بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

کیا کرپشن صرف تھانوں میں ہے ؟

لاہور(فیاض ملک) فیاضیاں

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کرپشن کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں، سرکاری دفاتر میں نچلے درجے میں جو کرپشن موجود ہے اِس کی نوعیت مختلف ہے، جن لوگوں کو سرکاری دفاتر میں معمولی معمولی نوعیت کے کام پڑتے ہیں، اہلکار انہیں لٹکاتے چلے جاتے ہیں، چاہے کام جتنا بھی جائز اور درست ہو اس میں ناروا تاخیر کی جاتی ہے اور اگر ان کی خدمت میں تھوڑی بہت رشوت پیش کر دی جائے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔

اِسی طرح تھانوں میں بھی اہلکاروں سے بھی چھوٹے موٹے جائز (اور بعض صورتوں میں ناجائز) کام کرانے کےلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے، ایف آئی آر سے لیکر گمشدگی کی نقول بھی رشوت دے کر حاصل کی جاتی ہیں اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ معمولی کام بھی بعض اوقات کئی کئی دِن لے جاتا ہے۔

تھانے کی سطح پر ہونےوالی کرپشن کی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں برہمی اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پولیس میں موجود بدعنوان عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ کرپشن کے حوالے سے بدنام پولیس افسران کو کسی بھی صورت میں ایس ایچ او تعینات نہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کرپٹ پولیس آفیشل کے خلاف سخت رویہ اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو بدعنوان عناصر کی چھانٹی کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دےدی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جس ضلع میں جرائم کی شرح زیادہ ہوگی وہاں ڈی پی او سے بازپرس کی جائے گی، بچے اورخواتین میری ریڈ لائن ہیں، ان کے خلاف جرائم پرکسی کو معاف نہیں کیا جائے گا امن وامان پہلی ترجیح ہے، عوام کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

تاہم اس دوران آئی جی پنجاب نے اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں ڈکیتی کیسز میں54 فیصد، قتل 35 کیسز میں فیصد،کار ڈکیتی کیسز میں 46 فیصد اور بائیک چوری کیسز میں53 فیصدکمی آئی۔

قارئین کرام:وزیر اعلی مریم نواز شریف کے اجلاس تو ختم ہوگیا لیکن اسکے بعد پنجاب پولیس میں کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر سے مبینہ روابط کے حوالے سے ماضی میں بننے والی رپورٹس اور شواہد جوکہ پہلے ہی محکمانہ ریکارڈ کا حصہ ہیں ان کی ایک بار پھرسے ازسرنو چھان بین شروع ہوگئی ۔

ضلع اور ریجن کی سطح پر مبینہ طور پر کرپٹ افسران اور اہلکاروں کی فہرستیں شواہد سمیت طلب کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس عمل میں مختلف انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس سے بھی مدد لی جارہی ہیں، جس کے نتیجے میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے ایسے افسران اور اہلکاروں کے نام سامنے آ رہے جن کے بارے میں مبینہ طور پر منشیات فروشوں، قمار بازوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے روابط کی اطلاعات اور شواہد موجود تھے،تھانے کی سطح پر کرپشن کے خاتمے کیلئے یہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا ایک بڑا قدم اور وہ یقینا اس میں کامیاب بھی ہوگی ، لیکن اس وقت ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا تھانوں کو مطلوبہ سرکاری وسائل کی دستیابی کیلئے فنڈز کا واضح فقدان ہے ۔

ایس ایچ او کی تعیناتی، تھانے کے اخراجات، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن اور دیگر آپریشنل ضروریات کیلئے مطلوبہ وسائل میںپوسٹنگ کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے( اوپر کی کمائی پر انحصار )کرنا پڑتا ہے ،تھانے میں تزئین و آرائش کیلئے رنگ و کلی کا کام، پلستر ، ٹائل پتھر کا کام کے ساتھ ساتھ دیگر امور بھی (اپنی مدد آپ کے تحت) کروانے پڑتے ہیں۔

ہاں یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ تھانے میں ایس ایچ او کے عہدہ پر تعینات ہونےوالے انسپکٹرو سب انسپکٹر ز جب کسی بھی سینئرآفیسرکو تھانوں کی حالت زار اور دیگر مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے انکے حل کیلئے مدد طلب کریں تو عموما انکو یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ بس بھئی بس میرے پاس ان معاملات کو لیکر دوبارہ نہیں آنا اور ہاں اگر نہیں کرسکتے تو فورا سے پیشتر اپنی (پوسٹنگ) کوچھوڑو اور پولیس لائن میں رپورٹ کرو،یہ سننے کے بعد وہ بیچارہ آفیسراپنی پوسٹنگ کو محفوظ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت معاملات کو چلانے کی کوششوں میں جت جاتا ہے۔

اب ذرا ایک تھانے میں تعینات ہونےوالے ایس ایچ او سے لیکر اے ایس آئی اور محرر کےساتھ ہونےوالی کرپشن پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو اس تما م تر صور تحال پر کسی (دل جلے پولیس آفیسر نے) سوشل میڈیا پر ایک تحریر اپ لوڈ کی ہے جو میں من و عن آ پکی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

1، چالان جمع کروانے کیلئے ہر تھانے دار کو بلیک میل کر کے رشوت وصول کرتی ہے، آج تک انکے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی نہ کی جا سکی اور نہ ہی کوئی بات سننے کو تیار ہے۔

2، دور دراز علاقوں میں ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے، مختلف درخواستوں کی منظوری کےلئے دفاتر کے چکر۔

3، ہائی کورٹ کے چکر

4 ،لیبارٹری کےلئے PFSA پارسل جمع کروانے کے خرچ

5، تھانے کی سٹیشنری کا خرچ۔

6، تھانہ میں اپنا ذاتی ٹیبل اور کرسی
7، ذاتی لیپ ٹاپ
8،ذاتی پرنٹر، پنکھا اور بلب
9، سائلین کے بیٹھنے کےلئے کرسیاں

10، ریکارڈ کی حفاظت کےلئے اپنی ذاتی الماری،

11، ملزمان کو لگانے کےلئے ہتھکڑی،
12 ہر مہینے سینئر دفاتر کی ڈائری کے نام پر ہر تھانےدار سے پیسے لیے جاتے ہیں، اور اکثر و بیشتر کسی فٹیک کے طور پر بھی رقم وصول کی جاتی ہے

،13، نائب کورٹ کی خدمت اور آرڈر ٹائپ کرنےوالے کی فیس

،14، مہریں ثبت کرنےوالے کی فیس

،15، ملزم کے CRO کی فیس،

16، جیل میں جمع کروانے کی فیس،
17 ملزم اگر بیمار ہو تو اس کے میڈیکل کروانے کی فیس

،18، اگر ملزمہ ہو تو ساتھ لے جانے کےلئے لیڈی کانسٹیبل کی فیس

،19 ،کارکردگی کےلئے بوگس اشتہاری ڈلوانے کی فیس الگ

،20، جب پریشر بڑھتا تو ہر تھانےدار سے پرچے کروائے جاتے، چاہے مالِ مقدمہ برآمد ہو یا مال خانہ میں پیسے دے کر روڈ کلیر کروانے پڑیں

،21 جو افسر کارکردگی پر خرچہ نہ کر سکے، وہ شوکاز فائل کروانے کےلئے پی اے صاحب کی خدمت میں پیش ہو

،22 ،سالانہ Digital ACR جو افسران کی ذمہ داری ہے، وہ بھی کروانے کےلئے دفاتر میں پیسے دینے پڑتے، ورنہ لٹکے رہو

،23، گشت پر نکلتے ہوئے گاڑی کا تیل، ڈرائیور اور گن مینوں کو کھانا، کنٹرول پر تعینات لوگوں کے بے جا مطالبات، اس تحریر میں مزید بتایا گیا ہے کہ تھانےدار سینڈوچ بن چکے ہیں۔

اس نظام میں فرق صرف اتنا ہے کہ تھانےدار یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے تھانوں میں کرپٹ افسروں کو ایس ایچ او نہ لگانے کا حکم انتہائی خوش آئند ہے لیکن اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بھی اب زبان و زد عام پر ہے کہ کرپٹ افسران کو ڈی پی او اور اہم پوسٹنگ نہ دینے کا فیصلہ کب ہوگا ؟ایس ایچ او سے منتھلی مانگنے والے پی ایس پی افسران کےلئے کیا حکم ہے ؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button