google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس

تحریر: فرخ ریاض بٹ

دہشت گردی کسی ایک شہر، صوبے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن، معیشت اور مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے جب معصوم شہری، سکیورٹی اہلکار، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں یا عوامی مقامات تشدد کا نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں رہتے،پورا معاشرہ خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے گزرتا ہے۔

اسی لیے دہشت گردی کے خلاف موثر اور مستقل پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔’ زیرو ٹالرنس‘کا مطلب صرف سخت کارروائی نہیں۔ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ دہشتگردی، انتہا پسند تشدد اور شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو کسی صورت معمول یا قابل قبول عمل نہ بننے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت، انٹیلی جنس کے موثر تبادلے، سرحدی نگرانی، مالی معاونت کے ذرائع کی روک تھام اور عدالتوں میں مضبوط قانونی کارروائی،سب ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہیں۔تاہم ایک کامیاب انسداد دہشت گردی پالیسی میں قانون کی حکمرانی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

فائل فوٹو

دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اجتماعی سزا، غیرقانونی تشدد یا محض شبہے کی بنیاد پر کارروائی معاشرے میں اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔ ریاست کی طاقت سب سے زیادہ موثر اسی وقت ہوتی ہے جب وہ قانون کے دائرے میں استعمال ہو اور ہر شہری کو انصاف تک رسائی حاصل ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔

انتہا پسند بیانیے کا مقابلہ تعلیم،روزگار،سماجی انصاف،ذمہ دار ذرائع ابلاغ، نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع پیدا کرکے بھی کرنا ہوگا، ایسے ماحول کو مضبوط کرنا ضروری ہے جہاں اختلاف رائے کو تشدد کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ دہشت گردی کی خبر عوام تک پہنچانا صحافت کی ذمہ داری ہے مگر دہشت گرد گروہوں کی تشہیر، خوف پھیلانے والی غیرمصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز مواد سے گریز بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے، ذمہ دار صحافت دہشت گردی کو سنسنی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی مسئلے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ آخرکار ’ زیرو ٹالرنس‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی عزم ہونا چاہیے۔

فائل فوٹو

اس عزم کی بنیاد قانون، انصاف، شہریوں کا تحفظ اور ریاستی اداروں کے درمیان موثر تعاون پر ہو۔ دہشت گردی کے خلاف مضبوط موقف اسی وقت پائیدار نتائج دے سکتا ہے جب اس کے ساتھ امن، انصاف اور انسانی وقار کے اصول بھی مضبوطی سے قائم رہیں۔ایک محفوظ معاشرہ صرف وہ نہیں جہاں دہشت گردی نہ ہو،محفوظ معاشرہ وہ ہے جہاں شہری بلاخوف زندگی گزار سکیں، بچوں کو بہتر مستقبل کی اُمید ہو اور اختلاف کو تشدد کے بجائے دلیل سے حل کیا جائے ،دہشت گردی کے خلاف حقیقی زیرو ٹالرنس دراصل اسی مستقبل کے تحفظ کا نام ہے۔

گزشتہ دنوں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی زیرصدارت جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ ملک کو درپیش مختلف قسم کے چیلنجز کے تناظر میں یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے واضح اور دوٹوک پیغام جاری کیا گیا ہے۔کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی جیسی صورت حال پرطاقت سے نمٹا جائے گا۔ کانفرنس میں دہشت گردی اور انتشاری جھتے سازی پر بالکل واضح اور غیرمبہم پیغامات دے دیے گئے۔ کورکمانڈر کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کے لیے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے۔

بلاشبہ پاکستان کا اندرونی استحکام اور امن معاشی ترقی اور بہتر گورننس کے لیے سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ دنیا میں انھی ملکوں نے ترقی کی ہے، جن ملکوں میں ذمے دار اور قانون پسند سیاسی قیادت نے رہنما کردار ادا کیا اور ملک کے اندر امن کی راہ ہموار کی۔ انتشار اور بدامنی کسی ملک کی وحدت اور اس کی ترقی کے لیے زہر قاتل ہوتی ہے۔ اس لیے کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انتشاری جتھوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کا کوئی بھی ملک اندرونی طور پر مسلح جتھے برداشت نہیں کرتا۔ پاکستان میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مسلح جتھوں اور جرائم پیشہ گروپوں کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان میں جو لوگ انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں یقینی طور پر بیرونی مدد بھی حاصل ہے۔ ان لوگوں کی فنانشل لائف لائن کا برقرار رہنا انھیں دراصل زندہ رکھے ہوئے ہے۔پاکستان کی شمال مغربی سرحد اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

افغانستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں دنیا بھر کے دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور افغانستان پر قابض طالبان حکومت کو اس کا پوری طرح علم بھی ہے۔ افغانستان میں جب سے طالبان کی حکومت برسراقتدار آئی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے زیرنگرانی تربیتی کیمپ آزادانہ طور پر چل رہے ہیں۔

ان کیمپوں میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ دہشت گردوں کے سرپرست افغانستان میں غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ منشیات کے جتنے بھی نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں، اس کے تانے بانے افغانستان میں جا کر ملتے ہیں۔ بھارت بھی افغانستان میں پاکستان مخالف نیٹ ورکس کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ طالبان کی حکومت اور بھارت کے درمیان رابطے عیاں ہو چکے ہیں۔

طالبان کے کئی منسٹرز بھارت کے دورے کر چکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو طالبان حکومت بھارت کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔پاکستان میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔ ان میں وائٹ کالرز کریمنلز گینگ شامل ہیں۔ یہ گینگز سیاست میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ غیرقانونی پیسے کی بنیاد پر اس قسم کے گینگز نے ملک کے سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

shahbaz-field-marshal

پاک فوج اور پاکستان کے دیگر سیکیورٹی ادارے ملک کی سلامتی کے لیے دن رات قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جس قدر طویل جنگ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے لڑی ہے، دنیا میں کسی اور ملک کے اداروں نے اتنی طویل لڑائی نہیں لڑی ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف جرا¿ت مندی سے برسرپیکار ہیں۔ ملک میں جمہوری حکومت بھی اس حوالے سے واضح پالیسی کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں تعمیر وترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ملک کے اندر بھی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button