بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

ہم قوم کب بنیں گے؟

عاصم رضاخیالوی

جو قوم اپنی عزت نہیں کرتی، اسے دنیا سے عزت کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ قومی عزت کا آغاز دوسروں کی تذلیل سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنی ذمہ داری اور اپنے وطن کے وقار سے ہوتا ہے۔ اپنی عزت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم دوسروں کی عزت بھول جائیں؛ حقیقی قومی وقار وہ ہے جس میں انسان اپنے وطن سے محبت کرتے ہوئے دوسرے انسانوں، قوموں اور معاشروں کے احترام کو بھی ملحوظ رکھے۔ تاریخ میں وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی شناخت پر فخر کے ساتھ اپنے اجتماعی مفاد کو ذاتی اور گروہی مفاد پر ترجیح دینا سیکھتی ہیں۔

پاکستان بھی محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد ایک طویل تاریخی عمل سے گزری۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں وہ قرارداد منظور ہوئی جس نے برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے ایک الگ سیاسی مستقبل کی بنیاد مضبوط کی۔ بالآخر 1947 میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ یہ وہ پاکستان تھا جس کے قیام کی جدوجہد میں لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، ہجرت کی، خاندانوں کی جدائیاں برداشت کیں اور بے شمار جانوں کی قربانیاں دی گئیں۔

آزادی کے 79 برس بعد آج ہمارے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے کہ ہم ایک ریاست تو بن گئے، مگر کیا ہم ایک قوم بھی بن سکے؟ یہ سوال پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، سرائیکی یا مہاجر شناختوں کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی ہی اس کے مختلف ثقافتی، لسانی اور علاقائی رنگوں میں ہے۔ 2023 کی مردم شماری بھی پاکستان کی اسی گوناگونی کو ظاہر کرتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اپنی علاقائی شناخت کیوں رکھتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی مفاد کے وقت ہماری سب سے بڑی مشترکہ شناخت کیا ہوتی ہے۔

ایک قوم اپنی مختلف شناختوں کو ختم کرکے نہیں بنتی، بلکہ انہیں ایک بڑے اجتماعی مقصد کے ساتھ جوڑ کر بنتی ہے۔ پنجابی اپنی پنجابی ثقافت سے محبت کرے، سندھی اپنی سندھی تہذیب پر فخر کرے، بلوچ اپنی تاریخ اور روایات کو زندہ رکھے، پشتون اپنی زبان و ثقافت کو محفوظ رکھے، کشمیری اپنی شناخت سے جڑا رہے اور مہاجر اپنے تاریخی پس منظر کو یاد رکھے، مگر جب پاکستان کے اجتماعی مفاد کا سوال سامنے آئے تو یہ تمام شناختیں ایک بڑی شناخت میں سمٹ جائیں اور ہم سب پاکستانی بن کر سوچیں۔

بدقسمتی سے ہمارے سیاسی اور معاشرتی رویوں میں اس کے برعکس مثالیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ جب قومی مفاد کے فیصلوں کا وقت آتا ہے تو کبھی علاقائی محرومیوں کو سیاسی نعرہ بنا دیا جاتا ہے، کبھی صوبائی شناخت کو قومی شناخت کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی زبان و نسل کے نام پر لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں سوال یہ نہیں کہ پنجابی کون ہے یا سندھی کون ہے؛ سوال یہ ہے کہ پاکستانی کون ہے اور پاکستانی ہونے کی ذمہ داری کیا ہے؟

روزمرہ زندگی میں بھی ہماری اجتماعی سوچ کی ایک عجیب تصویر سامنے آتی ہے۔ بازار میں کوئی سبزی فروش ناپ تول میں خیانت کرے تو مسئلہ اس فرد کی بددیانتی ہے، دودھ فروش ملاوٹ کرے تو ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوتی ہے، کوئی سرکاری اہلکار رشوت لے تو احتساب اس اہلکار کا ہونا چاہیے اور کسی ادارے میں کام کی خرابی ہو تو اس ادارے سے سوال ہونا چاہیے۔ لیکن ہم اکثر ایک فرد یا ادارے کی غلطی کو پورے معاشرے کی شناخت سے جوڑ دیتے ہیں۔ یوں ہم اپنے ہی اجتماعی وجود کے بارے میں ایک منفی تصور پیدا کرتے رہتے ہیں۔

چند روز پہلے ایک نجی بینک میں چیک کیش کروانے گیا۔ بینک کے طریقہ کار کے مطابق ٹوکن مشین سے ٹوکن لیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد کاؤنٹر پر شور شروع ہوگیا۔ کوئی اپنے کام کو پہلے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا، کوئی عملے کی کارکردگی پر اعتراض کر رہا تھا اور کوئی نظام کو ناکام قرار دے رہا تھا۔ اسی دوران ایک عمر رسیدہ بزرگ کی تھکی ہوئی آواز سنائی دی کہ انہیں تنگ مت کرو، یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے میں نے اس جملے کو محض ایک بزرگ کی ناراضی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس میں ہمارے معاشرے کی ایک گہری سوچ دیکھی کہ ہم کبھی کبھی اپنی ہی قومی شناخت کو اپنے مسائل کا استعارہ بنا دیتے ہیں۔

یہاں ہمیں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے نظام پر تنقید کرنا، حکمرانوں سے سوال کرنا، اداروں کی اصلاح کا مطالبہ کرنا اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا شہری ذمہ داری ہے۔ لیکن کسی فرد کی غلطی کو پورے ملک کے کردار سے جوڑ دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ اگر سیاست میں بدعنوانی ہے تو سیاست دان سے سوال ہونا چاہیے، اگر بیوروکریسی میں کرپشن ہے تو متعلقہ اہلکار کا احتساب ہونا چاہیے، اگر کسی ادارے میں نااہلی ہے تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ پاکستان کی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ہم مسائل کو ان کی اصل جگہ پر شناخت کریں اور ذمہ داری بھی وہیں طے کریں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، بدعنوانی اور اقربا پروری کے خاتمے اور شہریوں کے مساوی حقوق پر زور دیا تھا۔ ان کا تصور ریاست ایسے معاشرے کی طرف اشارہ کرتا تھا جہاں شہری اپنے مذہب، زبان یا برادری سے قطع نظر ریاست کے سامنے اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے شہری ہوں۔ پاکستان کی قومی شناخت اسی شہری تصور کے ساتھ مضبوط ہو سکتی ہے۔

ہمیں اپنی تاریخ کے تلخ ابواب سے بھی سبق لینا ہوگا۔ 1971 کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ تھا۔ اس کے اسباب پر مختلف تاریخی اور سیاسی آرا موجود ہیں، لیکن اس تجربے نے یہ ضرور دکھایا کہ کسی بھی ریاست میں سیاسی شمولیت، انصاف، مساوی مواقع، نمائندگی اور شہری احساسِ شرکت کو نظرانداز کرنا قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ قوم صرف سرحد سے نہیں بنتی؛ قوم انصاف، اعتماد اور مشترکہ مقصد سے بنتی ہے۔

آج پاکستان کو بھی اسی اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ دفاعی صلاحیت کسی ریاست کی اہم قوت ہے، لیکن قومی طاقت صرف دفاع تک محدود نہیں ہوتی۔ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، صحت، قانون کی حکمرانی، روزگار، صنعت، برآمدات، تحقیق، انسانی سرمایہ اور مضبوط ادارے بھی قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں۔ پاکستان کے معاشی مسائل کا تعلق صرف کسی ایک حکومت یا ایک صوبے سے نہیں بلکہ طویل عرصے سے موجود ساختی اور ادارہ جاتی چیلنجز سے ہے۔ عالمی بینک بھی پاکستان کی ترقی کے لیے انسانی سرمائے، ادارہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی نمو کو اہم قرار دیتا ہے۔

اس لیے ہمیں صرف یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا؛ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم بحیثیت شہری پاکستان کو ترقی دینے کے لیے اپنا کردار کیا ادا کر رہے ہیں۔ اگر ہم قطار توڑ کر نظام کو برا کہیں، رشوت دے کر کرپشن کے خلاف تقریر کریں، ٹیکس سے بچ کر ریاست سے سہولیات کا مطالبہ کریں، سفارش کے ذریعے اپنا کام نکلوائیں اور پھر پورے ملک کو ناکام قرار دے دیں تو ہمیں اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

قومیں صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتیں، بازار میں بھی بنتی ہیں؛ صرف سرحد پر نہیں بنتیں، گھر اور اسکول میں بھی بنتی ہیں؛ صرف حکمرانوں کے فیصلوں سے نہیں بنتیں، عام شہری کے روزمرہ کردار سے بھی بنتی ہیں۔پاکستان کو ایک ایسی قوم کی ضرورت ہے جو اپنی علاقائی اور ثقافتی شناختوں کو عزت دے، مگر قومی مفاد کے وقت تقسیم نہ ہو۔ ہمیں اپنی زبانوں، ثقافتوں اور تاریخوں سے محبت رکھنی ہے، مگر ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ ہمیں اختلاف کرنا ہے مگر دشمنی کے بغیر، احتساب کرنا ہے مگر اجتماعی نفرت کے بغیر، تنقید کرنی ہے مگر اصلاح کی نیت کے ساتھ۔

وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی خامیوں کو چھپا دیں۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم خامیوں کو تسلیم کریں، ان کی نشاندہی کریں، ذمہ داروں سے سوال کریں اور اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کی عزت صرف قومی دنوں پر پرچم لہرانے سے نہیں بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کے حق کا احترام کرتا ہے، قانون کی پابندی کرتا ہے، دیانت داری سے کام کرتا ہے اور اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

79 برس پہلے پاکستان ایک ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اس ریاست کو ایک مضبوط، منصف، ذمہ دار اور متحد معاشرے میں تبدیل کرنے کے سفر کو آگے بڑھائیں۔ ہماری علاقائی شناختیں ہماری خوبصورتی ہیں، لیکن ہماری مشترکہ شناخت ہماری طاقت ہونی چاہیے۔

شاید آج پاکستان کو کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک نئے اجتماعی رویے کی ضرورت ہے۔ ایسا رویہ جس میں پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، سرائیکی، مہاجر اور دیگر تمام شناختوں کے لوگ اپنی اپنی ثقافت کے ساتھ ایک مشترکہ شناخت پر متفق ہوں اور وہ شناخت ہو: پاکستانی۔

کیونکہ پاکستان صرف ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی ریاست نہیں، یہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف سرحدوں کی حفاظت سے نہیں ہوگی؛ اس کے لیے ہمیں اپنے کردار، اپنے اداروں، اپنی معیشت، اپنے معاشرے اور سب سے بڑھ کر اپنی قومی سوچ کی بھی حفاظت کرنا ہوگی۔پاکستان کی عزت کا آغاز پاکستان سے نہیں، پاکستانی کے اپنے کردار سے ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button