پاکستانتازہ ترین

نئے صوبوں کے مخالفین میں کچھ پاکستان کو نہیں مانتے: مصطفیٰ کمال

کراچی (ویب ڈیسک) وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جو پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ کچھ لوگ اپنے مفادات کے باعث نئے صوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبوں کو کوئی بھی نام دیا جائے، بنیادی معاملہ انتظامی اکائیوں کے قیام کا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، تاہم وہ اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

مصطفیٰ کمال نے سندھ میں بنیادی شہری سہولیات کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بچے گٹروں میں گر کر جان سے جا رہے ہیں اور اندرون سندھ بھی عوام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، حتیٰ کہ بعض علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی بھی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو سندھی اور مہاجر کے تعصب میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول سندھ میں رہنے والے تمام لوگ ایک دوسرے کے بھائی بہن ہیں اور ایم کیو ایم پاکستان کسی بھی سندھی کے خلاف نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ صوبوں کی تقسیم کی گنجائش ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بننے والے آئین میں بھی موجود ہے۔ انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ اختیارات ملے، تاہم ان کے مطابق عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کو تقسیم نہیں بلکہ دوبارہ جوڑنے کی بات کر رہی ہے اور ان کے مطابق نئے صوبے عوام کو انتظامی رسائی اور حقوق کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص نئے صوبوں کی جدوجہد کی قیادت کرے گا، وہ اس جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ماضی میں بھی کسی کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوئی اور آئندہ بھی کسی کو اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

نئے صوبوں کے معاملے پر ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں صوبے کی جغرافیائی وحدت برقرار رکھنے پر مختلف جماعتوں کے ارکان نے اتفاق کیا ہے، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو انتظامی اصلاحات سے جوڑتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button