انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

دہشت گردی کے اسباب اور حل

تحریر: جمال احمد

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ کبھی خودکش حملوں، کبھی سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور کبھی عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے قومی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی صرف انسانی جانیں نہیں لیتی بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس مسئلے کا پائیدار حل محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے بنیادی اسباب کو سمجھنے اور انہیں بیک وقت حل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ انتہاپسند نظریات کا پھیلائوہے۔ جب مذہب، قوم، مسلک یا سیاسی اختلاف کو نفرت اور تشدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو معاشرے میں عدم برداشت جنم لیتی ہے۔ بعض شدت پسند گروہ اپنے مخصوص نظریات کو درست ثابت کرنے کے لیے تشدد کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسے بیانیے نوجوانوں کو بالخصوص متاثر کر سکتے ہیں دوسرا اہم سبب کمزور حکمرانی اور ریاستی رٹ کے مسائل ہیں۔ جہاں قانون کی عمل داری کمزور ہو، انصاف تک رسائی مشکل ہو اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، وہاں غیر ریاستی عناصر کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔ سرحدی اور دور دراز علاقوں میں ریاستی اداروں کی محدود موجودگی بھی بعض اوقات اس مسئلے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔غربت اور بے روزگاری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر غریب یا بے روزگار شخص شدت پسند بن جاتا ہے۔ تاہم محرومی، مواقع کی کمی، کمزور تعلیمی نظام اور سماجی بے یقینی بعض انتہاپسند گروہوں کے لیے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

علاقائی تنازعات اور سرحد پار موجود مسلح گروہوں کا مسئلہ بھی پاکستان کی داخلی سلامتی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ افغانستان میں طویل جنگ اور وہاں پیدا ہونے والی بدامنی کے اثرات پاکستان تک پہنچتے رہے ہیں اسی طرح مختلف مسلح تنظیموں کے باہمی روابط اور نقل و حرکت نے دہشت گردی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ایک اور اہم پہلو دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تسلسل کا ہے۔ جب ریاستی حکمت عملی میں بار بار تبدیلی آئے یا مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ سطح کی ہم آہنگی نہ ہو تو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی آپریشنز کی اپنی اہمیت ہے۔ ریاست کو شہریوں اور اہلکاروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مسلح گروہوں کے خلاف قانون کے مطابق مو ثر کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ لیکن صرف فوج یا پولیس کارروائی کسی ایسے مسئلے کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکتی جس کی جڑیں نظریاتی، سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل میں بھی موجود ہوں۔

اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ اس کے پیدا ہونے والے ماحول کو بھی تبدیل کیا جائے۔ دہشت گرد تنظیم کے جنگجو کو روکنا ضروری ہے، لیکن اس نوجوان کو شدت پسندی کی طرف جانے سے روکنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے جو مستقبل میں اس تنظیم کا حصہ بن سکتا ہے۔دہشت گردی کے طویل مدتی خاتمے کے لیے تعلیم بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو طلبہ کو صرف روزگار کے لیے تیار نہ کرے بلکہ انہیں اختلاف رائے، برداشت، دلیل، قانون اور شہری ذمہ داری کا شعور بھی دے۔نصاب اور تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ، برداشت اور بین المسالک و بین المذاہب احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ مذہبی تعلیم بھی معتبر علما اور مستند اداروں کی نگرانی میں ایسے انداز سے دی جانی چاہیے جو دین کے بنیادی اخلاقی اصولوں، انسانی جان کے احترام اور امن کو اجاگر کرے۔

پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت بھی ہیں اور اگر انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مناسب مواقع نہ ملیں تو یہی محرومی ایک بڑا سماجی مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔حکومت کو پسماندہ علاقوں میں معیاری سکول، فنی تربیتی مراکز، جامعات، کھیلوں کی سہولتیں اور روزگار کے مواقع بڑھانے چاہییں۔ نوجوان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کے مستقبل کا راستہ تشدد نہیں بلکہ تعلیم، ہنر اور محنت سے نکلتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون کی بالادستی بنیادی شرط ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات کی مو ثر تفتیش، جدید فرانزک سہولتوں کی فراہمی،پراسیکیوشن کو مضبوط بنانا اور عدالتوں کو مو ¿ثر قانونی و انتظامی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ساتھ ہی عام شہری کے بنیادی حقوق اور قانون کے تقاضوں کا تحفظ بھی اہم ہے۔ ریاست جب قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہے تو اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کے لیے جگہ کم ہوتی ہے۔

پاکستان کو اپنی سرحدوں کی مو ثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ پڑوسی ممالک کے ساتھ موثر سفارتی رابطہ اور انٹیلی جنس تعاون بھی ضروری ہے۔دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ مسلح گروہوں کی سرحد پار سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر تعاون، معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ انسدادِ دہشت گردی اقدامات زیادہ مو ¿ثر ثابت ہو سکتے ہیں۔آج دہشت گرد تنظیمیں صرف بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ بیانیے کے ذریعے بھی جنگ لڑتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، جھوٹی معلومات اور انتہاپسندانہ پروپیگنڈا تیزی سے پھیل سکتا ہے۔میڈیا کو دہشت گردی کی کوریج میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

دہشت گردوں کو غیر ضروری تشہیر دینے کے بجائے متاثرین، ریاستی کارروائی، قانونی حقائق اور امن کے پیغام کو نمایاں کرنا زیادہ مفید ہے۔ دوسری طرف ریاست کو بھی آزادی اظہار اور ذمہ دار صحافت کے قانونی دائرے کا احترام کرتے ہوئے غلط معلومات کا مو ¿ثر جواب دینا چاہیے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک حکومت، ادارے یا جماعت کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے طویل المدتی قومی حکمت عملی ضروری ہے جس میں فوج، پولیس، انٹیلی جنس ادارے، عدلیہ، پارلیمان، تعلیمی ادارے، علما، میڈیا اور سول سوسائٹی اپنے اپنے دائرہ کار میں کردار ادا کریں۔سب سے بڑھ کر پالیسی میں تسلسل ضروری ہے۔دہشت گردی کا خاتمہ صرف دہشت گرد کو پکڑنے یا ایک تنظیم کے خلاف آپریشن کرنے کا نام نہیں۔

اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایسا معاشرہ تشکیل پائے جہاں قانون مضبوط ہو، انصاف قابل رسائی ہو، نوجوان بااختیار ہوں، تعلیم معیار فراہم کرے، اختلاف کو برداشت کیا جائے اور تشدد کے بجائے مکالمے کو ترجیح حاصل ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی پائیدار فتح تعلیم، انصاف، قانون کی بالادستی، معاشی مواقع، موثر حکمرانی اور امن کے مضبوط بیانیے سے ہی ممکن ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button