انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تین طاقتیں

بے لگام / ستارچوہدری

انسان سمجھتا ہے کہ اس کے پاس بہت کچھ ہے۔۔۔ دولت، اختیار، عہدہ، تعلقات، مواقع۔ مگر زندگی کو غور سے دیکھیے تو اس کے پاس تین ایسی طاقتیں ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، لیکن پوری زندگی کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔۔۔’’ وقت، لفظ اور عمل ‘‘ ۔۔۔۔یہ تینوں خاموش طاقتیں ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں، مگر یہ زندگی بنا بھی سکتی ہیں اور بگاڑ بھی سکتی ہیں۔

ایک لمحہ کبھی پوری زندگی کا فیصلہ بن جاتا ہے، ایک لفظ کبھی برسوں کی محبت توڑ دیتا ہے، اور ایک عمل کبھی انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں صرف خواب بھی نہیں پہنچ سکتے۔ان تینوں میں ایک عجیب مماثلت ہے۔۔۔ ’’ یہ واپس نہیں آتے ‘‘۔۔۔ جو وقت گزر گیا، وہ دوبارہ نہیں ملتا۔ جو لفظ زبان سے نکل گیا، اسے واپس نہیں نگلا جا سکتا۔۔۔۔ اور جو عمل ہو گیا، اس کا نتیجہ چاہے پسند آئے یا نہ آئے، انسان کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاید اسی لیے زندگی دراصل بڑے فیصلوں سے کم اورانہی چھوٹی چھوٹی طاقتوں کے استعمال سے زیادہ بنتی ہے۔ ہم ہر روز وقت خرچ کرتے ہیں، لفظ بولتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔۔۔ مگر بہت کم سوچتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے۔۔۔ کچھ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے، کچھ لفظ دلوں میں تیر بن کر اتر چکے ہوتے ہیں، اور کچھ اعمال اپنی پوری کہانی سنا رہے ہوتے ہیں۔تب سمجھ آتا ہے کہ انسان کی زندگی میں طاقت ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو نظر آتی ہے۔۔۔ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جس کا اثر دیر تک رہتا ہے۔۔۔۔

وقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا۔ بادشاہ ہو یا فقیر، کامیاب ہو یا ناکام، سب کی گھڑی ایک ہی رفتار سے چلتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی آنے والے لمحے کو پکڑ لیتا ہے اور کوئی اسے گزرنے دیتا ہے۔ہم زندگی میں بہت سی چیزیں دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ دولت چلی جائے تو دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، رشتہ ٹوٹ جائے تو جوڑا جا سکتا ہے، راستہ بھٹک جائے تو واپس بھی آیا جا سکتا ہے۔۔۔ مگر گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں ملتا۔

کبھی ایک منٹ کی تاخیر انسان کو برسوں کا انتظار دے دیتی ہے، اور کبھی ایک لمحے کا درست فیصلہ پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ اسی لیے وقت صرف گھڑی کی سوئی نہیں، موقع کا دوسرا نام بھی ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہم وقت کی قدر اکثر اس وقت کرتے ہیں جب وہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ بچپن میں جوانی کا انتظار، جوانی میں کامیابی کا انتظار، کامیابی کے بعد سکون کا انتظار۔۔۔ اور یوں انتظار کرتے کرتے زندگی خود گزر جاتی ہے۔وقت ہمیں روز ایک خالی صفحہ دیتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس پر اپنی کہانی لکھتے ہیں یا اسے بھی کل کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔۔۔؟

لفظ بظاہر بہت چھوٹا ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی اس کا سایہ پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔ ایک لفظ کسی تھکے ہوئے انسان کو سہارا دے سکتا ہے اور ایک لفظ کسی مضبوط انسان کو اندر سے توڑ سکتا ہے۔ تلوار کا زخم شاید وقت کے ساتھ بھر جائے، مگر زبان سے نکلا ہوا لفظ بعض اوقات دل میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جہاں برسوں بعد بھی درد باقی رہتا ہے۔ اسی لیے لفظ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ سامنے والا اسے کیسے سنے گا۔کتنی عجیب بات ہے کہ انسان غصے میں چند سیکنڈ میں وہ کہہ دیتا ہے جس کی معافی مانگتے ہوئے برس گزر جاتے ہیں۔ ایک لمحے کا غصہ، ایک جملہ، ایک تلخ فقرہ۔۔۔۔ اور سامنے کھڑا انسان خاموشی سے دور چلا جاتا ہے۔لیکن لفظ صرف توڑتے نہیں، جوڑتے بھی ہیں۔۔۔۔ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں ‘‘ کسی ڈوبتے ہوئے انسان کے لیے کشتی بن سکتا ہے۔۔۔۔ ’’مجھے معاف کردو ‘‘ برسوں کی دوری کم کرسکتا ہے۔۔۔۔اور کبھی صرف ایک لفظ ۔۔۔۔’’امید‘‘۔۔۔

انسان کو دوبارہ کھڑا کردیتا ہے۔اس لیے زبان سے نکلنے والے لفظ کو معمولی نہ سمجھیں۔ لفظ بولنے سے پہلے ہمارے اختیار میں ہوتا ہے، مگر بولنے کے بعد وہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا۔شاید اسی لیے دانائی خاموش رہنے میں نہیں، صحیح وقت پر صحیح لفظ بولنے میں ہے۔۔۔۔

عمل۔۔۔۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوچ حقیقت سے ملتی ہے۔ انسان بہت کچھ سوچ سکتا ہے، بہت کچھ کہہ سکتا ہے، بڑے بڑے خواب دیکھ سکتا ہے۔۔۔ مگر دنیا آخرکار اس کے الفاظ نہیں، اس کے عمل کو دیکھتی ہے۔ایک اچھا ارادہ اپنی جگہ قیمتی ہے، مگر جب تک وہ قدم نہ بنے، راستہ نہیں بنتا۔ کتاب پڑھنے کا فیصلہ علم نہیں، پڑھنا علم بناتا ہے۔ کسی کی مدد کرنے کی خواہش نیکی نہیں، مدد کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ نیکی بنتا ہے۔ خواب دیکھنا آسان ہے، خواب کے لیے جاگنا مشکل۔۔۔۔

عمل کی ایک اور خاصیت ہے۔۔۔ یہ انسان سے اس کے فیصلے کا حساب ضرور لیتا ہے۔ اچھا عمل کبھی نہ کبھی روشنی بن کر واپس آتا ہے، اور غلط عمل کسی نہ کسی موڑ پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے۔ انسان دنیا سے بہت سی باتیں چھپا سکتا ہے، مگر اپنے کیے ہوئے عمل کے نتائج سے ہمیشہ نہیں بچ سکتا۔۔۔۔ کہانی پھر وہی ہے۔۔۔۔زندگی ان تین طاقتوں کا نام ہے جنہیں ہم روز استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔’’ وقت، لفظ اورعمل‘‘۔۔۔۔وقت کو ضائع نہ کریں، لفظ کو زخمی نہ ہونے دیں۔۔۔ اور عمل کو ایسا بنائیں کہ کل جب زندگی پلٹ کر دیکھے تو شرمندگی نہ ہو۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button