیا گیا ’’ داخلہ ممنوع ‘‘۔۔۔۔وادی کے لوگ دور بیٹھ کر اپنی زمینوں کو یاد کرتے۔ کسی کو اپنا گھر یاد آتا، کسی کو کھیت، کسی کو وہ چشمہ جہاں وہ بچپن میں نہایا کرتا تھا۔ مگر واپس جانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔۔۔ کیونکہ وادی میں اب بھی کبھی کبھاردہشتگردی ہوتی تھی۔۔۔میڈیا پر خبریں آتیں، شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ لوگ اخبار پڑھتے، سرہلاتے اوراپنے بچوں کو سینے سے لگا لیتے۔ ادھر وادی کے اندرعجیب سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ بڑے بڑے ٹرک نظر آنے لگے۔ پہاڑوں کے سینے پرمشینیں چلتے ہوئے بھی دیکھی گئیں۔ رات کے وقت بھی روشنی رہتی۔ کبھی کوئی گاڑی اندر جاتی، کبھی باہر آتی۔ کچھ لوگ دور سے یہ سب دیکھتے اور اندازے لگاتے رہتے کہ آخر پہاڑوں کے اندرایسا کیا ہے جس کے لیے اتنی مشینیں اور اتنے پہرے درکار ہیں۔۔۔۔ ایک روزبابا گلزار کا پوتا شہر سے واپس آیا تواس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پتھر تھا۔ اس نے دادا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا، بابا !! یہ دیکھیں، یہ ہماری وادی کے پہاڑ سے ملا ہے۔ بابا نے پتھرہاتھ میں لیا، غورسے دیکھا اور پھرمسکرا دیا۔ تمہیں معلوم ہے یہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟۔۔۔ ’’ پتھر ‘‘۔۔۔بابا ہنس پڑا۔ نہیں بیٹا، یہ پتھر نہیں۔۔۔۔ قسمت ہے۔ دنیا میں کچھ پہاڑ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لوگ دورسے صرف پہاڑسمجھتے ہیں۔ مگرجنہیں اندرکا راز معلوم ہوجائے، وہ انہیں پہاڑ نہیں سمجھتے۔۔۔۔ تو پھرکیا سمجھتے ہیں ۔۔۔؟۔۔۔۔’’ خزانہ ‘‘۔۔۔۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پوتے نے دھیرے سے پوچھا، اگروہاں خزانہ ہے تو لوگ واپس کیوں نہیں آتے۔۔۔؟ بابا گلزار نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔بیٹا !! خزانے کسی اور کے ہوتے ہیں،جب ’’ مالک ‘‘ آجائیں تو ’’ مزاروں ‘‘ کوعلاقے خالی کرنے پڑتے ہیں، پوتا دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھراچانک بولا،لیکن بابا، لوگوں کو تو دہشت کی وجہ سے نکالا گیا تھا، بابا نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ اوربولا ، میں نے کب کہا تھا کہ دہشت اصلی تھی۔۔۔۔
کئی سال گزرگئے۔وادی کے باہرنئی بستیاں آباد ہوگئیں۔ جن لوگوں کے گھر کبھی پہاڑوں کے دامن میں تھے، اب وہ کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے۔ کچھ نے چھوٹی موٹی دکانیں کھول لیں، کچھ مزدوری کرنے لگے، کچھ کے بچے شہروں کے اسکولوں میں پڑھنے لگے۔بس ایک چیز کسی کے پاس نہیں تھی، اپنی زمین۔۔۔۔ایک دن بابا گلزار کا پوتا دوبارہ وادی کی طرف گیا۔ وہ دورایک پہاڑی پر کھڑا ہوکر اپنی پرانی بستی کو دیکھتا رہا۔ جہاں کبھی گھر تھے، وہاں اب مشینیں تھیں۔ جہاں بچے کھیلتے تھے، وہاں ٹرک کھڑے تھے۔ اور جہاں لوگ اپنے جانورباندھتے تھے، وہاں پہرے دارموجود تھے۔اسی رات وہ بابا گلزار کے پاس پہنچا اورساری بات بتائی۔ بابا کافی دیر خاموش رہا۔۔۔پھربولا،اب تم سمجھ گئے ہو۔۔۔؟ ۔۔۔شاید۔۔۔ کیا سمجھا۔۔۔؟ لوگوں کو وادی سے نکالا گیا، وادی محفوظ ہوگئی، پہاڑوں پرپہرے لگ گئے۔۔۔۔ اورپھرپہاڑ کھودے جانے لگے۔۔۔ بابا نے سرہلایا۔۔۔کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی ۔۔۔۔پھر کیا باقی ہے۔۔۔۔؟ جب بھی کسی علاقے میں دہشت پھیلے،سمجھیں،یہاں سے لوگوں کو نکلنا ہوگا،خزانے والے آگئے ۔۔۔۔۔ لیکن بابا !! دہشت کون پھیلاتا ہے۔۔۔؟ بیٹا نام نہ پوچھو،سمجھ جاؤ، دہشت ہمیشہ طاقتورہی پھیلا سکتا۔۔۔ پوتا خاموش ہوگیا۔۔۔۔ بابا نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دوراندھیرے میں پہاڑ کھڑے تھے۔ وہی پہاڑ تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہاں لوگ نہیں تھے۔۔۔۔۔ اورپہاڑخالی بھی نہیں تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button