پاکستانتازہ ترین

محتسب پنجاب کے 30 سال مکمل، لاہور میں عالمی کانفرنس، دنیا بھر سے مندوبین کی شرکت

عالمی کانفرنس میں گڈ گورننس، شہری حقوق، ڈیجیٹل تبدیلی اور ادارہ جاتی خودمختاری پر تفصیلی گفتگو

لاہور (ویب ڈیسک) محتسب پنجاب کے دفتر کے قیام کے 30 سال مکمل ہونے پر لاہور میں 30ویں سالگرہ کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے محتسب اداروں، انسانی حقوق اور گورننس کے شعبوں سے وابستہ شخصیات اور نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کا موضوع ’’محتسب اداروں کا احتساب، گڈ گورننس اور شہریوں کے حقوق کے فروغ میں کردار‘‘ تھا۔ کانفرنس میں پاپوا نیو گنی، جنوبی افریقہ، ویسٹ کیمرون، زیمبیا، آذربائیجان، روس، ماریشس، نائیجیریا، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یوکرین، انڈورا، ترکیہ، کرغزستان، مکاؤ، بحرین، تیمور لیستے اور فلپائن سمیت مختلف ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔

کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے غیر ملکی مندوبین کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور شہریوں کو مرکز نگاہ بنا کر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے محتسب پنجاب کی کوششوں کو سراہا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ محتسب پنجاب نے ادارے کو ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی نظام میں تبدیل کیا ہے اور شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے شکایات کے ازالے کی شرح کو بھی سراہا۔

پنجاب کی سینئر وزیر نے غیر ملکی مندوبین اور ان کے اہل خانہ کو آئندہ سال مارچ میں بسنت کے موقع پر لاہور آنے کی دعوت بھی دی۔

اپنے کلیدی خطاب میں محتسب پنجاب عائشہ حامد نے ادارے کی کارکردگی اور ترقی میں ایڈوائزرز، افسران اور اہلکاروں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ 2025ء کے دوران محتسب پنجاب کے دفتر کو 73 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جبکہ رواں سال اب تک 60 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوچکی ہیں، جو عوام کے ادارے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محتسب پنجاب کے دفتر نے حال ہی میں انفارمیشن سکیورٹی کے حوالے سے ISO/IEC 27001:2022 سرٹیفکیشن حاصل کی ہے، جبکہ اس کے کمپلینٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (CMIS) کو گزشتہ سال ISO 9001:2015 سرٹیفکیشن حاصل ہوئی۔

عائشہ حامد کے مطابق یہ سرٹیفکیشنز عوامی خدمت میں ادارہ جاتی کارکردگی، شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

زیمبیا کی پبلک پروٹیکٹر کیرولین سی زولو نے اپنے افتتاحی خطاب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور محتسب پنجاب عائشہ حامد کی جانب سے دنیا بھر سے بڑی تعداد میں مندوبین کو کانفرنس میں مدعو کرنے کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے محتسب اداروں کے درمیان تجربات، معلومات اور بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس باہمی سیکھنے اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔

کانفرنس کے دوران محتسب اداروں کے مختلف پہلوؤں اور ادارہ جاتی ترقی کے حوالے سے تین پینل ڈسکشنز بھی ہوئیں۔

پہلے پینل میں ’’اچھی طرز حکمرانی کے فروغ میں محتسب اداروں کا بدلتا ہوا کردار‘‘ کے موضوع پر مختلف ممالک کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا۔ پینل میں زیمبیا کی پبلک پروٹیکٹر کیرولین سی زولو، روس کے یاروسلاول ریجن کے انسانی حقوق کے کمشنر سرگئی بابورکن، مشرقی تیمور کے چیف محتسب ورجیلیو دا سلوا گوتیریس، ماریشس کے ہائی کمشنر منسو کوریما بکس، ترکیہ کے محتسب عبداللہ چنگیز مکاس، سوئٹزرلینڈ کی جسٹس پور ٹوس انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شرف عزیزوف، کرغزستان کی ڈپٹی محتسب ایچوروک نظرا لیوا اور کیمرون کے نارتھ ویسٹ ریجن کے پبلک انڈیپنڈنٹ کنسیلی ایٹر ریسرچ آفیسر فرانسس فومبی یانگ شریک ہوئے۔ بینکنگ محتسب سراج الدین عزیز نے پینل کی میزبانی کی۔

دوسرے پینل میں ’’محتسب اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے معیار برتری‘‘ کے موضوع پر اٹلی کے نیشنل کوآرڈی نیشن آف اٹالین امبڈزمین کے صدر مارینو فاردیلی، محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت، نائیجیریا کے چیف کمشنر بشیر ابوبکر، ماریشس کی بچوں کی محتسب انیتا گوراہ، جنوبی افریقہ کے سابق پولیس محتسب اوسوالڈ ڈی ریڈی اور کیمرون کے ساؤتھ ویسٹ ریجن کے پبلک انڈیپنڈنٹ کنسیلی ایٹر آفس کے ریسرچ آفیسر ویرن ایبونگ ایبونگ نگولے نے شرکت کی۔ پینل کی میزبانی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے کی۔

تیسرے پینل میں ’’محتسب اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی بہترین طریقہ ہائے کار‘‘ کے موضوع پر یوکرین کی پہلی محتسب ڈاکٹر پروفیسر نینا کارپاچیوا، آذربائیجان کی محتسب کے ڈپٹی ہیڈ راشد روم زادہ، روس کے علاقائی محتسب کے بین الاقوامی شعبے کی سربراہ انا دیمینیوا، محتسب خیبر پختونخوا روباب مہدی، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار اور قطر نیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی کے شعبہ قانونی امور کے سربراہ ناصر المری نے اظہار خیال کیا۔ فوزیہ وقار نے پینل کی میزبانی کی۔

تینوں پینل ڈسکشنز کے بعد سوال و جواب کے سیشن بھی ہوئے، جن میں مندوبین نے شکایات کے ازالے، ڈیجیٹل تبدیلی، ادارہ جاتی خودمختاری اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔

کانفرنس کے ذریعے محتسب پنجاب کے 30 سالہ عوامی خدمت کے سفر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے محتسب اداروں کو احتساب، بہتر طرز حکمرانی، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف تک عوام کی رسائی مزید مؤثر بنانے کے لیے تجربات اور بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button