پاکستانتازہ ترین

سہیل آفریدی، جنید اکبر ،بابر سلیم گرفتار، گنڈا پور نظربند: گورنر راج عوامی مینڈیٹ پر حملہ، وفاق فیصلہ واپس لے : پی ٹی آئی

پشاور، صوابی، اسلام آباد (وی او این ) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی،سینئر پی ٹی آئی رہنماجنید اکبر اور سپیکر کے پی اسمبلی بابرسلیم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتوں پر پابندی کر دی گئی ہے۔ وزیراعلی ہائوس میں کسی کو بھی اجازت نہیں، جبکہ وزیراعلی ٰ ہائوس کا سٹاف بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بھی کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، جنید اکبر سمیت دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں اب آپ کی باری ہے، میں پشاور میں موجود ہوں، نکلو پشاور کی عوام اپنے محبوب لیڈر عمران خان کے لیے، اس کے سپاہی کے لیے، سب گھروں سے نکلو، خیبر کے عوام پشاور کا رخ کریں، آپ کی تعداد جہاں بڑ ھ جائے گی میں وہاں موجود ہوں گا۔ جنوبی اضلاع بشمول کرک کے عوام نیشنل ہائی وے بند کر دیں۔ ادھر گرفتار سے قبل خیبر پختونخوا کی بدلتی سیاسی صورتحال پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا موقف سامنے آگیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ وزیراعلی نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکیہ کی مثال دینا بھول جائیں گے۔ اس کے علاوہ سہیل خان آفریدی نے تمام متعلقہ سرکاری افسروں کو ہدایت کی کہ آئینِ پاکستان 1973ء کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کو پُرامن اجتماع، آزادی اظہار اور نقل و حرکت کے آئینی حقوق کے استعمال میں کسی غیرقانونی یا غیرآئینی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام سرکاری افسر اپنے فرائض آئین، قانون اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔
کسی بھی افسر کو کسی بیرونی دبائو، اثر و رسوخ یا غیر متعلقہ ہدایات کے تحت کام نہیں کرنا چاہیے۔ ادھر سابق وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کو گھر میں نظربند کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر سردار علی امین خان گنڈاپور کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی جانب سے اپنے گھر میں نظر بند کر کے رہائشگاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقے میں بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ موقف سامنے آنے کا انتظار ہے۔
اس حوالے سے علی امین خان گنڈاپور نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا ہے کہ پولیس نے گھر میں نظربند کردیا ہے یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے، اس سب سے ڈرنے والے نہیں، جدوجہد جاری رہے گی۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ضلع صوابی میں پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ شروع کردی ہیں۔ آخری اطلاعات تک پولیس نے 59کارکنوں کو گرفتار کر لیا، پیر کو صوابی میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پونے والا تھا جو صوبے میں ایمرجنسی کے نافذ کی وجہ سے نہیں ہو سکے گا۔ اطلاعات کے مطابق جہانگیرہ پل، پشاور اسلام آباد موٹر وے پر دریائے سندھ پل اور دیگر مقامات پر کنٹینر پہنچا دیئے گئے ہیں، تاہم سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنمائوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دو تہائی اکثریت سے قائم صوبائی حکومت کے خلاف ایسے اقدامات سے امن قائم نہیں ہوگا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے۔
رہنمائوں نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کو عدالتوں سمیت ہر متعلقہ فورم پر چیلنج کیا جائے گا۔ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کا آئین وفاق کی تمام اکائیوں کو متحد رکھنے کی بنیاد ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے اور عوامی اعتماد کے بغیر کوئی اقدام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی چار سے ساڑھے چار کروڑ کے درمیان ہے، جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے اقدامات سے امن قائم نہیں ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ ان کے بقول صوبے میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کے خلاف ایسے اقدامات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے آٹھ ارکان قومی اسمبلی زیرِ حراست ہیں اور پارٹی کو عدالتوں سے بھی ریلیف نہیں ملا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مداخلت سے صوبے کی آئینی حیثیت اور حکومتی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اہم اجلاسوں میں وزیراعلیٰ کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس فیصلے کے خلاف عدالتوں سمیت تمام متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور عوامی حمایت ماضی، حال اور مستقبل میں پارٹی کے ساتھ رہے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے فیصلے کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پر دہشتگردی سے متعلق الزامات اس وقت کیوں لگائے جا رہے ہیں جب پارٹی اپنے بانی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف ایک محب وطن جماعت کی حیثیت سے کھڑی ہے اور اس پر افغانستان کے ساتھ مل کر حکومت چلانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اقدامات کیے اور ان کا لانگ مارچ مکمل طور پر پْرامن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی سیاسی مزاحمت جاری رکھے گی اور پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اپوزیشن رہنمائوں نے مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مزید برآں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جا سکتا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاق انا کو جانے دے، زمینی حقائق کو سمجھے، صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیرجمہوری اقدام ہے، عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ مزید برآں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی وفاقیت پر حملہ ہے، آئینی مذاکرات کے بجائے سیاسی تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کا جمہوری مینڈیٹ سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ اعلامیے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام اور منتخب قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
پارٹی نے دونوں رہنمائوں کی گرفتاریوں کی قانونی وجوہات اور الزامات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اعلامیے میں سہیل آفریدی، جنید اکبر اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ غیر معمولی آئینی اختیارات سیاسی انتقام یا جمہوری اداروں کو بائی پاس کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مکمل آئینی اور قانونی وجوہات سامنے لانے اور وفاقی حکومت سے واضح کرنے کا مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ کن قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ملکی سلامتی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، وفاق اور صوبے کے اختلافات آئینی طریقہ کار اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں جبکہ پارلیمنٹ اور آئینی ادارے جمہوری حکومت، صوبائی خودمختاری اور آئین کی بالادستی کا تحفظ کریں۔
مزید برآں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مزاحمت جاری رہے گی اور عوام کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ 25کروڑ پاکستانیوں میں سے اگر صرف دو سے چار فیصد لوگ بھی اپنے گھروں کی دہلیز پر آ جائیں تو یہ نظام پاش پاش ہو جائے گا۔ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ ادھر تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت نے عمران خان کے نام پر اور پختونوں کے سر کا سودا نہیں کیا، اور حکومت قربان کر دی ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کے گرفتار کر لیا گیا۔ اب عوام کو نکلنا ہو گا۔ پورا خیبر پختونخوا پشاور کے طرف آئے۔ اس موقع پر قبائلی اضلاع کے عوام پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، قبائل کو اپنے وزیر اعلیٰ کے لیے نکلنا ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button