ساہیوال (نیوز رپورٹر، وی او این ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دوڑ میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا بدانتظامی کا شکار ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ ایسا لانگ مارچ دیکھا جو اپنی ہی حکومت کو کھا گیا۔
یونیورسٹی آف ساہیوال میں لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپ چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دی اور کہا کہ آج ان والدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے محنت اور قربانیوں سے اپنے بچوں کو اس مقام تک پہنچایا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پہلی مرتبہ نرسز اور مدارس کے طلبہ کو بھی حکومتی اسکیموں میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو ’’ورک فار پنجاب‘‘ پروگرام کے تحت ماہانہ 60 سے 65 ہزار روپے تک انٹرن شپ فراہم کر رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو ذمہ داریاں دینے کے لیے مزید اقدامات زیرِ غور ہیں۔
طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ہنر سے آراستہ کرنے کا عزم
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت بچوں کو اے آئی ٹولز کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پانچ لاکھ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے اقدامات کیے گئے، جبکہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے ہنرمند نوجوانوں کو پرواز کارڈ کے ذریعے ٹکٹ سمیت ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی تعلیمی شعبے میں کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری میرٹ پر کی گئی ہے اور سفارش کے بجائے قابلیت کو ترجیح دی گئی ہے۔
لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس صرف میرٹ پر دی جا رہی ہیں
مریم نواز شریف نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپ طلبہ کا حق ہیں اور ان کے حصول کے لیے کسی کی سفارش درکار نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسکیموں میں سو فیصد میرٹ یقینی بنایا گیا ہے اور کسی وزیر، سیاست دان یا افسر کی سفارش کو ترجیح نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے خزانے طلبہ کے لیے کھول دیے گئے ہیں تاکہ کوئی قابل اور ذہین طالب علم مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری نہ چھوڑے۔ لیپ ٹاپ اسکیم میں دوسرے صوبوں کے طلبہ کے لیے بھی کوٹہ رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نواز شریف اسکول آف ایمیننس کے ذریعے بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم اور جدید تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔
ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس دینے کا اعلان
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت طلبہ کو ایک لاکھ بائیکس فراہم کر رہی ہے، جبکہ سی ایم بائیک اسکیم میں بڑی تعداد طالبات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک بائیک حاصل کرنے والوں کو مفت ڈرائیونگ ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ بالخصوص طالبات کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مریم نواز شریف کے مطابق الیکٹرک بائیک اسکیم کے لیے 13 لاکھ طلبہ نے رجسٹریشن کرائی، جبکہ چھ لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ نومبر کو الیکٹرک بائیک منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں اور انہیں تعلیم اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔
صحت، رہائش اور کسانوں کے لیے حکومتی اقدامات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت مریضوں کو ان کی دہلیز پر دو ماہ تک کی ادویات فراہم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ مزدوروں کو کام کی جگہ پر علاج کی سہولت دینے کا مقصد ان کی دیہاڑی اور روزگار کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کلینک آن ویل سے تین کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور مریم کی دستک پروگرام کے ذریعے شہریوں کو برتھ سرٹیفکیٹ سمیت مختلف سرکاری خدمات گھر کی دہلیز پر فراہم کی جا رہی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کسان کارڈ کے ذریعے دس لاکھ کسانوں کو سہولت فراہم کر چکی ہے، جبکہ 30 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ مویشی پالنے والے افراد کے لیے لائیوسٹاک کارڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں سڑکوں، گرین بسوں اور الیکٹرک بسوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے، جبکہ گرین بسوں کا کرایہ 20 روپے برقرار رکھا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید
مریم نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی، حکومتی کارکردگی اور وسائل کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح کے منصوبوں کے بجائے دھرنوں اور احتجاجوں پر وسائل خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایسا دیکھا ہے کہ ایک صوبہ دوسرے صوبے اور وفاق پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ ان کے بقول گورننس اور عوامی خدمت کے عملی نمونے دیکھنے کے لیے پنجاب کا دورہ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا میں اسکول کی چھت گرنے سے بچوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
عوام کے تحفظ اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری عوام کی عزت، وقار اور جان و مال کا تحفظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں مویشی چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور شہری کسی بھی مسئلے کی صورت میں ہیلپ لائن 15 یا ’’مریم کو بتائیں‘‘ ایپ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بچوں کی ترقی اور کامیابی ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس کے ذریعے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے نوجوانوں نے اپنی قابلیت سے ثابت کیا ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک کا نام بھی روشن کر سکتے ہیں۔
ساہیوال میں 5 ارب 61 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے دورۂ ساہیوال کے دوران مجموعی طور پر 5 ارب 61 کروڑ روپے کے چار بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان میں مریم نواز سپورٹس ایرینا، صدر بازار کا بیوٹیفکیشن منصوبہ، ماڈل ایگری کلچر مال اور ساہیوال سے عارف والا تک دو رویہ سڑک شامل ہیں۔
انہوں نے سپورٹس ایرینا کا دورہ کیا، کھلاڑیوں سے ملاقات کی، بچوں کو آٹوگراف دیے اور ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ اس موقع پر انہوں نے کرکٹ بیٹ سے کھیل میں حصہ لیا اور فٹ بال کو کک لگا کر سرگرمی کا آغاز بھی کیا۔
مریم نواز شریف نے ساہیوال ماڈل ایگری کلچر مال کا افتتاح کرتے ہوئے پنجاب بھر میں مزید دس ماڈل ایگری کلچر مال منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبے جھنگ، فیصل آباد، رینالہ خورد، خانیوال، جام پور، بورے والا، صادق آباد، مریدکے، پنڈی گھیپ اور میانوالی میں قائم کیے جانے ہیں۔
انہوں نے ساہیوال، عارف والا 27 کلومیٹر طویل دو رویہ سڑک کا افتتاح بھی کیا اور کہا کہ اس منصوبے سے تین اضلاع کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو دیگر ترقیاتی منصوبے بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
خوراک کے عالمی دن پر کسانوں کو خراجِ تحسین
دریں اثنا، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خوراک کے عالمی دن کے موقع پر کسانوں اور ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جو دوسروں کے لیے خوراک کی فراہمی میں محنت کرتے ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ عالمی یوم خوراک کا مقصد غذائی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور غیر معمولی ماحولیاتی حالات دنیا بھر میں مناسب خوراک کی فراہمی کے لیے بڑے چیلنج بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو متوازن اور معیاری خوراک کی فراہمی پائیدار ترقی کی اہم علامت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسانوں سمیت تمام متعلقہ شعبوں کی مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں۔



