
لاہور (شہزاد فراموش) سوئی ناردرن گیس کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام ”ایک شام وطن کے نام“ کے عنوان سے پروقار تقریب کا

انعقاد کیا گیا، جس میں ملی نغموں کی خوبصورت پیشکش کے ساتھ ادارے کے بچوں کی وطن سے محبت کے اظہار پر مبنی مصوری کی نمائش بھی کی گئی۔
تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد جواد نے کی جبکہ نامور موسیقار اور گلوکار استاد شفقت حسین مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے میزبان سوئی ناردرن گیس کے مینجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل تھے۔
تقریب کے دوران اسٹیج پر ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر آپریشنز ثاقب ارباب، سینئر جنرل منیجر فرخ مجید اور میاں قیصر یعقوب بھی موجود تھے۔ تقریب کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرمد بشیر نے انجام دیے۔

صاحبِ صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد جواد گلے کی خرابی کے باعث گائیکی میں حصہ نہ لے سکے تاہم انہوں نے موسیقی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے ہمارے ہاں کوئی نئی دھن سامنے نہیں آئی، ایسے اداروں میں موسیقی کی محفل کا انعقاد خوش آئند ہے۔

انہوں نے معروف امریکی موسیقار لیونارڈ برنسٹن کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”افراتفری میں کائنات کا نام موسیقی ہے۔“
مہمان خصوصی استاد شفقت حسین نے ملی نغمہ ”ایہ دھرتی میرا سونا یارو“ پیش کر کے تقریب میں سماں باندھ دیا۔ ان کی خوبصورت گائیکی کو شرکا نے بھرپور انداز میں سراہا۔

تقریب میں ادارے کے مختلف دفاتر سے آنے والے شوقیہ گلوکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ عرفان شاہ، فرحت عباس، آفتاب قمر، عمر فراز، ثاقب رضا اور اسد لطیف نے موسیقی کی دھنوں پر ملی نغمے پیش کیے اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
ڈرم پلیئر وکی نے سولو پرفارمنس پیش کی جبکہ عبدالغفار اور ارشد عزیز نے شاعری پیش کرکے محفل کو مزید خوبصورت بنا دیا۔
تقریب کے دوران ادارے کے بچوں کی وطن سے محبت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہوئی مصوری کی نمائش بھی کی گئی، جسے شرکا نے بے حد پسند کیا۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں انعامات بھی دیے گئے۔
تقریب کے اختتام پر مینجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے معزز مہمانوں کو پھول اور شیلڈز پیش کیں۔ صدرِ تقریب پروفیسر ڈاکٹر محمد جواد اور مہمان خصوصی استاد شفقت حسین نے گلوکاروں اور دیگر فنکاروں کو اپنے ہاتھوں سے شیلڈز پیش کیں۔
تقریب میں شریک فنکاروں اور مہمانوں نے ”ایک شام وطن کے نام“ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ثقافتی اور موسیقی کی تقریبات نہ صرف قومی جذبے کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ اداروں میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کو بھی سامنے لانے کا ذریعہ بنتی ہیں



