انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

وہ چراغ جو بجھ کر بھی روشنی دے گیا

محمد محسن اقبال

  کچھ اموات ایک زندگی کا اختتام بن جاتی ہیں، اور کچھ ایسی کہ جو ایک زندگی کو ہمیشہ کے لیے ذمہ داری میں ڈھال دیتی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات 11 ستمبر 1948ء اسی دوسری قسم کی تھی۔ برصغیر کے عظیم رہنما، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور مملکت کے معمارِ اعظم کی رحلت پر پاکستان نے محض اپنا پہلا حکمران نہیں کھویا، بلکہ اس مردِ آہن کو کھو دیا جس کی بصیرت، عزم اور سیاسی تدبر نے ایک ناممکن خواب کو حقیقت بنایا تھا۔ مگر قائد کی رحلت ان کے مشن کا اختتام نہیں تھی؛ وہ مشن آنے والی نسلوں کے سپرد ہوگیا۔  ہر انسان کے دل میں اپنے گھر کا خواب بسا ہوتا ہے۔ گھر محض اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں؛ شناخت کا حصار، محبت کی پناہ گاہ، عزت کا مسکن اور مستقبل کی امید ہوتا ہے۔ ایک باپ اپنی زندگی اس گھر کی تعمیر میں کھپا دیتا ہے، آسائشیں قربان کرتا ہے اور اولاد کے لیے ایک ایسا آشیانہ چھوڑنا چاہتا ہے جہاں نسلیں سکون اور وقار سے زندگی بسر کرسکیں۔ وہ شاید ہر کمرے کی تکمیل نہ دیکھ پائے، مگر بنیاد، دیواریں اور نقشہ چھوڑ جاتا ہے۔  پاکستان بھی ایسا ہی ایک گھر ہے۔ قائداعظم اس کے معمار تھے اور ہم اس کے وارث ہیں۔ انہوں نے پاکستان ورثے میں حاصل نہیں کیا؛ انہوں نے اسے تخلیق کیا۔ تیار شدہ مملکت سنبھالنے کے بجائے پہلے اس کے وجود کے لیے جدوجہد کی، پیدائش ممکن بنائی اور گرتی ہوئی صحت کے باوجود ابتدائی نازک دور سنبھالا۔

  14 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والا پاکستان آسائشوں کی گود میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ تاریخ کی بھٹی سے نکل کر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس کی پیدائش کے ساتھ عظیم انسانی ہجرت کا المیہ جڑا تھا۔ لاکھوں انسان آبائی گھر، کھیت، کاروبار اور یادیں چھوڑ کر نئی سرحدوں کی طرف روانہ ہوئے۔ خاندان بچھڑ گئے، جانیں قربان ہوئیں اور لاکھوں مہاجر نئی مملکت میں عزت، تحفظ اور شناخت کی امید لے کر داخل ہوئے۔ آزادی کے جشن کے پیچھے انسانی دکھوں کا سمندر تھا۔ نئی ریاست کے پاس بقا کے لیے درکار انتظامی، معاشی اور ادارہ جاتی قوت پوری طرح موجود نہ تھی۔ وسائل محدود تھے، صنعتی ڈھانچہ ناکافی تھا اور لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری فوری توجہ مانگتی تھی۔  اسی نوزائیدہ پاکستان پر قائداعظم نے گورنر جنرل کی ذمہ داری سنبھالی۔ معمار نے ابھی بنیاد رکھی ہی تھی کہ پوری عمارت کی نگرانی کا مطالبہ کر دیا گیا۔

 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح ایک ایسے وکیل اور مدبر کے طور پر ابھرے جن کی شخصیت ذہانت، نظم و ضبط، اصول پسندی اور خود اعتمادی کا امتزاج تھی۔ وہ چاہتے تو آسودہ زندگی گزار سکتے تھے، مگر تاریخ نے انہیں دشوار راستے کے لیے منتخب کرلیا۔  انہوں نے سیاست میں قدم اس یقین کے ساتھ رکھا کہ آئینی جدوجہد، قانون کی بالادستی اور دلیل کے ذریعے حقوق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ رولٹ ایکٹ کی مخالفت ان کے اصولی کردار کا مظہر تھی۔ وہ نعروں کے نہیں، دلیل کے سیاست دان تھے۔ جذبات کے بجائے شعور، انتشار کے بجائے تنظیم اور وقتی مقبولیت کے بجائے اصول کو ترجیح دیتے تھے۔ جب فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور آئینی ضمانتوں کے امکانات محدود ہوئے تو جناح اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور شناخت کے لیے الگ سیاسی بندوبست ضروری ہے۔  علامہ اقبال نے مسلمانوں کے سیاسی تشخص کو فکری زبان دی؛ جناح نے اس خواب کو سیاسی نقشہ عطا کیا۔ خیال کو مملکت بنانے کے لیے ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو سمجھوتہ آسان لگے تب بھی ثابت قدم رہے، جذبات کے طوفان میں نظم و ضبط برقرار رکھے اور کامیابی دور دکھائی دے تب بھی سفر جاری رکھے۔ قائداعظم میں یہ وصف بدرجۂ اتم موجود تھا۔ وہ تنہا کھڑے ہوسکتے تھے مگر قوم سے الگ نہیں ہوئے۔ مذاکرات کرتے مگر اصولوں سے دستبردار نہیں ہوتے۔ طریقہ کار میں لچک پیدا کرسکتے تھے مگر مقصد پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔

  23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور فیصلہ کن سنگِ میل تھی۔ مسلم لیگ مؤثر سیاسی قوت بن چکی تھی اور الگ وطن کا مطالبہ منظم تحریک بن گیا۔ مذاکرات، کشمکش اور دباؤ کے باوجود عزم قائم رہا۔ قائداعظم کا خطاب محض اعزازی لقب نہیں، جدوجہد کی کمائی ہوئی سند تھا۔ آزادی کے بعد سب سے حیرت انگیز باب شروع ہوا۔ کئی دہائیاں جدوجہد میں گزارنے والے رہنما کو اب ثابت کرنا تھا کہ نوزائیدہ ریاست زندہ رہ سکتی ہے۔  وہ سمجھ گئے تھے کہ سیاسی آزادی قومی طاقت اور دفاع کے بغیر کمزور رہتی ہے۔ فوجی اثاثوں کی تقسیم، کشمیر تنازعہ، معاشی دباؤ اور غیر یقینی تعلقات موجود تھے۔ قائداعظم نے ان مسائل کا سامنا حقیقت پسندی سے کیا۔ وہ امن چاہتے تھے مگر کمزوری کے ذریعے نہیں؛ دوستی چاہتے تھے مگر خودمختاری کی قیمت پر نہیں۔ ان کی فکر کا خلاصہ یہ تھا: "امن طاقت کا محتاج ہے، مگر طاقت اصولوں کی پابند ہونی چاہیے”۔

  ان کا تصورِ پاکستان صرف دفاع تک محدود نہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قوم کی سلامتی اداروں، معیشت، تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور قومی کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ قانون کی حکمرانی، شہریوں کا وقار، منصب کو امانت سمجھنا، میرٹ اور دیانت ریاستی نظم کی بنیاد بنانا چاہتے تھے۔ 11 اگست 1947ء کا دستور ساز اسمبلی سے خطاب ان کے تصورِ شہریت کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ مساوی شہریت، مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر زور اس بات کی علامت تھا کہ وہ ایسا نظام چاہتے تھے جہاں شہری کو عزت، تحفظ اور برابری حاصل ہو۔ مختلف شناختیں مشترکہ قومی شناخت کے سائے میں زندہ رہ سکیں، ریاست حقوق کی محافظ ہو اور قانون سب کے لیے ایک معیار رکھتا ہو۔  یہی وہ مقام ہے جہاں قائداعظم کی برسی محض تاریخی یاد نہیں، قومی احتساب کا آئینہ بن جاتی ہے۔

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیےکہ کیا ہم نے وہ گھر اسی نقشے کے مطابق تعمیر کیا جس کا خواب قائد نے دیکھا تھا؟ کیا ہم نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو قومی زندگی کا حصہ بنایا یا صرف تقریروں تک محدود کر دیا؟ کیا ہم نے آئینی اداروں کا احترام کیا؟ کیا دیانت داری عزت کی علامت ہے؟ کیا غریب شہری قانون کے سامنے طاقتور کی طرح اعتماد سے کھڑا ہوسکتا ہے؟ کیا ہم نے تعلیم، سائنس اور صنعت میں اتنی سرمایہ کاری کی کہ معاشی خود انحصاری حاصل ہو؟ کیا سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ اختلافات نے مشترکہ شناخت کو کمزور تو نہیں کیا؟  یہ سوالات تلخ مگر ضروری ہیں۔ جو قوم احتساب نہیں کرسکتی، اصلاح بھی نہیں کرسکتی۔ پاکستان نے عدم استحکام، بحران، جنگیں، دہشت گردی اور آفات جھیلیں مگر زندہ رہا۔ پاکستانی قوم نے ہر مشکل میں حوصلہ پیدا کیا۔ اس لیے پاکستان کی داستان صرف ناکامیوں کی فہرست نہیں؛ یہ نامکمل خواب ہے۔ ناکام اور نامکمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نامکمل گھر مکمل ہوسکتا ہے، کمزور ادارے مضبوط ہوسکتے ہیں، معیشت سنبھل سکتی ہے اور تقسیم شدہ معاشرہ اتحاد کی طرف لوٹ سکتا ہے۔

  اس کے لیے محض امید کافی نہیں؛ کردار درکار ہے۔ آج کی نوجوان نسل اس تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے قیامِ پاکستان کا زمانہ نہیں دیکھا مگر وہ پاکستان ورثے میں ملا ہے جس کے لیے ایک نسل نے سب کچھ قربان کیا۔ ان کی ذمہ داری غیر معمولی ہے۔ حب الوطنی محض نعرہ نہیں؛ طرزِ عمل ہے۔ ایمانداری سے تعلیم، محنت، قانون کی پاسداری، ٹیکس ادا کرنا، قومی املاک کی حفاظت، بدعنوانی سے انکار، حقوق کا احترام اور قومی مفاد کو ترجیح دینا بھی حب الوطنی ہے۔  مستقبل کا پاکستان تقریروں سے نہیں؛ کلاس رومز، لیبارٹریوں، کھیتوں، کارخانوں، عدالتوں، ہسپتالوں اور گھروں میں تعمیر ہوگا۔ وہ نوجوان کاروباری، سائنس دان، استاد، دیانت دار افسر، قومی مفاد کو ترجیح دینے والے قانون ساز اور فرض ادا کرنے والے عام شہری کے ہاتھوں بنے گا۔ قومیں اسی طرح عظیم بنتی ہیں۔

قائداعظم کا سب سے بڑا مزار سنگِ مرمر کی عمارت نہیں؛ خود پاکستان ہے۔ ہر دیانت دار اینٹ اسے مضبوط کرتی ہے، ہر قربانی حفاظت کرتی ہے، ہر دریافت آگے لے جاتی ہے۔ ہر بدعنوانی دراڑ ڈالتی ہے، ہر تعصب دیوار کمزور کرتا ہے۔ یہ گھر اب ہمارا ہے۔ برسی صرف سوگ کا دن نہیں، احتساب کا دن بھی ہے۔ ہمیں قائد کو صرف یاد نہیں کرنا؛ اصولوں کو زندہ کرنا ہے۔ اختلاف چاہیے مگر دشمنی نہیں؛ مضبوط ادارے مگر تصادم نہیں؛ دفاع مگر جارحیت نہیں؛ ترقی مگر انصاف کی قیمت پر نہیں؛ ایمان مگر عدم برداشت کے بغیر؛ جمہوریت مگر انتشار کے بغیر۔ اور حب الوطنی جس میں پاکستان ذاتی مفاد سے بلند ہو۔  آخری ایام میں صحت گرتی رہی مگر کام کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ وہ جانتے تھے کہ بنیاد رکھ دی گئی ہے اور آنے والی نسلوں کو عمارت مکمل کرنی ہے۔ انہوں نے صرف ہدایات نہیں؛ اپنی زندگی بطور مثال چھوڑی۔ ایک فرد یقین، ذہانت، نظم و ضبط اور کردار سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ قومیں رہنماؤں کی زندگی سے نہیں، ان اصولوں سے زندہ رہتی ہیں جن پر وہ قائم ہوتی ہیں۔

  آج بھی پاکستان قائم ہے۔ اسے قائداعظم کے خواب کے قابل نئی نسل کی ضرورت ہے۔ وارثوں کو اب محافظ بننا ہوگا۔ دراڑیں بھرنی ہیں مگر بنیادیں کمزور کیے بغیر؛ امکانات وسیع کرنے ہیں مگر شناخت مٹائے بغیر؛ ادارے جدید بنانے ہیں مگر اصول فراموش کیے بغیر؛ معیشت مضبوط کرنی ہے مگر محروم طبقات کو پیچھے چھوڑے بغیر۔ خودمختاری کا دفاع اور وقار کے ساتھ امن کی کوشش جاری رکھنی ہے۔ مشکلات اس جذبے سے بڑی نہیں ہوسکتیں جس نے پاکستان جنم دیا۔  اگر قائداعظم آج ہوتے تو کیا وہ اس پاکستان کو پہچان پاتے جو ہم نے تعمیر کیا؟ اگر جواب مکمل طور پر ہمارے حق میں نہیں تو مایوسی کی ضرورت نہیں۔ ضرورت دوبارہ آغاز کی ہے۔ گھر آج بھی قائم ہے، بنیاد موجود ہے، نقشہ سامنے ہے اور مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ قائداعظم نے پاکستان کو ایسے خواب کے ساتھ وجود بخشا جو ان کی زندگی سے بڑا تھا۔ ملک کی عظمت قیام کے حالات سے نہیں، آنے والی نسلوں کے کردار سے طے ہوتی ہے۔  اللہ پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں بصیرت، حوصلہ، دیانت اور کردار نصیب کرے کہ ہم قائداعظم کی قربانیوں اور عظیم خواب کے امین ثابت ہوسکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button