برطانیہ کا زوال؟ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا اتحاد
کیا یونین جیک کا سورج غروب ہو رہا ہے؟سامراجی عظمت سے اندرونی تقسیم تک کی کہانی


لندن (حسنین جمیل سے)تاج برطانیہ سے آزادی کے لیے اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ نے اتحاد کر لیا ہے۔ ایک بڑی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت تینوں علاقوں کی سیاسی قیادت یکجا ہوتی نظر آ رہی ہے تاکہ تاج برطانیہ پر سیاسی دباؤ بڑھا کر آزادی یا خودمختاری کی تحریک کو تیز کیا جا سکے۔
اسکاٹس نیشنل پارٹی (SNP)، پلیڈ کمیری (Plaid Cymru) اور سن فین (Sinn Féin) نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین سے تعلقات بحال کیے جائیں اور باقی یورپ کے ساتھ مل کر چلا جائے۔
تینوں رہنماؤں نے مزید کہا کہ اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کی تاریخ، سیاست اور ثقافت ایک دوسرے سے مختلف ہے، لیکن ہمارا مقصد ایک ہی ہے۔ مشترکہ سیاسی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے اور ویسٹ منسٹر کا کردار ختم ہو رہا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب تاج برطانیہ ایک بہت بڑی سامراجی طاقت تھا، جس کا ‘یونین جیک’ کبھی سرنگوں نہیں ہوتا تھا اور جس کی سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ یورپ، ایشیا، آسٹریلیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے جزائر تک اس کی حکومت قائم تھی۔ تاہم، دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ سلطنت دھیرے دھیرے زوال پذیر ہوتی گئی۔ برطانوی حکومت نے بالآخر فیصلہ کیا کہ وہ اپنا سامراجی کردار ختم کر کے ایک فلاحی ریاست کی صورت اختیار کرے گی اور عوامی منشا کے مطابق قانون سازی کر کے عوام کو خوشحال بنائے گی۔
وہ تاج برطانیہ جس کی کبھی پانچ براعظموں پر حکومت تھی، سمٹ کر صرف یوکے (UK) بن کر رہ گیا، جس میں انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ شامل ہیں۔ لیکن اب شامتِ اعمال کہ ان تینوں علاقوں نے بھی آزادی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کو فوراً آزادی ملتی ہے یا نہیں، لیکن اس صورتِ حال نے یوکے کی سیاست میں تلاطم ضرور پیدا کر دیا ہے اور ان علاقوں میں ایک نئی سیاسی بیداری اور تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔



