بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

خوف کے سائے میں امن کی تلاش

تحریر: محمد قیصر چوہان

بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جس کی سرزمین قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، طویل ساحلی پٹی اور منفرد ثقافتی شناخت سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے یہاں امن و امان کا مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نے نہ صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی، معیشت، تعلیم، کاروبار اور مستقبل کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔

دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کا نشانہ صرف ریاستی ادارے نہیں بنتے، بلکہ وہ عام لوگ بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں جن کا کسی سیاسی یا مسلح تنازع سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ ایک مزدور، طالب علم، دکاندار، مسافر یا سرکاری ملازم جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کے اہل خانہ کی سب سے بڑی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ خیریت سے واپس آئے۔ جب معاشرے میں یہ بنیادی اطمینان بھی ختم ہونے لگے تو دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔

بلوچستان میں بدامنی کے پس منظر کو صرف ایک زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ سکیورٹی کے مسائل کےساتھ ساتھ سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی، روزگار کے محدود مواقع، انتظامی کمزوری، مقامی سطح پر اعتماد کے فقدان اور مختلف گروہوں کی مسلح کارروائیوں جیسے عوامل بھی زیربحث آتے رہے ہیں۔ تاہم ان عوامل کو دہشت گردی یا بے گناہ شہریوں کے قتل کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اختلاف رائے اور سیاسی مطالبات کا راستہ آئینی اور پرامن ہونا چاہیے۔

ریاست کے لیے چیلنج دو سطحوں پر ہے۔ ایک طرف شہریوں کو دہشت گرد گروہوں سے محفوظ رکھنا ناگزیر ہے جبکہ دوسری طرف ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہو۔ محض طاقت کے استعمال سے وقتی طور پر کسی خطرے کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے سیاسی، انتظامی اور معاشی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔

بلوچستان کے نوجوان اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہیں اگر ایک نوجوان کو تعلیم، ہنر، روزگار اور باعزت مستقبل کے مواقع میسر ہوں تو شدت پسند عناصر کے لیے اسے اپنے بیانیے کا حصہ بنانا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں سکول، یونیورسٹیاں، فنی تربیت، صحت کی سہولیات، مقامی صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی امن کی پالیسی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔اسی طرح مقامی آبادی کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت دار بنانا ضروری ہے۔ وسائل کی تقسیم، روزگار، زمین، بنیادی سہولیات اور مقامی حکومتوں سے متعلق شکایات کو سنا جائے اور جہاں شکایات درست ہوں وہاں شفاف طریقے سے ازالہ کیا جائے۔

ترقی صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں بلکہ ترقی انسان کا معیار زندگی بلند ہونے کا نام ہے۔ میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ دہشت گردی کی کوریج میں سنسنی، غیر مصدقہ اطلاعات اور خوف پھیلانے والی زبان سے گریز ہونا چاہیے۔ عوام کو درست معلومات فراہم کرنا، متاثرہ خاندانوں کی عزت نفس کا خیال رکھنا اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کو غیر ضروری تشہیر نہ دینا ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ کسی ایک ادارے یا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سیاسی جماعتیں، سکیورٹی ادارے، مقامی قیادت، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور میڈیاسب کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر عام بلوچ شہری کو اس پورے عمل کا مرکز بنانا ہوگا۔دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں ہوتا۔ بندوق دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا ایک حصہ ہو سکتی ہے مگر پائیدار امن انصاف، قانون کی بالادستی، سیاسی شمولیت، معاشی مواقع، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔

بلوچستان کو خوف کی شناخت نہیں، امن کی شناخت ملنی چاہیے۔ اس کے پہاڑوں، ساحلوں اور صحرائوں میں بارود کی آواز کے بجائے ترقی، تعلیم اور روزگار کی آواز سنائی دینی چاہیے۔ یہ منزل مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کےساتھ ساتھ عوام کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے سنا جائے کیونکہ امن صرف بندوق خاموش ہونے کا نام نہیں امن وہ کیفیت ہے جس میں ایک عام شہری اپنے مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ بلوچستان کے عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے،صرف مشکل وقت میں نہیں بلکہ ان کے روزمرہ مسائل میں بھی۔

امن کے لیے سکیورٹی کارروائیاں ضروری ہو سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف سکیورٹی کارروائیوں سے قائم نہیں ہوتا۔ امن اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب عدالت پر اعتماد ہو، ادارے جواب دہ ہوں، نوجوان کو تعلیم ملے، ہنر مند کو روزگار ملے، کاروباری شخص خود کو محفوظ سمجھے اور عام شہری کو یہ احساس ہو کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے۔بلوچستان کے نوجوانوں کو محض ایک سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھنا بھی درست نہیں۔ وہ اس ملک کا مستقبل ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کتاب، ہنر اور روزگار ہوگا تو یہی ہاتھ ملک کی تعمیر کریں گے لیکن اگر انہیں مسلسل بے یقینی، محرومی اور بے روزگاری کا سامنا رہے گا تو ریاست کے لیے انہیں قومی دھارے سے جوڑنا مزید مشکل ہوتا جائے گااس لیے بلوچستان میں امن کا ایک محاذ بندوق کے مقابلے میں ہے، مگر دوسرا محاذ اسکول میں، تیسرا روزگار کے میدان میں، چوتھا انصاف کے نظام میں اور پانچواں عوام کے اعتماد میں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کو صرف سکیورٹی کے چشمے سے نہ دیکھا جائے۔ وہاں کے لوگوں کی آواز سنی جائے، مقامی قیادت کو مو ¿ثر طور پر شامل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں اور شکایات کے ازالے کے لیے قابل اعتماد ادارہ جاتی راستے مضبوط کیے جائیں۔کیونکہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے، خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔اور جس معاشرے میں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہو جائے، وہاں امن بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کو صرف یہ نہیں چاہیے کہ وہاں دہشت گردی ختم ہو۔

بلوچستان کو یہ یقین بھی چاہیے کہ اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے، اس کے نوجوانوں کے خوابوں کی قدر ہے اور اس کے عام شہری کی زندگی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی پاکستان کے کسی بھی دوسرے حصے کے شہری کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button