لاہور (بیورو چیف) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ صوبوں اور اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر کھل کر بحث ہونی چاہیے، اس مقصد کے لیے اسمبلیوں، یونیورسٹیوں اور دیگر فورمز کو استعمال کیا جائے تاکہ مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اور بامعنی فیصلہ کیا جا سکے۔
36ویں سالانہ بابا بلھے شاہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ محققین کے مطابق معاشرہ جو انصاف کرتا ہے، وہ عدالت نہیں کر سکتی۔ بابا بلھے شاہؒ نے اپنے کلام کے ذریعے معاشرے کی ایسی تشریح کی جو آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم جن مشکلات کا شکار ہیں، ان پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صوبوں کا تجربہ چار بار کیا جا چکا ہے، تاہم اب جب صوبوں اور اختیارات کی تقسیم کی بات ہوتی ہے تو اسے ضلعی سطح پر فنڈز کی تقسیم تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اگر اب فنڈز کی تقسیم کا فیصلہ ہونا ہے تو ماضی کی محرومیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
نئے صوبوں اور چھوٹے یونٹس پر مکالمے کی ضرورت
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جب بھی تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں تبدیلی کے نام پر کوئی غلط قدم نہ اٹھا لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اسمبلیوں، یونیورسٹیوں سمیت تمام فورمز کو اس بحث کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی غور طلب ہے کہ کیا چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے سے واقعی بہتری آئے گی؟ اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے تاکہ کسی بھی فیصلے کے دور رس اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
سول سروس ریفارمز کے بغیر مؤثر حکمرانی ممکن نہیں
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا، بابا بلھے شاہؒ نے اس کیفیت کی نشاندہی بہت پہلے اپنے کلام میں کردی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اسمبلی چلانے کے قوانین آج بھی 18ویں صدی میں رکے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے پاس زیادہ اختیارات ہیں، جبکہ اسمبلی میں بیٹھا وزیر بے اختیار نظر آتا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں بابو کی سرداری سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں حقیقی بہتری کے لیے سول سروس ریفارمز لانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر حکمرانی کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
بابا بلھے شاہؒ کے افکار نئی نسل تک پہنچانے پر زور
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بابا بلھے شاہؒ کے افکار اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلھے شاہ یونیورسٹی کا قیام ہمارا فرض ہے تاکہ بابا بلھے شاہؒ کے علم، فکر، انسان دوستی اور معاشرتی شعور کو ایک مستقل علمی ادارے کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی آئین اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں بابا بلھے شاہؒ کے کلام کے پیغام کی جھلک نظر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ بابا بلھے شاہؒ نے صدیوں پہلے جن انسانی، سماجی اور اخلاقی اقدار کی بات کی، وہ آج بھی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔



