لاہور (بیوروچیف) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نااہل ترین حکومت ہے، جو اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے تمام بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے۔ حکومت کے ساتھ آج سے مذاکرات کا آغاز ہوگا، مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دھرنے کو حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے 22ویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں جماعت اسلامی اپنے مطالبات واضح طور پر پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا خاتمہ ہمارے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہباز حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے تقریباً 4 ہزار ارب روپے اکٹھے کئے ہیں، تاہم جس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی وصول کی جاتی ہے، اس مقصد کے بجائے اسے ریونیو اہداف کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ریونیو اکٹھا کرنے کا جو ہدف دیا گیا ہے وہ بھی پورا نہیں ہو رہا، جبکہ پورا ادارہ کرپشن کی شکایات کی زد میں ہے اور اس کے 2500 ملازمین کا بوجھ بھی عوام برداشت کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو بتایا جائے گا کہ پٹرولیم لیوی کے بغیر بھی معیشت چلائی جاسکتی ہے۔ حکومت سب سے پہلے شرح سود میں 3 فیصد کمی کرے، اس اقدام سے قومی خزانے کو تقریباً 1500 ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے ریزروز کو 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا جائے۔ بجٹ کا تقریباً 8 ہزار ارب روپے بینکوں کو سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، شرح سود کم کرنے اور ریزروز بڑھانے سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
آئی پی پیز کو کیپیسٹی پے منٹ بند کی جائے
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً 2 ہزار ارب روپے کیپیسٹی پے منٹ کی مد میں ادا کر رہے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ملک میں اضافی بجلی موجود ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود بھی بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات بالکل واضح ہیں، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز کے معاہدے ختم کئے جائیں۔
مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنے ساتھ ساتھ جاری رہیں گے، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اگلا مرحلہ پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگا۔ پیٹرول پمپس بھی بند کئے جائیں گے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو جماعت اسلامی حکومت گراؤ تحریک کی طرف جائے گی۔
یاسین ملک کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے
حافظ نعیم الرحمان نے بھارت میں حریت رہنما یاسین ملک کے ساتھ مبینہ ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ معاملہ عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کرنا چاہیے۔
سیاسی جماعتیں عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں
ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے چراغ بجھنے سے پہلے پھڑپھڑا رہے ہیں۔ مریم نواز کی جانب سے دیا گیا بیان صوبائی تعصب پھیلانے کی سازش ہے۔
انہوں نے فریال تالپور اور پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کے سندھ کے حوالے سے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ڈی ایم کے رہنما جب مل کر پی ٹی آئی کی حکومت گرا رہے تھے تو اس وقت سب متحد تھے، لیکن اب انہیں خطرات لاحق ہوئے ہیں تو پاکستانیوں کو تقسیم کرنے اور لڑانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
یوم دفاع پر افواج پاکستان کو خراج تحسین
یوم دفاع کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی افواج پاکستان اور پوری قوم کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ فوج جب ملک کے دفاع کے لیے لڑتی ہے تو پوری قوم انہیں عزت و وقار دیتی ہے، تاہم اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔
محسن نقوی ایک شعبے پر توجہ دیں
محسن نقوی کے حوالے سے ایک سوال پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ بہت سارے معاملات کو سنبھالنے کے بجائے ایک شعبے پر توجہ مرکوز کریں تو بہتر ہوگا۔ ان کے بقول کرکٹ سمیت ان کے زیرنگرانی مختلف شعبوں کا برا حال ہے۔
نئے صوبوں پر اتفاق رائے ضروری ہے
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس حوالے سے قومی سطح پر اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کی جانے والی ’’اچھل کود‘‘ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی سندھو دیش قابل قبول نہیں، پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سندھ کے حالات پر پیپلز پارٹی کو جواب دینا ہوگا
حافظ نعیم الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بلاول نے سکول کے بچوں کے ساتھ تصویر بنوائی تو بچوں کے بال مٹی میں اٹے ہوئے تھے اور ان کے پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتیاں تھیں، جبکہ بلاول لاکھوں روپے کے جوتے پہن کر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
فریال تالپور کے مشرف دور سے متعلق بیان پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مشرف دور کا مقامی حکومت کا نظام موجودہ نظام سے کہیں بہتر تھا۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی نے سندھ پر قبضہ کر رکھا ہے اور عوام کو تعلیم سمیت بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا بے نظیر بھٹو سے سامنا ہوگا تو انہیں جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے ہاریوں کو تباہ، سندھ کو اجاڑ اور لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا۔



