google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
پاکستانتازہ ترین

ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنا ضروری: ملک محمد احمد خان

پاکستان کی عالمی شناخت کا فیصلہ ہماری اپنی پالیسیوں سے ہوتا ہے، قومی یکجہتی اجتماعی صلاحیت سے مضبوط بنانا ہوگی: سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور (ویب ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کا تعین ہمارا اپنا فیصلہ اور ترجیح ہے۔ اگر ہم خود کو جنگجو ریاست کے طور پر پیش کریں گے تو دنیا میں ہماری شناخت بھی اسی بنیاد پر بنے گی، جبکہ خود کو صلح جو اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرنے سے عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بھی اسی حوالے سے قائم ہوگی۔

گورنر ہاؤس لاہور میں ’’پاکستان اور عالمی امن‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک ریاست کے کردار اور عالمی تنازعات میں پاکستان کی شمولیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سے تنازعات ہماری بقا کے لیے ناگزیر تھے اور کن معاملات کا تعلق ہماری داخلی اور خارجہ پالیسیوں سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین سے ساڑھے تین دہائیوں کے دوران دہشت گردی کا ایک خوفناک تجربہ کیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والا ملک رہا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کو سمجھنا اور موجودہ حالات کے لیے ان سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی کہیں سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اسے اپنی اجتماعی صلاحیت کے ذریعے مضبوط بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کا چاروں صوبوں میں وجود اور قومی سطح پر عوامی حمایت وفاقی سوچ اور قومی وحدت کے لیے اہم ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ انصاف اور عدل عالمی معاملات میں بھی بنیادی اصول ہونے چاہئیں اور دنیا میں جاری تنازعات کو بھی اسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔

قصور میں بجلی کے مسائل پر تشویش

دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے قصور میں بجلی کی طویل اور مبینہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط یا زائد بجلی بلوں، بجلی چوری کے مقدمات اور صارفین کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے حقوق کا تحفظ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ردعمل غصے کے بجائے عوامی مسائل کے باعث پیدا ہونے والی شدید بے چینی اور اضطراب کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے گئے تھے تو آج کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی بندش کے معاملے کا جواب بھی متعلقہ اداروں کو دینا چاہیے۔ حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپیکر نے قصور کے بجلی مسائل سے متعلق وفاقی وزیر توانائی سے بھی بات کرنے اور معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق شہریوں کی جانب سے گھروں میں مبینہ چھاپوں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی، خواتین کو ہراساں کرنے، غلط یا زائد بل جاری کرنے اور مبینہ طور پر بل درست کرنے کے عوض رقم طلب کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جن کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضرور ہونی چاہیے، تاہم کسی فرد کی مبینہ خلاف ورزی کی سزا پورے علاقے یا گاؤں کے شہریوں کو نہیں دی جانی چاہیے۔ عام صارفین کو لائن لاسز پورے کرنے کے لیے گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرانا بھی قابل قبول نہیں۔

ملک محمد احمد خان نے متعلقہ بجلی حکام پر زور دیا کہ وہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں اور زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button