لاہور (بیورو چیف) لارڈز ٹیسٹ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم سے ریلیز ہونے والے کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے روبرو پیش ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر محمد رضوان گزشتہ روز دوپہر 3 بجے این سی سی آئی اے کے جوہر ٹاؤن تھانے میں پیش ہوئے، جبکہ امام الحق بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے حکام نے دونوں کرکٹرز سے تقریباً 2 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ اس دوران انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق سوالات کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں پریکٹس سیشنز اور میچز کے دوران مختلف افراد سے ہونے والے رابطوں اور ملاقاتوں کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان اور امام الحق نے بعض سوالات کے جوابات دینے کے لیے مزید وقت طلب کیا ہے۔
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز کے موبائل فون بھی ان لاک کرائے جائیں گے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق مزید تفتیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیے تھے تاکہ معاملے کی تحقیقات آگے بڑھائی جاسکیں۔
اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
واضح رہے کہ مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی کھلاڑی کے خلاف الزام کو حتمی ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔



