
ان دنوں میں اپنے تعلیمی اداروں کی مختلف تقاریب اور سرگرمیوں میں سخت مصروف تھا،نوجوانوں کی مسکراہٹیں، ان کا جوش و جذبہ اور تعلیمی ہنگامے زندگی کے روشن اور خوبصورت پہلو کا احساس دلا رہے تھے،زندگی اپنے روایتی ہنگاموں کے ساتھ رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی یہ ہولناک خبر میرے کانوں تک پہنچی اور میں نے اسے ٹی وی چینلز پر دیکھا، تو میں یکدم سکتے کی حالت میں آ گیا اور شدید پریشانی نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا،مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو گیا اور ہم کس بھیانک معاشرے میں جی رہے ہیں۔

دماغ سن اور ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ چکے تھے، سچی بات تو یہ ہے کہ ان تعلیمی مصروفیات کے بیچ اچانک اس صدمے سے دوچار ہونے پر میرا کچھ بھی لکھنے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا،ایک لکھاری کے لیے سب سے کڑا وقت وہ ہوتا ہے جب اس کا اپنا دل صدمے سے چور ہو، لیکن سماجی ذمہ داری اس کے قلم کو خاموش رہنے کی اجازت نہ دے،آخر کاران معصوموں پر لکھے بنا رہا بھی نہ گیا، کیونکہ یہ محض چودہ نومولود بچوں کی موت نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے ریاستی نظام، انتظامی ڈھانچے اور قومی ضمیر کا وہ ہولناک جنازہ تھا جو اسلام آباد کے قلب میں بڑی بے دردی سے اٹھایا گیا۔

وہ معصوم کلیاں جنہوں نے ابھی دنیا میں چند دن یا چند گھنٹے ہی سانس لیا تھا، جنہیں شفا اور زندگی کی تلاش میں اس وارڈ میں لایا گیا تھا، وہ ہمارے نظام کی مجرمانہ لاپروائی کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ایک طرف وہ تعلیمی ادارے تھے جہاں ہم بچوں کو محفوظ اور روشن مستقبل کی نوید سناتے ہیں، اور دوسری طرف دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) تھا، جہاں بچوں کا مستقبل شروع ہونے سے پہلے ہی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ آگ زچہ و بچہ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے یا شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ،لیکن جو بات سب سے زیادہ روح فرسا، لرزہ خیز اور مجرمانہ ہے، وہ عینی شاہدین اور بلکتے ہوئے والدین کے بیانات ہیں، متاثرہ ماؤں نے روتے ہوئے بتایا کہ ہنگامی صورتحال کے وقت میٹرنٹی وارڈ کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے یہ لولا لنگڑا عذر پیش کیا گیا کہ بچوں کی چوری روکنے کی سخت پالیسی کے تحت دروازے بند رکھے جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیکیورٹی کا مطلب مریضوں کو موت کے پنجرے میں قید کرنا ہے؟ کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ رکھنے والے اس حساس ترین وارڈ میں فائر الارم، خودکار آگ بجھانے والے آلات اور ایمرجنسی ایگزٹ کیوں فعال نہیں تھے؟ جب آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ سیکنڈوں میں پھیلی، تو ریسکیو ٹیموں کو پہنچنے اور کھڑکیوں کے کنکریٹ کے جنگلے توڑنے میں گھنٹوں کیوں لگ گئے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پمز کی انتظامیہ کے چہرے پر ایک بڑا طمانچہ ہیں۔

سانحے کے فوراً بعد ہمیشہ کی طرح روایتی حکومتی ردعمل دیکھنے میں آیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے فوری انکوائری کا حکم دیا اور وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کر دیا گیا،وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی احتساب کا اعادہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی معاوضے کے اعلانات سامنے آئے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ ایسی انکوائری کمیٹیوں اور معطلیوں سے بھری پڑی ہے۔
جب بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے، عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چند بیوروکریٹس کو معطل کر دیا جاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انکوائری رپورٹیں فائلوں کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں،کیا کوئی بھی مالی معاوضہ یا الفاظ ان ماؤں کی گودیں واپس لا سکتے ہیں جن کے نو ماہ کے خواب ہسپتال کے بستروں پر جل کر راکھ ہو گئے؟

ہمیں جذباتیت سے ہٹ کر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں انسانی جان کی قیمت سستی ترین شے بن چکی ہے، پمز ہسپتال کا یہ واقعہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے، ہمارے سرکاری ہسپتالوں کا بنیادی ڈھانچہ، بالخصوص فائر سیفٹی کے قوانین اور بلڈنگ کوڈز، یکسر نظرانداز کیے جاتے ہیں، وزیر صحت کا یہ موقف کہ ہسپتالوں کے پاس وسائل اور فنڈز کی کمی ہے، کسی حد تک درست ہو سکتا ہے، لیکن آئی سی یو اور نرسری جیسے حساس ترین وارڈز میں چوبیس گھنٹے فعال ایمرجنسی پروٹوکول کا نہ ہونا وسائل کا نہیں بلکہ اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا فقدان ہے۔
جب تک نظام میں جزا و سزا کا سخت قانون نافذ نہیں ہوگا اور اعلیٰ ترین حکام کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عبرت ناک سزائیں نہیں دی جائیں گی، ایسے سانحات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔
حکومت کوچاہیئے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور روایتی کمیٹیوں سے آگے بڑھے،اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو تو سب سے پہلے ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں بالخصوص نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے مراکز کا فوری طور پر تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ کروایا جائے۔
دوسرا، ہسپتال کے عملے کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے لازمی تربیت دی جائے تاکہ وہ حادثے کے وقت دروازے مقفل کر کے بھاگنے کے بجائے مریضوں کو ریسکیو کر سکیں۔
تیسرا اور سب سے اہم قدم یہ کہ پمز سانحے کی انکوائری رپورٹ کو پبلک کیا جائے اور جو بھی فرد، انجینئر یا ہسپتال کا عہدیدار اس مجرمانہ غفلت کا مرتکب پایا جائے، اس کے خلاف مقدمہ چلا کر اسے نشانِ عبرت بنایا جائے۔
مشہور شاعر ذوق کا یہ شعر آج ان چودہ ماؤں کی آخری ہچکی بن چکا ہے۔
"حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے”
یہ معصوم بچے تو جنت کے پرندے بن گئے، لیکن وہ ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور ہسپتال انتظامیہ کے گریبانوں پر اپنے ننھے جلتے ہوئے ہاتھوں کے نشان چھوڑ گئے ہیں، اگر اب بھی ہم نے اپنے نظام کی اصلاح نہ کی اور ہسپتالوں کو سیاست اور لاپرواہی سے پاک نہ کیا، تو تاریخ اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی،معاشرے کا ہر طبقہ، خواہ وہ تعلیمی اداروں سے وابستہ ہو یا صحافت سے، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے تاکہ کسی اور ماں کی گود اس طرح نہ اجڑے۔



