ترقی کے دعوے، غربت کی تلخ حقیقت اور عوام کی سسکیاں
نزاکت عباس نقوی

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملکی معیشت میں بہتری، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے دعوے اپنی جگہ، مگر ایک بنیادی سوال آج بھی جواب طلب ہے: اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو اس ترقی کے ثمرات عام آدمی کے دسترخوان تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ غریب کے گھر کا چولہا آج بھی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟ معاشی بہتری کے سرکاری دعووں اور عوام کی روزمرہ زندگی کے درمیان موجود خلیج آخر کب ختم ہوگی؟
یہ سوال محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی، ضروریات اور مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔
عالمی بینک کی غربت سے متعلق رپورٹیں پاکستان میں معاشی ناہمواری اور عوام کی مشکلات کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے کہ عالمی بینک کے مختلف پیمانوں کے تحت غربت کی شرح مختلف ہے۔ اکتوبر 2025ء کی رپورٹ میں نچلی متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے مقرر کردہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میں مالی سال 2025/26ء کے دوران غربت کی شرح تقریباً 25 فیصد تخمینہ کی گئی، جبکہ یہ شرح گزشتہ مالی سال میں 27 فیصد تھی۔ یہ اعدادوشمار عالمی معیار کے تحت ہیں، پاکستان کی قومی غربت کی شرح نہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔
یہ اعدادوشمار محض کاغذوں پر درج ہندسے نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی معاشی حالت کی عکاسی کرتے ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی، محدود آمدنی اور روزگار کے ناکافی مواقع نے عام شہری کی زندگی کو مسلسل آزمائش بنا رکھا ہے۔
حکومت برآمدات میں اضافے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم اور معاشی اشاریوں میں بہتری کو کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان معاشی کامیابیوں کا فائدہ عام شہری کو کس حد تک پہنچ رہا ہے؟ بجلی اور گیس کے بھاری بل، ادویات کی قیمتیں، اشیائے خورونوش کے بڑھتے اخراجات اور روزگار کی غیر یقینی صورت حال نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقوں کے لیے زندگی کا پہیہ چلانا مشکل بنا دیا ہے۔
دن بھر محنت کرنے والا مزدور اگر اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، سفید پوش شہری اپنی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے گھر چلانے میں مشکلات محسوس کرے اور تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے دربدر ہو تو معاشی ترقی کے دعووں کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ معیشت کے چند اشاریے بہتر ہوئے ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس بہتری سے عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
معاشی استحکام کا حقیقی پیمانہ صرف شرحِ نمو، سرکاری اعلانات یا مالیاتی اعدادوشمار نہیں ہوتے۔ اس کا اصل معیار عوام کی قوتِ خرید، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولتوں تک رسائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر ایک خاندان کی آمدنی اس کے ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو تو معاشی بہتری کے ثمرات اس خاندان تک پہنچنے کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے۔
حقیقی ترقی وہ ہے جو غریب کے دسترخوان پر نظر آئے، مزدور کی اجرت میں اس کی ضروریات کے مطابق بہتری لائے، مریض کو قابلِ برداشت قیمت پر دوا مہیا کرے اور نوجوان کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ ترقی کا مقصد محض معاشی اعدادوشمار کو بہتر بنانا نہیں بلکہ انسانی زندگی میں آسودگی، تحفظ اور امید پیدا کرنا بھی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی پالیسیوں کا جائزہ عوامی زندگی پر ان کے حقیقی اثرات کی بنیاد پر لے۔ کم آمدنی والے طبقات کو مہنگائی کے دباؤ سے تحفظ دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنا اور آمدنی و اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانے کے لیے مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات ناگزیر ہیں۔
آخر میں وزیراعظم شہباز شریف اور اربابِ اختیار سے ایک بنیادی سوال ہے: اگر ملک معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے تو اس سفر میں عام پاکستانی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کیا ٹھوس تبدیلیاں آئی ہیں؟ کتنے خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول آسان ہوا؟ کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا؟ اور کتنے گھرانوں کو علاج، تعلیم اور بنیادی ضروریات کے اخراجات کے بوجھ سے حقیقی ریلیف حاصل ہوا؟
یاد رکھیے، کسی ملک کی ترقی کا فیصلہ صرف حکمرانوں کے دعووں سے نہیں ہوتا۔ ترقی اس وقت حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچتی ہے جب غریب کے گھر کا چولہا جلتا رہے، مزدور اپنی محنت کا مناسب معاوضہ پائے، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں اور عام شہری عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔قوم کو صرف ترقی کے قصے نہیں، اپنی زندگی میں ترقی کے آثار بھی دکھائی دینے چاہییں۔



