لاہور، کراچی، سکھر (ویب ڈیسک) ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) 2026 کا امتحان منعقد ہوا، جس کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے مطابق MDCAT 2026 کے لیے ملک کے 34 شہروں سمیت سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔
صوبائی سطح پر پنجاب کے میڈیکل کالجز کے لیے 49 ہزار 199، خیبرپختونخوا میں 38 ہزار 841، سندھ میں 34 ہزار 233، بلوچستان میں 9 ہزار 923، آزاد کشمیر میں 2 ہزار 761 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 721 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی۔ اسلام آباد میں ایک ہزار 245 جبکہ ریاض میں 237 امیدوار امتحان کے لیے رجسٹرڈ تھے۔
MDCAT کے لیے 8 ہزار سوالات پر مشتمل سوالیہ بینک تیار کیا گیا تھا۔ ہر صوبے کے لیے الگ پرچہ تیار کیا گیا جبکہ کم از کم دو اضافی پرچے بھی تیار کیے گئے۔ ہر پرچے میں امیدواروں کے لیے 180 سوالات شامل تھے۔
MDCAT 2026 میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی کہ جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کردی گئی۔ جیوینائل کارڈ نہ ہونے کی صورت میں بھی امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی۔
امتحان کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر مبینہ جعلی پرچہ جاری کرنے کی تقریباً 8 مرتبہ کوشش کی گئی، تاہم تمام کوششیں ناکام بنادی گئیں۔
آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ نے بتایا کہ ماہرین کی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ دو راتوں سے پرچے کی کڑی نگرانی کی جارہی تھی۔ ان کے مطابق مسلسل کام اور نیند پوری نہ ہونے کے باعث وہ سکھر کے امتحانی مرکز میں MDCAT کے آغاز سے قبل بے ہوش ہوکر نشست سے گر گئے، تاہم عملے اور طلبہ نے فوری طبی امداد فراہم کی جس کے بعد ان کی طبیعت بہتر ہوگئی۔
سیبا ٹیسٹنگ سروس نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے MDCAT کے مبینہ پرچے کو جعلی قرار دیتے ہوئے امیدواروں کو غیر مصدقہ مواد پر اعتماد نہ کرنے کی ہدایت کی۔
کراچی میں گرمی اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات
ادھر کراچی میں MDCAT کے دوران شدید گرمی اور حبس کے باعث امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے امتحانی مرکز میں بعض بلاکس کے پنکھے خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے باعث بعض طلبہ کی طبیعت خراب ہوگئی۔
امتحانی مرکز میں موجود طبی ٹیم نے دو طالبات کو طبی امداد فراہم کی جبکہ امیدواروں کو پانی، او آر ایس اور جوس بھی دیا گیا۔ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لیے ڈاکٹرز کو بھی طلب کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امتحانی مراکز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے امیدواروں نے شکایات کیں، جس پر سیکرٹری صحت نے این ای ڈی یونیورسٹی کے امتحانی مرکز کا دورہ کیا اور انتظامیہ کو طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔



