دہشتگردی کی مذمت، فلسطین کی حمایت، عالمی اصلاحات پر زور: برکس سمٹ کا اعلامیہ
نئی دہلی (ویب ڈیسک) برکس 2026ء سربراہی اجلاس کے اختتام پر 45 صفحات اور 140 نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں دہشتگردی، فلسطین اور غزہ کی صورتحال، عالمی تجارت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کے کردار سمیت متعدد اہم عالمی امور پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ بنیادی ارکان ہیں، جبکہ 2024ء میں روس کے شہر قازان میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے دوران تنظیم کی رکنیت میں توسیع کی گئی تھی۔ نئے ارکان میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا شامل ہوئے۔
اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اعلامیے میں برکس ممالک نے دہشتگردی کی ہر قسم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے کسی بھی عمل کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، خواہ وہ کہیں بھی، کسی بھی وقت اور کسی کی جانب سے کیا گیا ہو۔
اعلامیے میں 22 اپریل 2025ء کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی بھی مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشتگردی، اس کی مالی معاونت، سرحد پار دہشتگردی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا۔
برکس نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔ دہشتگردی میں ملوث افراد اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور دہشتگردی سے نمٹنے کے معاملے میں دوہرے معیار کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشتگردوں اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
برکس ممالک نے نوجوانوں میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی روک تھام، دہشتگردی کی مالی معاونت، انسانی اور اسلحہ اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، سائبر جرائم، بدعنوانی اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف باہمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
عالمی تجارت اور معاشی پابندیاں
اعلامیے میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قواعد کے منافی یکطرفہ ٹیرف، غیر ٹیرفی اقدامات اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ برکس کے مطابق ایسے اقدامات عالمی تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی عدم مساوات میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
برکس ممالک نے یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور دیگر زبردستی کے معاشی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کہا کہ ان اقدامات کے منفی اثرات غریب اور کمزور طبقات پر غیر متناسب طور پر پڑتے ہیں۔
اعلامیے میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری، ثالثی اور تنازعات کی روک تھام کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔ بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، جوہری خطرات اور ہتھیاروں کی دوڑ پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
برکس نے تخفیف اسلحہ، ہتھیاروں کے کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقوں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کی حمایت
اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
برکس ممالک نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا، جبکہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور غزہ کے جغرافیائی محل وقوع یا آبادی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف پُرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ برکس نے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے 1967ء کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
برکس ممالک نے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں، طبی مراکز اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کی مذمت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
لبنان، سوڈان اور شام
برکس نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقوں پر اس کی شرائط پر عمل درآمد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔
سوڈان میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت کی گئی۔
شام کے حوالے سے برکس ممالک نے اس کی خودمختاری اور جامع سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ
اقتصادی شعبے میں برکس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی نمائندگی، شفافیت اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کے زیادہ مؤثر کردار کی حمایت کی گئی۔
برکس ممالک نے آئی ایم ایف کے کوٹہ نظام میں اصلاحات اور عالمی بینک میں ترقی پذیر ممالک کے حصے میں اضافے کی بھی حمایت کی۔
مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی
برکس نے عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات اور ایک کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں مصنوعی ذہانت (AI) کو اقتصادی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے منسلک بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر برکس ممالک نے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔



