ڈاکٹر رزاق شاہد کے شعروں میں مٹی کی خوشبو، عہد کا کرب اور سچ کی آواز
شہزاد فراموش

ڈاکٹر رزاق شاہد پنجابی شعر و ادب کے افق پر ایک درخشندہ، متوازن اور معتبر نام ہیں۔ ان کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ پہلے بھی باذوق قارئین کے دِلوں پر راج کر چکے ہیں۔ اب ان کی غزلوں کا تازہ دَم گلدستہ "ہونی مارے سینتاں” زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر پنجابی ادب کے آنگن میں اپنی سحر انگیز خوشبو بکھیر رہا ہے۔ وہ پنجابی زبان و ادب کے ایسے بے لوث سیوک اور مشفق استاد ہیں جن کی فکر اور ہر سانس میں پنجاب کی دھرتی کی مہک بسی ہے۔

بنیادی طور پر ان کی روح غزل کے سانچے میں ڈھلی ہے۔ وہ پنجابی غزل کی رچاؤ بھری روایت، اس کے مزاج اور شعری رموز کے محرمِ راز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مصرعوں میں پنجابیت کا لمس، لوک دھنوں کی مٹھاس اور مٹی کی مہک پوری توانائی کے ساتھ دھڑکتی دکھائی دیتی ہے۔ زبان کے نشیب و فراز سے گہری آگاہی اور لفظوں کی جادوگری کے باعث ان کا کلام لفظوں کا پیرہن اوڑھنے کے ساتھ سیدھا دل پر دستک دیتا ہے اور روح کے تاروں کو چھیڑ جاتا ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود ہی فرماتے ہیں:
اوہ فر ایہدا ای دیوانہ ہو جاندا
شاہد دا جو پڑھ لیندا اک وار کلام
گزشتہ برس ان کا شعری مجموعہ "چھیڑ دِلاں دا اکتارا” منظرِ عام پر آیا جس کے نغماتی سروں کی مدھر بازگشت آج بھی ادبی فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ زیرِ نظر مجموعہ "ہونی مارے سینتاں” میں جہاں روایتی غزل کی معطر فضا ہے، وہاں وقت کے ستم،سیاسی ابتری، سماجی گُھٹن اور معاشی ناانصافیوں کا نوحہ بھی اک شعلہ بن کر لپکتا ہے۔ ان کا قلم جذباتی دنیا کی عکاسی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے اور عصرِ حاضر کے کرب، آلام اور حالات کی تلخ حقیقتوں کی جرات مندانہ ترجمانی بھی کرتا ہے۔ ان کی ایک مناجات کا عجز و سوز دیکھیے:

ربّا سوہنیا ربّا!
تھاں تھاں مچیا نھیر
تڑپےگی مخلوق ایہ،
ہور کِنی کو دیر؟
ربّا سوہنیا ربّا!
سُن سکیں تاں سُن ڈاکو چور لٹیرے
پردھان بنے نیں ہن
ربّا سوہنیا ربّا!
منگاں دیس دی خیر کرم تیرے دیاں بارشاں وسن اٹھے پہر
ڈاکٹر رزاق شاہد نے اپنے طویل شعری سفر میں وقت کے بہاؤ اور معاشرتی بدلتے رنگوں کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ اس مجموعے میں شامل اکثر غزلیں اگرچہ ان کے ماضی کے تخلیقی سفر کا حصہ ہیں، مگر سچائی کی طاقت دیکھیے کہ برسوں پہلے کہے گئے اشعار بھی یوں لگتا ہے جیسے آج کے سیاسی اور سماجی
منظرنامے کا براہِ راست آئینہ ہوں۔ وہ شعروں کو لفظوں کی شعبدہ بازی کے علاوہ وقت کی نبض پر رکھی ہوئی ایک بیدار مغز فنکار کی انگلی کا احساس بھی دلاتے ہیں:
آسے پاسے جدھر ویکھاں
رَت وچ ڈُبے منظر ویکھاں
موم دی بیڑی، آل دوالے
اگ دا اک سمندر ویکھاں
کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے والے کے لیے فکر اور احساس کا نیا در کھولتا ہے۔ بکھرتے خوابوں، ٹوٹتی امیدوں اور خاموش تماشائی بنتے عوام کا مرثیہ انہوں نے بڑے دردمندانہ انداز میں نظم کیا ہے۔
تعبیراں تاں خورے کِتھے ملھ گئیاں سُفنے ویہندیاں ویہندیاں عمراں ڈُھلھ گئیاں
ظلماں تے وی ہن تاں ہُوکر اُٹھدی نہیں ظالم نال طبیعتاں اَینیاں رلھ گئیاں
ڈاکٹر رزاق شاہد کا قلم صدمات اور اندھیروں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا- ظلم، خوف اور ناانصافی کی اس تاریک شب میں بھی وہ امید اور روشنی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حوادثِ زمانہ کی آندھی کتنی ہی تند و تیز کیوں نہ ہو، سچائی کی کِرن اور خوابوں کی جوت کبھی بجھائی نہیں جا سکتی۔ سحر کی آس اور نئی صبح کا یقینِ کامل ان کی غزل کا حتمی عنوان بن جاتا ہے:
آس دے جگنو دا میں درشن لبھ رہیاں یعنی، نھیری رات اچ چانن لبھ رہیاں
اور
اینی چھیتی دل میلا نہ کر
سُفنیاں نال تعبیراں ہوندیاں نیں
حقیقت یہ ہے کہ "ہونی مارے سینتاں” کی غزلیں وقت کے اشاروں کو پڑھنے، ضمیر کو جگانے اور مٹی سے وفا نبھانے کا ایک خوبصورت استعارہ ہیں۔ کامل یقین ہے کہ احساس کی تپش، سچائی کی مہک اور فکرِ رسا سے لبریز ڈاکٹر رزاق شاہد کا یہ نیا تخلیقی سفر بھی ان کے سابق مجموعوں کی طرح ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی، دوام اور تحسین سمیٹے گا۔



