بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ریلوے کی بحالی کیلئے” ماسٹر پلان“ بنایا جائے

تحریر: فرخ ریاض بٹ

پاکستان میں اگر کسی ادارے کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ پاکستان ریلوے ہے۔ ایک زمانے میں ریل کا سفر صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ ملکی تجارت، صنعت، زراعت اور عام آدمی کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ بڑے شہروں کو چھوٹے قصبوں سے ملانے والی ریل گاڑی لاکھوں لوگوں کے لیے سستی، محفوظ اور قابل اعتماد سفری سہولت فراہم کرتی تھی۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدم توجہی، محدود سرمایہ کاری، فرسودہ انفراسٹرکچر، انتظامی کمزوریوں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث پاکستان ریلوے اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت پیچھے رہ گیا۔پاکستان ریلوے کو دوبارہ ایک مضبوط، منافع بخش اور جدید ادارہ بنانے کے لیے روایتی مرمت اور وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔سب سے پہلا مسئلہ ریلوے ٹریک کا ہے۔ پاکستان ریلوے کے کئی اہم روٹس پر پٹریاں پرانی ہو چکی ہیں، جس کے باعث ٹرینوں کی رفتار محدود، سفر کا دورانیہ طویل اور حادثات کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

بعض مقامات پر ٹریک کی حالت ایسی ہے کہ ٹرین کو انتہائی کم رفتار سے گزارنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کا مستقل حل یہ ہے کہ ملک کے اہم ریلوے کوریڈورز کی مرحلہ وار مکمل اپ گریڈیشن کی جائے۔اس مقصد کے لیے ایک قومی ”ریل ٹریک بحالی پروگرام“ شروع کیا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں ان روٹس کی نشاندہی کی جائے جہاں مسافروں اور مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت سب سے زیادہ ہے۔

کراچی سے لاہور اور راولپنڈی تک مرکزی لائن، کراچی سے پشاور تک اہم حصوں اور دیگر صنعتی و تجارتی مراکز سے منسلک لائنوں کو ترجیح دی جائے۔ جہاں پٹری مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے وہاں صرف مرمت کے بجائے نئی ریل، نئے سلیپرز، جدید فاسٹننگ سسٹم اور بہتر بیلسٹ کے ساتھ مکمل ٹریک کی تعمیر نو کی جائے۔ یہ کام ایک ہی سال میں ممکن نہیں، لیکن اگر حکومت دس سال کا جامع منصوبہ بنائے اور ہر سال باقاعدگی سے فنڈز مختص کرے تو چند برسوں میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹریک کی تعمیر اور مرمت کو سیاسی اعلانات کے بجائے ایک مستقل قومی منصوبے کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستان ریلوے کی ترقی کا دوسرا اہم ستون جدید سگنلنگ اور مواصلاتی نظام ہے۔ صرف نئی پٹری بچھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دنیا میں جدید ریلوے نظام ٹریک، سگنلنگ، مواصلات اور ٹرین کنٹرول کے مربوط نظام کے ذریعے چلتے ہیں۔ پاکستان کو بھی مرحلہ وار جدید سگنلنگ سسٹم متعارف کرانا ہوگا تاکہ ٹرینوں کی رفتار، حفاظت اور بروقت آمدورفت بہتر ہو سکے۔

اسی طرح ریلوے اسٹیشنوں کی حالت بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ بڑے شہروں کے اسٹیشنوں کو جدید ٹرانسپورٹ ہب میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جہاں مسافروں کے لیے صاف ستھرے انتظار گاہیں، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، بہتر واش رومز، کھانے پینے کی سہولت، پارکنگ اور دیگر بنیادی خدمات موجود ہوں۔ چھوٹے اسٹیشنوں کو بھی مرحلہ وار بہتر بنایا جائے تاکہ ریلوے صرف ٹرین چلانے والا ادارہ نہ رہے بلکہ مکمل سفری سہولت فراہم کرنے والا جدید ادارہ بن سکے۔

پاکستان ریلوے کی ترقی میں مال بردار ٹرینیں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں بڑی مقدار میں سامان سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس سے نہ صرف سڑکیں تباہ ہوتی ہیں بلکہ ایندھن کی درآمد پر بھی دباو¿ بڑھتا ہے۔ اگر ریلوے کو جدید فریٹ سسٹم سے جوڑا جائے تو بندرگاہوں سے صنعتی علاقوں، خشک بندرگاہوں اور بڑے تجارتی مراکز تک سامان تیزی اور کم لاگت سے پہنچایا جا سکتا ہے۔

کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے مختلف حصوں تک کنٹینر ٹرین سروس کو وسعت دی جائے۔ صنعتوں اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے مخصوص فریٹ ٹرمینلز قائم کیے جائیں۔ نجی کمپنیوں کو بھی شفاف شرائط پر فریٹ ٹرینیں چلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس سے ریلوے کو مستقل آمدنی کا ایک مضبوط ذریعہ مل سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو انجنوں اور بوگیوں کی حالت ہے۔ اگر ٹریک جدید ہو لیکن انجن اور کوچز پرانے ہوں تو رفتار اور معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔

اس لیے ریلوے کے لیے ایک طویل المدتی رولنگ اسٹاک کی تجدید کا پروگرام ضروری ہے۔ پرانے انجنوں کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے، توانائی کے مو¿ثر انجن خریدے جائیں اور مسافر کوچز کو جدید معیار کے مطابق تیار کیا جائے۔ جہاں ممکن ہو مقامی صنعت کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ نہ صرف ریلوے بہتر ہو بلکہ پاکستان میں روزگار اور صنعتی پیداوار بھی بڑھے۔پاکستان ریلوے کی زمین بھی ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ریلوے کے پاس قیمتی اراضی موجود ہے، اسے غیر قانونی قبضوں سے محفوظ بنا کر شفاف طریقے سے کمرشل استعمال میں لایا جا سکتا ہے، بڑے ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف میں کمرشل کمپلیکس، پارکنگ پلازے، ہوٹل، دفاتر اور دیگر منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیے جا سکتے ہیں، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ریلوے کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ خرچ کی جائے۔

لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان ریلوے کو سیاسی مداخلت سے نکال کر ایک پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلنے والا ادارہ بنانا ہوگا۔ریلوے کے سربراہ اور اہم انتظامی عہدوں پر تقرریاں میرٹ، تجربے اور اہلیت کی بنیاد پر ہوں۔ ادارے میں جدید مالیاتی نظام، شفاف خریداری، ڈیجیٹل نگرانی اور کارکردگی پر مبنی احتساب متعارف کرانا ہوگا۔حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ریلوے پر خرچ محض اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری ہے۔ ایک مضبوط ریلوے نظام سے سڑکوں پر ٹریفک کم ہوگی، ایندھن کی بچت ہوگی، حادثات میں کمی آئے گی، تجارت کو فروغ ملے گا، صنعتوں کی لاجسٹک لاگت کم ہوگی اور عام شہری کو سستا سفر میسر آئے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ریلوے کے لیے حکومت ایک ”قومی ریلوے ماسٹر پلان“ تیار کرے، جس میں اگلے دس سال کے اہداف واضح ہوں۔ ہر روٹ کی ترجیح، متوقع لاگت، فنڈنگ کا ذریعہ، ٹریک اپ گریڈیشن، سگنلنگ، اسٹیشنز، انجن، کوچز اور فریٹ سسٹم کے لیے الگ اہداف مقرر کیے جائیں اس منصوبے میں سیاسی حکومتوں کی تبدیلی سے بھی تسلسل متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان نے اگر اپنے ریلوے نظام کو جدید بنا لیا تو یہ صرف ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ ملکی معیشت کی رفتار بھی تیز ہوگی۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے سڑک اور ریل دونوں کو اپنی معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنایا ہے۔

ہمیں بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ریلوے کو بوجھ سمجھتے ہیں یا قومی ترقی کا انجن۔پاکستان ریلوے آج بھی ایک ایسا اثاثہ ہے جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف وژن، مستقل مزاجی، شفافیت اور سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر پرانی پٹریوں کو مرحلہ وار نئی پٹریوں سے بدلا جائے، جدید سگنلنگ اور ٹریکنگ نظام نصب کیا جائے، نئے انجن اور کوچز شامل کیے جائیں، مال برداری کو ترجیح دی جائے اور ریلوے کی زمین و دیگر اثاثوں کو دانش مندی سے استعمال کیا جائے تو پاکستان ریلوے دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ ریل کی پٹری صرف دو شہروں کو نہیں ملاتی،یہ معیشت کو منڈی سے، کسان کو خریدار سے، صنعت کو خام مال سے اور عام آدمی کو روزگار سے جوڑتی ہے۔ پاکستان کو اگر تیز رفتار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو پھرریلوے انفراسٹراکچر کو بہتر بنانا ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button