انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینفن اور فنکار

بالی ووڈ پر ناکامی کا سایہ، ’ٹاکسک‘ اور ’بٹوارا‘ نے بڑے بجٹ کے خواب توڑ دیے

لندن:(تجزیہ حسنین جمیل)

لندن: (تجزیہ: حسنین جمیل) اگست اور ستمبر کے مہینے بھارتی سنیما خصوصاً بالی ووڈ کے لیے مشکلات سے بھرپور ثابت ہوئے۔ دو انتہائی متوقع اور بڑے بجٹ کی فلمیں، راکنگ اسٹار یش کی ’ٹاکسک‘ (Toxic) اور سنی دیول کی ’بٹوارا‘، باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔

ان فلموں کی ناکامی نے جہاں فلمی صنعت میں بڑے بجٹ، سپر اسٹارز اور وسیع پیمانے پر ریلیز کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، وہیں یہ بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا صرف بڑے نام اور کروڑوں روپے کا بجٹ فلم کی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں؟

’ٹاکسک‘: یش کے بڑے خواب کو دھچکا

’ٹاکسک‘ کو راکنگ اسٹار یش کے کیریئر کے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ ’کے جی ایف‘ کے دونوں حصوں کی غیر معمولی کامیابی کے بعد یش نے خود کو ایک بڑے پین انڈیا اسٹار کے طور پر منوایا، جس کے بعد ’ٹاکسک‘ سے بھی غیر معمولی توقعات وابستہ کی گئیں۔

650 کروڑ روپے کا بھاری بجٹ

فلم کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ’ٹاکسک‘ کا بجٹ تقریباً 650 کروڑ بھارتی روپے تھا، جبکہ اسے دنیا بھر میں تقریباً 9 ہزار سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔

فلم کو ہندی، اردو، تمل، ملیالم، کنڑ، تیلگو اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد اسے ایک وسیع پین انڈیا اور عالمی ناظرین تک پہنچانا تھا۔

باکس آفس پر توقعات پوری نہ ہو سکیں

فلم سے ابتدائی دنوں میں انتہائی بڑے کاروبار کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’ٹاکسک‘ پہلے چھ دنوں میں تقریباً 300 کروڑ روپے کا بزنس کر سکی، جبکہ اس کے مجموعی کاروبار کے حوالے سے بھی توقعات کم ہوتی دکھائی دیں۔

650 کروڑ روپے کے مبینہ بجٹ کے تناظر میں یہ کارکردگی فلم کے مالی مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔

تخلیقی کنٹرول بھی زیر بحث

’ٹاکسک‘ کی ناکامی کے حوالے سے تخلیقی فیصلوں اور فلم کی قیادت سے متعلق معاملات بھی زیر بحث رہے۔ فلم کی ہدایت کاری گیتو موہن داس سے منسوب کی گئی، جبکہ یش بھی اس منصوبے میں بطور پروڈیوسر اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

فلم کے اسکرپٹ اور تخلیقی سمت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، جن میں یش اور گیتو موہن داس کے درمیان تخلیقی اشتراک کا ذکر بھی کیا گیا۔ ناقدین کی جانب سے فلم کی رفتار، کہانی اور مجموعی پیشکش پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

’بٹوارا‘: سنجیدہ سنیما کو باکس آفس پر دھچکا

دوسری جانب سنی دیول کی ’بٹوارا‘ بھی شائقین کی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ فلم کا موضوع تقسیم ہند کے پس منظر میں انسانی المیے اور اس دور کے زخموں کے گرد گھومتا ہے۔

فلم کو ایک مضبوط تخلیقی ٹیم کا منصوبہ قرار دیا گیا، جس میں فلم ساز عامر خان، ہدایت کار راج کمار سنتوشی، کہانی کار اصغر وجاہت، سنی دیول، شبانہ اعظمی، موسیقار اے آر رحمان اور نغمہ نگار جاوید اختر جیسے نام شامل تھے۔

سنی دیول اور شبانہ اعظمی کی اداکاری

’بٹوارا‘ میں سنی دیول کا روایتی ایکشن ہیرو والا کردار نمایاں نہیں تھا، بلکہ فلم میں ان کی اداکاری، باڈی لینگویج اور چہرے کے تاثرات کے ذریعے کردار کے جذبات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔

شبانہ اعظمی کی اداکاری کو بھی فلم کے اہم پہلوؤں میں شمار کیا گیا، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق فلم تقریباً 120 کروڑ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں اب تک صرف 60 کروڑ روپے کے قریب کاروبار کر سکی، جس کے باعث اسے باکس آفس پر ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

کیا بڑا بجٹ کامیابی کی ضمانت ہے؟

’ٹاکسک‘ اور ’بٹوارا‘ کی ناکامی نے بھارتی فلمی صنعت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا سپر اسٹار، بھاری بجٹ اور وسیع پیمانے پر ریلیز ہی فلم کی کامیابی کے لیے کافی ہیں؟

حالیہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ناظرین اب صرف بڑے ناموں سے متاثر ہونے کے بجائے کہانی، اسکرپٹ، کرداروں اور فلم کی مجموعی پیشکش کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔

بالی ووڈ کے لیے یہ ناکامیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بڑے بجٹ کے ساتھ ساتھ مضبوط کہانی اور معیاری اسکرین پلے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مستقبل میں وہی فلمیں زیادہ کامیاب ہو سکتی ہیں جو ناظرین کی بدلتی ہوئی پسند اور توقعات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button