انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

آیا صوفیہ سے بلیو مسجد تک محبت کی عالمی داستان(حصہ دوئم)

فیصل درانی

 

استنبول میں صبح کا آغاز بھی عجیب کیفیت لیے ہوتا ہے۔ باسفورس کے پانی پر سورج کی پہلی کرنیں پڑتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کے قدیم پتھر بھی صدیوں پرانی کوئی داستان سنانے لگے ہوں۔ ایک طرف آیا صوفیہ کا شاندار گنبد تاریخ کے کئی ادوار کا گواہ بن کر کھڑا ہے اور دوسری طرف بلیو مسجد کے بلند مینار آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان دونوں تاریخی عمارتوں کے درمیان دنیا بھر سے آنے والے انسانوں کا ایک ایسا ہجوم نظر آتا ہے جس میں زبانیں مختلف ہیں رنگ مختلف ہیں لباس مختلف ہیں مگر دلوں کے جذبات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے ہیں۔

اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ میں یہاں آنے والے مختلف ممالک کے لوگوں سے بات کروں ان کے تاثرات جانوں اور یہ سمجھنے کی کوشش کروں کہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جب انسان استنبول پہنچتا ہے تو اس کے دل میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔.

آیا صوفیہ کے سامنے کھڑے سیالکوٹ پاکستان سے آئے ہوئے ایک سیاح محمد سلیم سے جب میں نے پوچھا کہ استنبول نے اسے سب سے زیادہ کیا دیا تو اس نے کچھ دیر عمارت کو دیکھا مسکرایا اور کہا کہ "یہ شہر مجھے یہ احساس دیتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی اسے محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس ایک جملے میں شاید استنبول کی پوری روح سمٹ آئی تھی۔ کسی کیلیے آیا صوفیہ فن تعمیر کا شاہکار تھی کسی کے لیے تاریخ کا زندہ باب جبکہ کسی کے لیے مختلف تہذیبوں کے ملنے کی علامت۔ لیکن تقریباً ہرشخص کے لہجے میں ایک ہی چیز نمایاں تھی محبت محبت اور صرف محبت۔

بلیو مسجد کے قریب میری ملاقات پیرس فرانس سے آئے ہوئے ایک ایسے خاندان سے ہوئی جو دور دراز ملک سے یہاں آیا تھا جنکے بچے خوشی سے اردگرد کی خوبصورتی دیکھ دیکھ کر خوشی کے جشن منا رہے تھے تو دوسری طرف ان کے والدین انہیں اس تاریخی مقام کے بارے میں بتا رہے تھے۔ ان کے چہروں پر سفر کی تھکن ضرور تھی مگر اس سے کہیں زیادہ خوشی تھی۔

خاتون نے کہنا تھا کہ ہم نے استنبول کو تصویروں میں بہت دیکھا تھا لیکن حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ یہاں آ کر ہمیں لگتا ہے کہ دنیا بہت بڑی ہے مگر انسانوں کے جذبات ایک جیسے ہیں۔

یہ بات میرے ذہن میں دیر تک گونجتی رہی۔ واقعی سفر انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ ہم اپنے اپنے ملکوں میں رہتے ہوئے سرحدوں قومیتوں اور زبانوں کے فرق کو بہت بڑا سمجھتے ہیں مگر جب مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی تاریخی مقام پر جمع ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشی محبت احترام اور امن کی خواہش کسی ایک قوم کی میراث نہیں۔

برازیل سے ائے ہوئے ایک نوجوان سیاح البرٹ نے بتایا کہ وہ پہلی بار ترکی آیا ہے اور یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ میں یہاں ایک سیاح بن کر آیا تھا لیکن مجھے ایسامحسوس ہوا جیسے میں کسی اپنے ہی شہر میں آیا ہوں۔ شاید کسی شہر کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ اجنبی کو بھی اپنائیت کا احساس دے۔ آیا صوفیہ اور بلیو مسجد کے درمیان کھڑے ہو کر مجھے یہ منظر کسی خوبصورت علامت سے کم نہیں لگا۔

ایک طرف صدیوں کی تاریخ تھی تودوسری طرف آج کی دنیا۔ ایک طرف مختلف تہذیبوں کی یادیں تھیں تو دوسری طرف مختلف ملکوں سے آئے ہوئے انسان۔ اور ان سب کے درمیان ایک مشترکہ احساس تھا ایک دوسرے کو جاننے سمجھنے اور قریب آنے کی خواہش۔

میں نے کئی لوگوں سے گفتگو کی کسی نے استنبول کی خوبصورتی کو سراہا کسی نے ترک لوگوں کی مہمان نوازی کو یاد رکھا کسی نے یہاں کی ثقافتی رنگا رنگی کی تعریف کی تو کسی نے کہا کہ اس شہر میں آ کر اسے دنیا کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے کا موقع ملا۔

پاکستان سےآئے ہوئے ایک بہت بڑے ادارے کے چیف ایگزیکٹو جو اپنی زوجہ کے ساتھ سیر کرنے ائے تھے نے شاعرانہ اور نہایت سادہ مگر گہری بات کہی کہ ہم سب مختلف راستوں سے یہاں پہنچے ہیں لیکن جب ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھتے ہیں تو آسمان سب کے لیے ایک ہی ہے۔ یہ جملہ شاید اس پورے سفر کا سب سے خوبصورت خلاصہ تھا۔

استنبول مجھے ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر یاد رہے گا جہاں مشرق اور مغرب صرف جغرافیے میں نہیں ملتے بلکہ دل بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ باسفورس کے کنارے کھڑے ہو کر جب میں نے مختلف ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر بناتے مسکراتے اور اپنے تجربات بانٹتے دیکھا تو محسوس ہوا کہ دنیا میں نفرت کے شور سے کہیں زیادہ محبت کی خاموش طاقت موجود ہے۔
آیا صوفیہ اور بلیو مسجد شاید آنے والی صدیوں تک اسی طرح کھڑی رہیں گی۔ سیاح آتے رہیں گے تصویریں بناتے رہیں گے اور واپس اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے۔

لیکن شاید ان کے دلوں میں استنبول کی ایک چھوٹی سی تصویر ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ تصویر جس میں ایک تاریخی شہر باسفورس ہے۔ دو عظیم عمارتیں ہیں اور ان کے درمیان مختلف ملکوں سے آئے ہوئے بے شمار انسان ہیں۔ زبانیں الگ کہانیاں الگ منزلیں الگ مگر دل؟
دل سب کے ایک جیسے اور شاید یہی استنبول کا سب سے خوبصورت پیغام ہے کہ دنیا کتنی ہی تقسیم کیوں نہ ہو محبت آج بھی وہ زبان ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button