یمن میں جنگ شدت اختیار کرگئی، حوثیوں کا موخا اور جزیرہ زُقَر پر قبضے کا دعویٰ
باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی، لڑائی میں 500 ہلاکتوں کی اطلاعات، یمنی حکومت نے نئی لڑائی کو کھلی جنگ قرار دے دیا

صنعا، اسلام آباد (ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں حوثی جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے، جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا اور اہم جزیرے زُقَر کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ لڑائی میں اب تک تقریباً 500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
یمنی حکومت نے نئی لڑائی کو کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد چار سالہ غیر رسمی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ملک کے تمام علاقوں پر ریاستی کنٹرول بحال کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یمنی حکومت کے تین ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرلیا ہے۔ باب المندب کے قریب واقع موخا پر کنٹرول حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم تزویراتی فائدہ فراہم کرسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حوثی تاریخی بندرگاہ موخا، ذباب اور باب المندب سے متصل دیگر ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حوثیوں کے پاس پہلے ہی یمن کے گنجان آباد شمالی علاقوں کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول موجود ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع اہم جزیرے زُقَر پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جزیرے پر قبضے کے دوران حوثی جنگجوؤں اور یمنی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں راکٹ حملوں کے علاوہ دوبدو لڑائی بھی ہوئی۔
ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو کشتیوں کے ذریعے جزیرے تک پہنچے، جہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ خونریز جھڑپ ہوئی۔ لڑائی میں جانی نقصان کے حوالے سے فریقین کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے تمام تفصیلات کی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
زُقَر جزیرہ بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا محل وقوع بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے اطراف بحری نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع اہم سمندری گزرگاہ ہے، جو یمن کو افریقہ کے ساحلی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔ خلیجی ممالک سے یورپ جانے والے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی فریق نے باب المندب پر مؤثر کنٹرول حاصل کرلیا تو اس کے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات
دوسری جانب حوثی خبر رساں ایجنسی صبا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے یمن کے صوبوں تعز، حدیدہ، الجوف اور مارب میں تقریباً 40 فضائی حملے کیے۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کے خلاف ان کی کارروائیوں کے بعد کیے گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ ترجمان کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یمنی وزیر دفاع کے قافلے پر حملے کی اطلاعات
یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے محافظوں کو حراست میں لیے جانے جبکہ وزیر دفاع کے محصور ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق بھی متضاد اطلاعات گردش کررہی ہیں، تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب حوثیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جہاں متعدد حوثی کمانڈروں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایس ٹی سی کا لڑائی میں فریق نہ بننے کا اعلان
یمن کی علیحدگی پسند مسلح تنظیم ساؤدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی کا حصہ نہیں بنے گی۔
ایس ٹی سی سے منسلک فورسز پہلے ہی الضالع اور لحج صوبوں کے جنوبی محاذ پر حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور آبنائے باب المندب و بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بدستور پرعزم ہے۔
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باب المندب کے گرد عسکری صورتحال میں تبدیلی کو محض یمن کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ باب المندب کو لاحق کوئی بھی خطرہ براہ راست بحیرہ احمر، نہر سویز اور عالمی تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
ادھر پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ دفاعی اتحاد ہے اور فی الحال اسے مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون بھی جاری ہے جبکہ سعودی عرب میں پاکستانی فورسز تربیت اور لاجسٹک مقاصد کے لیے موجود ہیں۔
سجاد حیدر خان کے مطابق دفاعی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا اور پاکستان و سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے مزید پہلو وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے حوثی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
پاکستان کا کشمیر اور افغانستان سے متعلق مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے اور بھارتی دعوؤں اور ہتھکنڈوں سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
افغان طلبہ سے متعلق ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان نے تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق قانونی ویزا رکھنے والے افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم ایسے افراد جو کسی یونیورسٹی میں داخل نہیں اور ان کے پاس ویزا بھی موجود نہیں، ان کے معاملے میں ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
افغانستان کے حوالے سے سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا دشمن نہیں، تاہم موجودہ افغان حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو سمجھ نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو دہشتگردی کے مسئلے سے الگ دیکھتا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان سمیت عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی بیانات اور تجاویز مسترد کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔



