پاکستان ریلویز ،ریزرویشن سٹاف 20 سال سے ترقی سے کیوں محروم؟

لاہور:(بیوروچیف وی اواین)پاکستان ریلویز میں مختلف شعبوں کے لیے الگ الگ قوانین اور ترقی کے طریقہ کار کے باعث ریزرویشن سٹاف گزشتہ 20 سال سے ترقی اور سکیل اپ گریڈیشن سے محروم ہے، جبکہ دیگر شعبوں کے افسران و ملازمین کو مختلف اوقات میں اگلے گریڈز میں ترقی اور اسکیل اپ گریڈیشن دی جاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے کے ریزرویشن سٹاف میں بڑی تعداد ایسے ملازمین کی ہے جو طویل عرصے سے ایک ہی عہدے اور گریڈ پر فرائض انجام دے رہے ہیں، جن میں خواتین ملازمین بھی شامل ہیں۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ترقی کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ریزرویشن سٹاف کے مطابق سپروائزر کے کوٹے کا 50 فیصد دیگر کیٹیگریز کو دیے جانے کے باعث ریزرویشن شعبے کے ملازمین کے لیے ترقی کے مواقع مزید محدود ہوگئے ہیں۔
ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ریزرویشن کیٹیگری کے کوٹے میں دیگر شعبوں کے ملازمین کو ترقی دی جارہی ہے تو ریزرویشن اسٹاف کو بھی دیگر کیٹیگریز میں مناسب کوٹہ دیا جائے تاکہ انہیں ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوسکیں۔
ملازمین نے کہا کہ پاکستان ریلویز کے دیگر شعبوں میں ایل ڈی سی اور یو ڈی سی سمیت متعدد کیٹیگریز کے ملازمین کے سکیل اپ گریڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم ریزرویشن کے ایل آر سی اور آر سی ملازمین طویل عرصے سے گریڈ 8 اور 9 میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ریزرویشن سٹاف نے وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل آر سی اور آر سی ملازمین کا اسکیل کم از کم گریڈ 12 جبکہ سپروائزر کا سکیل گریڈ 14 کیا جائے اور طویل عرصے سے زیرالتوا ترقی کے معاملات فوری طور پر حل کیے جائیں۔
ملازمین نے وفاقی وزیر ریلوے سے ریزرویشن سٹاف کے نمائندہ وفد سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سننے اور جائز مطالبات کے حل کے لیے فوری احکامات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔
ریزرویشن سٹاف نے کہا وہ پاکستان ریلویز کا اہم حصہ ہیں اور طویل عرصے سے ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ترقی، اسکیل اپ گریڈیشن اور دیگر مراعات کے معاملے میں انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی دیگر ملازمین کی طرح ترقی کے مساوی مواقع اور جائز مراعات فراہم کی جائیں۔



