پاکستانتازہ ترین

جماعت اسلامی کی ہڑتال، ملک بھر میں کاروباری مراکز جزوی طور پر بند، حکومتی وفد منصورہ پہنچ گیا

پٹرولیم مصنوعات اور لیوی ٹیکس کے خلاف احتجاج، حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات؛ حافظ نعیم الرحمان کا دھرنے جاری رکھنے کا اعلان

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور (ویب ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر ملک بھر میں کاروباری مراکز کہیں جزوی اور کہیں مکمل طور پر بند رہے، جس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے۔

کراچی میں بعض مقامات پر نامعلوم افراد کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا گیا۔ کورنگی کراسنگ کے قریب سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائر نذر آتش کیے گئے جبکہ دو موٹر سائیکلیں بھی جلائی گئیں۔ صفورا چورنگی اور اطراف میں بھی بعض افراد نے دکانیں اور پٹرول پمپس بند کرا دیے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجر برادری کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ کراچی بار کے تحت سندھ ہائیکورٹ سے پریس کلب تک مہنگائی کے خلاف پرامن ریلی نکالی گئی۔ ہڑتال اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث وکلا اور سائلین کو سٹی کورٹ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد اور لاہور میں بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف کاروباری و تجارتی مراکز جزوی طور پر بند رہے۔ سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ اور جی نائن سمیت مختلف علاقوں میں بیشتر دکانیں بند رہیں۔

لاہور میں کوئینز روڈ، عابد مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور برنتھ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔

مال روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کے کارکنوں اور تاجر برادری کے درمیان ہڑتال کے معاملے پر تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی جزوی ہڑتال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی ہڑتال کی گئی جبکہ وکلا برادری کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے اعلان کے باعث عدالتی امور بھی متاثر ہوئے۔

حکومتی وفد کی منصورہ میں حافظ نعیم سے ملاقات

دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے دھرنے موخر کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم دھرنے بھی جاری رہیں گے اور مذاکرات بھی ہوتے رہیں گے۔

حکومتی مذاکراتی وفد نے منصورہ میں حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی پیدا ہو اور دشمن اس سے فائدہ اٹھائے۔ عوامی یا سیاسی اجتماعات کو تخریب کار اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجاویز سنی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے جماعت اسلامی سے ماہرین کی ٹیم تشکیل دے کر مذاکرات میں حصہ لینے کی درخواست بھی کی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی وفد کی گزارشات سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مقصد عام آدمی کو ریلیف دلانا ہے جبکہ ایران جنگ کے باعث عام آدمی پر بوجھ پڑا ہے۔

دھرنے بھی جاری رہیں گے، مذاکرات بھی: حافظ نعیم

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دھرنا کسی ذاتی ایجنڈے کے لیے نہیں دیا۔ ان کے مطابق دھرنوں کا آج 19واں دن ہے اور مہنگائی سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، پٹرول کی قیمت کم کی جائے اور روٹی کی قیمت بھی کم کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت غریب کے لیے روٹی کی قیمت 10 روپے کردے تو کیا ہوجائے گا، لیوی ختم، پٹرول سستا اور روٹی کی قیمت کم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے دھرنے موخر کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم دھرنے بھی چلتے رہیں گے اور مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔

بعدازاں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی تجاویز ماننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان بھر میں تاریخی جدوجہد ہوئی، کراچی میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا، وکلا نے ریلیاں نکالیں جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں بھی تاریخی ہڑتال ہوئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ کراچی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں، جن کی انہوں نے مذمت کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے قائدین پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور مطالبہ کیا کہ یہ مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button