اسلام آباد (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے، عوام دشمن پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، جبکہ غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بھتہ ٹیکس سے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے چند ترقیاتی منصوبے دکھائے جاتے ہیں اور عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نویں جماعت کے امتحانات میں 52 فیصد بچے اور بچیاں فیل ہوگئے، تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت نے 11 ہزار اسکول فروخت کر دیے، جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں نے زراعت کو بھی تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کب تک حکمرانوں کا ہر ظلم برداشت کرتے رہیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 28 روز مکمل ہو چکے ہیں اور 20 ستمبر کو تاریخی مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں اور شرکا پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو مزید منظم کریں۔



