پشاور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر وفاق پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے پولیس کی توجہ ہٹا کر اسے کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن قائم رہا، تاہم 2022 کے بعد دہشتگردی دوبارہ بڑھی۔
وزیراعلیٰ نے 2022 کے بعد دہشتگردی میں اضافے کو ریاستی پالیسیوں سے جوڑا اور کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا، ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء کے پیکیج میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق NRTC کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں اور متعلقہ اداروں سے جدید آلات، اے پی سیز اور دیگر سامان جلد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پولیس کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر زور
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کسی پولیس افسر کو غلط حکم، سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے یا غلط ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتے تو کسی دوسرے کو بھی ایسے احکامات دینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس افسر کا فرض کسی بھی غلط حکم کی پابندی کرنا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق ذمہ داریاں انجام دینا ہے۔ ان کے بقول صوبائی حکومت کی ترجیح دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے، کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھنے کی کوشش کی ہے اور پولیس کی پوسٹنگ و ٹرانسفر کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔
پرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات افسوسناک ہیں اور پولیس کو غلط احکامات کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے 8 فروری 2024 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت پولیس اور سول انتظامیہ نے بعض احکامات ماننے سے انکار کیا تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جماعت مسلح جدوجہد یا یلغار نہیں بلکہ پرامن احتجاج کرنے جارہی ہے۔ ان کے مطابق آئین میں اجتماع اور پرامن احتجاج کے حق کی موجودگی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کو پرامن رکھنے اور کارکنوں کو ہتھیار نہ لانے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس ایکٹ میں مزید ترامیم کا امکان
سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے اور اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹا کر سیاسی تنازع میں الجھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر کسی جانب سے غلط حکم آئے تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔
نوجوانوں سے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل
بعد ازاں پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں کا جذبہ کم نہیں ہونا چاہیے اور یہ سال خیبرپختونخوا کی ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا۔
انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں صوبے میں امن تھا، جبکہ موجودہ صورتحال کو غلط فیصلوں اور پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی انہوں نے موجودہ پالیسیوں پر تنقید کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جدوجہد پرامن ہونی چاہیے اور کسی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ احتجاج کے دوران قانون ہاتھ میں نہ لیں۔



